ہوم   >  بلاگز

ریٹنگ کے چکر میں

2 years ago

  

۔۔۔۔۔**  تحریر: طاہر نصرت  **۔۔۔۔۔

اس ریٹنگ کے چکر نے پوری صحافت کا ستیاناس کردیا ہے، چھوٹی سے چھوٹی خبر بھی گھما گھما کر ایسی سنسنی اور تجسس کے ساتھ لال لال ڈبوں میں پیش کی جاتی ہے جیسے قیامت آنیوالی ہو، عملی صحافت میں نئے نئے وارد ہوئے تو اپنے سینئرز سے سیکھا کہ اسکرین پر لال ڈبے میں وہی خبر دی جاتی ہے جو سب سے بڑی ہو، بالکل تازہ ہو، گرما گرم ہو، الیکٹرانک میڈیا میں اس کیلئے بریکنگ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

مگر کیا کریں جناب! کہ ریٹنگ جیسی خوبرو دوشیزہ کے پیچھے پڑتے پڑتے صحافتی اصولوں تک بھول گئے، بریکنگ خبر کونسی ہے؟، عام خبر کونسی ہے؟، کچھ پتہ نہیں چلتا، ریمورٹ ہاتھ میں لیکر بٹن دباتے جائیں، آگے بڑھتے جائیں اور ہر نیوز چینل پر ’’توپ مارکہ‘‘ خبروں سے مستفید ہوتے جائیں، کیا ہوا اگر خبریں وہی پرانی ہیں ’’لال لال ڈبے‘‘ تو بالکل فریش مال ہے۔

اپنے اساتذہ سے سنا ہے اور سیکھا ہے کہ کتا انسان کو کاٹے یہ خبر نہیں انسان کتے کو کاٹے تو تب خبر بنتی ہے مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے، انسان انسان کو کاٹتا ہے مگر خبر نہیں بنتی کیونکہ یہ معمول بن گیا ہے، انسانوں کو کتوں اور گدھوں کا گوشت کھلایا جاتا ہے پھر بھی خبر نہیں بنتی، نگر نگر قریہ قریہ اتائی ڈاکٹر لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کریں یا جعلی عامل کسی کو گمراہ کریں، ہمارے میڈیا کا اس سے کیا لینا دینا؟، یہ کوئی بریکنگ نیوز تھوڑی ہے جو ریٹنگ سمیٹے۔

معاملہ اگر یہیں تک محدود رہتا پھر بھی ٹھیک تھا مگر زندگی نے رفتار پکڑلی تو سوشل میڈیا جیسے نوزائیدہ بچے نے جنم لیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کرشمے دکھائے کہ سب اسی کے دیوانے ہوگئے، وٹس ایب، فیس بک اور ٹویٹر کے طوفان نے قوائد و ضوابط اور اصولوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا، حقیقت پسندی جو کہ صحافت کیلئے لازمی سمجھی جاتی تھی، پتہ نہیں کب سے وینٹی لیٹر پر پڑی ’’کومے‘‘ میں بیتے دنوں کو یاد کررہی ہے، جعلی خبروں کا انبار لگا ہوا ہے اور افواہیں کسی بدصورت چڑیل کی طرح میڈیائی منڈیر پر بکھرے بالوں کے ساتھ قہقہے لگارہی ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان جعلی خبروں کے چشمے کہاں سے پھوٹتے ہیں؟، کیا حکومتی کارندے ایسی خبریں پھیلاتے ہیں تاکہ اپوزیشن کا پریشر کم کرسکیں؟، کیا ان کے پیچھے اپوزیشن کا ہاتھ ہے تاکہ آئندہ الیکشن میں میدان مارنے کیلئے رائے عامہ ہموار کی جاسکے؟، یا پھر دیگر شرارتی عناصر اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کیلئے ایسے حربے استعمال کررہے ہیں؟۔

