Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

خطرات کے بادل

SAMAA | - Posted: Mar 6, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Mar 6, 2018 | Last Updated: 4 years ago

خطرے کی گھنٹی بج چکی، پاکستان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کب کا ہوچکا۔ مگر ہمارے ارباب اختیار ابھی تک لمبی تان کر سورہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی شیطانی چال کامیاب ہوگئی۔ بین الاقوامی طاقتیں مودی سرکار کے خمار میں جکڑ چکیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ ہمارے لئے بہت ہولناک ہے۔ اسے ہلکا نہ لیں اس فیصلے کے بڑے دور رس اور خطرناک نتائج نکلیں گے۔ گزشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوجو دھمکیاں دی تھیں وہ انہیں عملی شکل دے رہا ہے۔

دنیا کے امن کی خاطر پاکستان نے کیا کچھ نہیں کیا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں دیں اربوں روپے کا مالی نقصان اٹھایا مگر عالمی ٹھیکیدار پھر بھی انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ہماری مخلصانہ کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہےاور ہم سے مزید اقدامات کے تقاضے کئے جارہے ہیں۔ یہ ایک حربی اصول ہے کہ دشمن کو اتنا تھکا دو اتنا تھکا دو کہ اس میں مقابلے کی سکت باقی نہ بچے کیا امریکا بھارت کے ایماء پر پاکستان کے ساتھ ایسا تو نہیں کررہا؟

بھارت کے عشق میں محبت کے نغمے گانے والے لاکھ پریم کتھا چھیڑیں مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبرون تھا اور ہے۔ چالاک ہمسائے سے خیر کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ 70 برس گزرجانے کے بعد بھی پاکستان بھارت کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی محاذ پراورکسی بھی فورم پر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کرتا رہتا ہے۔ 2008 میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی خود کی مگر الزام پاکستان پر لگایا۔ یہ مکروہ چال چلنے کا مقصد کیا تھا؟ سب سے زیاد فوائد کس نے سمیٹے؟ بے باک جرمن مصنف ایلس ڈیوڈسن نے اپنی کتاب ’’ بیٹریال آف انڈیا، ری وزیٹنگ 26/11 ‘‘یں سب کچھ بتا دیا ہے۔ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے شیطانی گٹھ جوڑ نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کردیا۔

چین کے ون بیلٹ ون روڈ جیسے میگا پراجیکٹ نے خطے میں گریٹ گیم کی بنیاد رکھ دی ہے۔ چین کی ابھرتی معیشت اور سرمایہ کاری کا توسیع پسندانہ انداز امریکہ کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے عالمی ٹھیکیدار بھارت کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر شرپسند بھارت بڑی سرکار کی اس بڑی تھپکی کو اپنے لئے بڑی کامیابی سمجھ رہا ہے۔ پاکستان میں تخریب کاری ہو، سی پیک کو ناکام بنانے کی کوششیں یا دیگر ممالک میں دخل اندازی، بھارت ہرحال میں چوہدراہٹ کی پگڑی اپنے سرسجانا چاہتا ہے مگر چین اور پاکستان کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں۔

پاکستان نے ’’بیٹھک‘‘ بدلی اور چین کے زیراثر آنے لگا تو عالمی ٹھیکیدارکے ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں۔ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالا، دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگایا۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کی امداد بند کردی، عالمی سطح پر تنہا کرنے کی دھمکی دی جسے اس وقت زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا مگر ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ٹرمپ گردیاں اب عملی ہونے لگی ہیں۔ اور اس کی تازہ ترین مثال پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالنا ہے۔

گرے لسٹ میں نام آنے کے بعد پاکستان کی اقتصادی ریٹنگ کم پڑنے، مسائل اور دباؤ کا شکار ملکی معیشت مزید مشکلات کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے کمزورکرنے کیلئے امریکہ اور اس کے حواری متحرک ہوچکے ہیں، امریکہ نے نہ صرف ہماری امداد بند کردی ہے بلکہ پاکستان کو دیوار سے لگانے کیلئے اب تو وہ عالمی فورموں پر بھی زور دے رہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا اقدام پاکستان کیلئے بڑا دھچکا ہے جس سے پاکستان کے کریڈٹ اور مالی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ گزشتہ ماہ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حقانی نیٹ ورک، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن سمیت دیگر تنظمیں کالعدم قرار دی گئی ہیں مگر دنیا پھر بھی ہمارا موقف ماننے کو تیار نہیں۔ تو آخر ہم کب تک پیاز کے ساتھ ساتھ جوتے کھاتے رہیں گے؟ ملکی بڑوں نے اس منفی پروپیگنڈنے کو ناکام بنانے کیلئے کیوں سنجیدہ کوششیں نہیں کیں؟

چلیں مان لیتے ہیں اس حوالے سے کچھ اقدامات ضرور کئے گئے، دوست ممالک نے بھی تعاون کیا مگر سفارتی محاذ پر پھر بھی ہمیں منہ کی کھانا پڑی آخر وجہ کیا ہے؟ ہماری خارجہ پالیسی اتنی کمزور کیوں ہے؟ بیرونی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے گرد شکنجہ مزید سخت ہونے لگا ہے اور اندرونی صورتحال یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں۔ کسی کو نااہلی کا شکوہ ہے تو کسی کو اگلے انتخابات میں جیت کا نشہ، کوئی سینیٹ الیکشن میں غیرمتوقع جیت پر خوشی سے سرشار، تو کوئی اپنی حالت پر شرمسار۔ ہمارے سیاسی رہنماوں کو جب ایک دوسرے کے گریبانوں سے فرصت ملے تواس معاملے پر بھی سوچیں اورملک پر منڈلاتے خطرات کے بادلوں کا ادراک کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube