Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

خدارا عورت کو عزت دو

SAMAA | - Posted: Mar 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نازیہ فہیم

پتوکی میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے میں خاتون کارکن کے ساتھ بدتمیزی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ واقعہ کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں، اکثر و بیشتر تحریک انصاف کے جلسوں میں بھی خواتین کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پتوکی میں مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر شہباز شریف کے جلسے کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) خواتین ونگ کی مقامی رہنما زیبا رانا کے ساتھ کچھ افراد نے بدتمیزی کی، دھکے دیئے اور گھیسٹ کر باہر نکالنے کی کوشش کی جبکہ ان کی چادر بھی کھینچی گئی۔ اس دھکم پیل میں خاتون رہنما زیبا رانا کو زخم بھی آئے۔ لیگی کارکنان نے بڑی مشکل سے خاتون کارکن کو پنڈال سے نکالا۔ جلسے میں خواتین سے بدتمیزی کی ویڈیو ہر نیوز چینل نے دکھائی۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس خاتون کو دھکے دینے والے اور بدتمیزی کرنے والے انسان نما درندوں کو کس نام سے پکارا جائے۔

سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے اس واقعے کو نواز لیگ کے خلاف سازش قرار دیا اور کچھ نے تحریک انصاف پر الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان نے ایک سازش کے تحت جان بوجھ کر ایسا کیا تا کہ مسلم لیگ (ن) کے جلسوں میں خواتین کی شرکت کو کم کیا جا سکے۔ یہ مسلم لیگ (ن) کے اپنے ہی سپورٹرز تھے یا کسی دوسری سیاسی جماعت کے بھیجے ہوئے لوگ، میں تو اس سوچ میں پڑ گئی ہوں کہ کیا خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے؟

یہ قابل افسوس واقعہ ہمارے معاشرے کے منہ پر زوردار تھپڑ  ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے جلسے میں کسی بھی خاتون کے ساتھ پیش آنے والا ایسا واقعہ قابل مذمت ہے۔ ماضی میں بھی تحریک انصاف کے بہت سے جلسوں میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور تحریک انصاف نے بھی اس کا الزام مسلم لیگ (ن) پر دھرا۔ اگر دونوں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے کارکنان کے خلاف کارروائی کرتے تو دوبارہ ایسے واقعات نا ہوتے۔

مسلم لیگ (ن) کی خاتون رہنما کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی پر مریم نواز شریف کی مکمل خاموشی حیران کن اور افسوسناک ہے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لینی والی محترمہ مریم نواز نے واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا نا ہی کوئی ٹویٹ کرنے کی زحمت کی۔ لیگی رہنما عظمیٰ بخاری نے تھوڑی ہمت کا مظاہرہ کیا اور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کہ ایسے واقعات کہیں بھی ہوں ناقابل برداشت ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ہماری پارٹی کی روایت نہیں، ایسا واقعہ کیوں ہوا اور کس نے کروایا تحقیقات کرائیں گے۔

متاثرہ خاتون زیبا رانا نے واقعے کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پتوکی جلسے میں مجھ سمیت دیگر خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے اوباش نوجوانوں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے نہیں۔ یہ حرکت (ن) لیگی بھائی کسی صورت نہیں کر سکتے، یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت کیا گیا۔ زیبا رانا نے معاملے کا نوٹس لینے اور اوباش نوجوانوں کو گرفتار کرنے پر اپنی پارٹی کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ممکن ہے زیبا نے یہ بیان پارٹی قیادت کے کہنے پر ہی دیا ہو۔ جو بھی ہو میرا بحیثیت عورت ایک ہی مطالبہ ہے کہ خدارا عورت کو عزت دو۔ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے تاکہ دوبارہ کسی بھی پارٹی کے جلسے میں کسی خاتون کارکن کے ساتھ اس طرح کا کوئی دوسرا واقعہ پیش نا آئے، کیونکہ اگر قانون پر عمل درآمد نہیں ہوا تو اس قسم کے واقعات جنم لیتے رہیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube