قصوروار ایک عہدیدار؟

Shahid Kazmi
March 5, 2018

۔۔۔۔۔** تحریر : شاہد کاظمی  **۔۔۔۔۔

پاکستان میں پولیس کے نظام کو سمجھنے کیلئے کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، یہ قصہ پولیس چوکی سے شروع ہوتا ہے اور عام طور پر پولیس چوکی کا کرتا دھرتا ایک اے ایس آئی، سب انسپکٹر یا ایس ایچ او ہوتا ہے، چوکی انچارج کا کردار صرف جرائم کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ کیونکہ اس کا تعلق، اُٹھنا بیٹھنا یونین کونسل کی سطح پر لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس لئے وہ ان کی خوشی غمی میں نہ صرف شامل ہوتا ہے بلکہ وہ مخصوص علاقے کے لوگوں کو ذاتی طور پر جاننا شروع کر دیتا ہے اور بسا اوقات چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں میں بطور مصالحت کار کردار ادا کرتا ہے کہ معاملہ تھانے کچہری تک پہنچے بنا ہی ختم ہو جاتا ہے (یہ ذکر کسی بھی پاکستانی گاؤں کا ہے)۔

چوکی انچارج براہ راست تھانے کو جوابدہ ہوتا ہے یعنی وہ ایس ایچ او صاحب (اسٹیشن ہاؤس آفیسر) کو جوابدہ ہوتا ہے جو عمومی طور پر تھانے کے انچارج ہوتے ہیں اور ایک بڑے تھانیدار یعنی ایس ایچ او صاحب کے زیر سایہ ایک سے زیادہ پولیس چوکیاں ہوتی ہیں، بڑا علاقہ ہونے کی صورت میں چوکیوں کی تعداد کا تعین کرنا تھانیدار صاحب کی منشاء پر ہوتا ہے، وہ بوقت ضرور کہیں بھی پولیس چوکی قائم کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر راولپنڈی میں پولیس اسٹیشن یعنی تھانوں کی تعداد 40 سے زائد ہے (بشکریہ پنجاب پولیس ویب) جنہیں 11 مختلف سرکلز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر سرکل کا سربراہ ایس ڈی پی او ہے (یعنی تھانے کا انچارج براہ راست ایس ڈی پی او صاحب ’’سب ڈویژنل پولیس آفیسر‘‘ کے زیر نگرانی کام کرتا ہے یا کسی نہ کسی سطح پر انہیں جوابدہ ہے)۔ اس سے اوپر رپورٹنگ لائن ایس پی صاحب (سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) ہیں، جوابدہی کی اگلی سیڑھی میں سی پی او (سٹی پولیس آفیسر) یا ڈی پی او (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر) کو کارکردگی بتانے کے پابند ہیں اور سٹی پولیس آفیسر یا  ڈی پی او بعد پولیس میں آر پی او آجاتے ہیں، جن کے ذمہ پورا ریجن ہوتا ہے، مثال کے طور پر جس طرح راولپنڈی ریجن میں اٹک، جہلم ، چکوال اور راولپنڈی کے اضلاع شامل ہیں، آر پی او کے بعد پولیس عہدہ آئی جی یا پی پی او کا آتا ہے، جس کے ذمہ پورے صوبے میں امن و عامہ کا قیام یقینی بنانا ہوتا ہے، اس کے علاوہ نچلی سطح پر کانسٹیبلز و ہیڈ کانسٹیبلز کی ایک فوج ظفر موج ہے جو اپنے اعلیٰ افسران کو ہر سطح پر جوابدہ ہوتے ہیں۔

ماضی قریب میں زینب زیادتی و قتل کیس میں ڈی پی او صاحب کو معطلی کی سزا بھگتنا پڑی اور پورے پاکستان بالخصوص پنجاب میں ہم اکثر سنتے آتے ہیں کہ کسی بھی جرم پر کسی نہ کسی پولیس افسر کو معطل کردیا جاتا ہے، یعنی ایک شخص کو اس کوتاہی کا ذمہ دار سمجھ کر اُسے سزا عارضی طور پر دی جاتی ہے مگر کیا انگریز دور سے چلنے والے اس نظام میں سوال جواب کا کوئی طریقہ سرے سے ہے ہی نہیں؟، راقم الحروف کے خیال میں رپورٹنگ کا طریقہ کار ہفتہ وار یا ماہانہ ہوتا ہوگا مگر حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پولیس سروس میں موجود ایک عزیز نے معلومات میں اضافہ کیا کہ رپورٹنگ کا طریقہ کار روزانہ کی بنیاد پر طے شدہ ہے اور روزنامچہ اسی طریقہ کار کی ایک شکل ہے، اس کے علاوہ پولیس رول کے تحت کرائم میٹنگز بھی مستقل بنیادوں پر وقتاً فوقتاً ہوتی ہیں، یعنی جرائم سے کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک سب باخبر رہتے ہیں، جب باخبر سب ہوتے ہیں تو ذمہ داری کسی ایک افسر یا عہدیدار پر کیوں ڈال کے بری الذمہ سمجھ لیا جاتا ہے خود کو۔

اگر جرم پر سزا کا پیمانہ معطلی ہی ہے تو یہ معطلی ایک عہدیدار کے بجائے پورے نظام کو کیوں نہیں جھنجھوڑتی؟ جتنا ذمہ دار ایک ڈی پی او ہوسکتا ہے اتنے ہی ذمہ دار تو وہ لوگ بھی ہیں جن کو ڈی پی او کارکردگی کے حوالے سے جوابدہ ہے، اگر ایک افسر نے فرائض میں کوتاہی کی ہے تو اس سے اوپر موجود افسران نے جواب طلبی سے کوتاہی کی ہے تو معطلی ایک کی کیوں؟۔ معطلی یا عارضی سزا کیسے جرائم کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے؟، پولیس فورس میں اُصول لاگو کردیجئے، قانون بنا دیجئے کہ جس کی جتنی کارکردگی ہوگی، اُسی حساب سے مثبت یا منفی اشاریے اُس کی سروس بک کا حصہ بنیں گے۔ اُس کی تنخواہ، مراعات، سہولیات، ترقی کو پولیس کی کارکردگی سے منسلک کردیجئے، جس تھانے کی حدود میں جرائم کی سطح کمی کی طرف آئے اُس تھانیدار کو ترقی، جس تھانے کی حدود میں سطح جرائم بلندی کی طرف جائے وہاں تنزلی کی سند دیجئے، قانون کے رکھوالوں کو ذاتی محلات کے بجائے عوام کی جان و مال کی رکھوالی کرنے دیجئے۔ سیاسی وابستگیوں سے پولیس افسران کو ترقیاں نہ دیجئے، بلکہ عوامی خدمات اور جرائم کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ترقی منسلک کر دیں، آپ میڈیا میں اپنا قد بڑھانے کیلئے فوری معطلی کے احکامات دے دیتے ہیں، کچھ عرصے بعد معطلی پوری سابقہ مراعات کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے، ڈرامہ نہ کیجئے، عملی اقدامات کیجئے، عوام کی حالت زار پر رحم کر دیجئے، اگر معطل کرنا ہے تو ایک عہدیدار کے بجائے پوری انتظامی مشینری کو معطل کر دیجئے تاکہ کچھ تو نیا بہتر آئے، اداروں پر رحم کر دیجئے، اپنے گھر کی باندی کے بجائے اداروں کو عوام کا حقیقی خادم بنا دیجئے، آپ بے شک خادم کے بجائے چوہدری کہلوالیں۔