مین اسٹریم میڈیا کی طرح سوشل میڈیا بھی انفارمیشن کا ایک بہترین ذریعہ ہے مگر یہاں اس کا جو حشر نشر ہورہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنی مہم چلانے کیلئے سیاسی جماعتوں نے تو اپنے اپنے بقراطوں کے باقاعدہ بریگیڈ بھرتی کررکھے ہیں، جن کی یہ خصوصی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ حریف جماعتوں کی جانب سے آواز اٹھائی جائے یا پھر کہیں اور سے تنقید کے تیکھے نشتر برسیں، ایسے میں اتنا گند اچھالو اتنا، گند اچھالو کہ حقیقت دب کر رہ جائے۔

میڈیا ہاؤسز میں تحقیقاتی صحافت کیلئے الگ سیل ہوتے ہیں جہاں ’انڈیپتھ رپورٹنگ‘ کرنیوالے چند سینئر رپورٹرز کا یہی کام ہوتا ہے کہ کوئی بڑی خبر نکالیں، خبر نکالنے کے بعد اس کے مستند ہونے کی باقاعدہ تصدیق کی جاتی اور اس کے بعد ہی کسی اخبار یا پھر ٹی وی کی اسکرین کی زینت بنتی ہے، مگر کیا کیجئے کہ واٹس ایپ کی صحافت نے تحقیقاتی صحافت کا بھی بھٹہ بٹھا دیا ہے۔

ہمارے بڑے بڑے دانشور بھی واٹس ایپ صحافت کے اثر سے نہیں بچ سکے ہیں، چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے سات دن اسکرینوں پر دانش کے موتی بانٹنے والے اپنے تئیں ’سقراط‘ جعلی خبروں کے خمار میں خوب جکڑے ہوئے ہیں، کہیں تین تین جغادری لش پش اسٹوڈیو میں انہی خبروں کا سہارا لیکر حکومت کی بینڈ بجانے میں مصروف ہیں ( کچھ تو باقاعدہ اسکرین پرموبائل دکھا کر کہتے ہیں ناظرین دیکھیں یہ خبر ابھی ابھی ملی ہے) جبکہ کچھ ناظرین کی توجہ سمیٹنے کیلئے ’’ جعلی فہرست‘‘ لہرا لہرا کر اپنی معتبری کوخود ہی سند بخش رہے ہوتے ہیں۔

افواہوں کے اس بازار میں، جعلی خبروں کی بھرمار میں اور خود کو سچا ثابت کرنے کی اس تکرار میں، کسی کی جان جائے تو جائے، کسی کی عزت تار تار ہوجائے تو ہوجانے دیں، دنیا میں بدنامی ہوجائے تو ہونے دیں مگر ریٹنگ نہیں گرنی چاہئے کیونکہ ریٹنگ ہے تو نوکری ہے، ریٹنگ ہے تو سالانہ اینکریمنٹ ہے۔

اس کھوکھلے معاشرے میں جعلی دوائیاں بکتی ہیں، دودھ کے نام پر زہر بکتا ہے، اچھے پکوانوں کے نام پر گند لوگوں کو قابل قبول ہے تو بھلا جعلی خبروں سے کسی کو کیا تکلیف؟، ابھی آپ سوچیں گے کہ اس ٹرینڈ کے تو بہت خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں تو بھائی اس سے کیا فرق پڑے گا؟۔ پاکستانی قوم نے بہت کچھ بھگتا ہے یہ بھی بھگت لیں گے مگر کسی کی ’’روزی روٹی‘‘ پر لات مارنا کہاں کی انسانیت ہے؟، کیونکہ سیٹھ کی سالانہ آمدنی میں کمی کو ایسا بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے جیسے کوئی غریب آدمی گھر کے برتن بیچ کر بجلی کا بل ادا کرے، خیر چھوڑیں یہ معاملات اور اپنی ٹی وی اسکرین آن کرکے 12 مصالحوں والی چٹ پٹی خبروں سے  لطف اٹھائیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں