Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

کرکٹ اب کھیل نہیں کاروبار ہے

SAMAA | - Posted: Feb 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Feb 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago

جس تیزی سے وقت گزر رہا ہے۔ اسی کے ساتھ  لوگوں کی مصروفیات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ روز مرہ کی اُلجھنوں اور دیگر مصروفیات میں کام پر توجہ دینا اور پھر تفریح کے لیے بھی وقت نکالنا مشکل  ہوگیا ہے۔ ایک وقت تھا جب شائقینِ کرکٹ اپنے پسندیدہ کھلاڑی یا ٹیم  کا کھیل دیکھنے کے لیے دلچسپی کے ساتھ گھنٹوں ٹی وی اسکرین کےسامنے بیٹھے رہتے تھے۔لیکن اب وہ دور نہیں رہا کہ لوگ گھنٹوں ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے رہیں ۔  نہ وہ اب شائقین کرکٹ کی توجہ رہی کہ انھیں اچھا کھیل دیکھنے میں تجسس ہویا دلچسپی ہو۔  خواہ وہ کرکٹ میچ کسی بھی ٹیم کے درمیان ہو۔ اب شائقینِ کرکٹ کا زہن یا سوچ یہ نظر آتاہے کہ اُنھیں کم وقت میں زیادہ تفریح،  اچھی ہٹنگ، تیز بلےبازی دیکھنے کو ملے۔ اُنھیں اب کرکٹ کے معیار کی کوئی فکر نہیں ۔ معیار کی دھجیاں اُڑتی ہیں تو اُڑتی رہیں لیکن کرکٹ کے ساتھ ہُلڑ بازی یا انٹرٹیمنٹ تو لازمی ہونا چاہیے۔ اِسی لیےشائقین کو کم وقت میں زیادہ تفریح فراہم کرنے کے لیے کرکٹ کو مختصرسے مختصرترین کیا جارہا ہے۔ پہلے 5 روز پر مشتمل ٹیسٹ میچ کا دور تھا۔ جس میں روزانہ 90 آورز پھینکے جاتے تھے، پھر ایک روزہ میچز کا دور آیا جس میں دونوں ٹیموں کے درمیان 50/50 آورز کا کھیل ہونے لگا۔ اور اب مختصر دورانیہ کے کرکٹ میچز 20/20 کا دور ہے۔ آنے والے وقت میں اس مختصر ترین کھیل  کو مزید مختصر کرنے کے لیے 10/10 آورز پر مشتمل میچز کا انعقاد کیے جانے کےلیے تجربہ کرنےکی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ جہاں کرکٹ کو مختصر کیا جارہا ہے۔ وہی اس کھیل میں نہ صرف لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہےبلکہ اس میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے۔ کرکٹ میں جس طرح سے پیسے کی ریل پیل کی جارہی ہے۔ اس طرح کے عمل سے کرکٹ کو اب  “جنٹل مین گیم”  نہیں کہا جاسکتا۔ مختلف لیگز کے انعقاد کے باعث شائقینِ کرکٹ میں اضافہ تو دیکھنے میں آرہا ہے۔ لیکن کرکٹ کا معیار اور اہمیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو اب کرکٹ ایک کھیل سے زیادہ کاروبار میں تبدیل ہوگیا ہے۔

اس کی مثال مختلف ممالک میں ہونے والی کرکٹ لیگز ہیں ۔جس میں کاروباری شخصیات کی جانب سے بھاری رقم لگائی جاتی ہے۔  جس میں  بھارت کی جانب سے انڈین پریمیئر لیگ، آسڑیلیا کی بگ بیش ، بنگلہ دیش کی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ ، ویسٹ انڈیز کی کیریبئین پریمیئر لیگ اور پاکستان کیجانب سے پاکستان سپر لیگ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔  بعض افراد کا ماننا ہے کہ اس طرح کی لیگز سے کرکٹ کے فروغ میں مدد ملے گی۔ کیا واقعی ایسا ہے ؟ حقیقت میں دیکھا جائے تو مختصر دورانیہ کی کرکٹ  لیگز کے زریعے شائقین کو تفریح فراہم کرنے کےاعلاوہ کسی دوسرے مقاصد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا  آغاز ہوگیا ہے ۔ جوکہ  25 مارچ 2018 تک جاری رہےگا۔ دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔دوسرے ایڈیشن میں  کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے شعیب ملک اس بار پہلی مرتبہ ایونٹ میں کھیلنے والی ملتان سلطانز کی کپتانی کررہے ہیں۔ شاہد خان آفریدی جوکہ دوسرے ایڈیشن میں پشاور زلمی کی نمائندگی کررہے تھے وہ اس بار کراچی کنگز کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس کے اعلاوہ بہت سے ایسے کھلاڑی ہیں جو تیسرے ایڈیشن میں مختلف فرنچائز کی نمائندگی کرتے نظر آئینگے۔  پچھلے دو ایڈیشنز میں 5 ٹیمیں اسلام آباد یونائٹیڈ ، پشاور زلمی ، کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈیئٹرز، لاہور لائینز شامل تھیں لیکن اس بار تیسرے ایڈیشن میں چھٹی ٹیم ملتان سلطان کا اضافہ بھی  کیا گیا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کا تیسرا ایڈیشن جاری ہے۔ اس سے قبل   گزشتہ دو ایڈیشنز میں پہلا اسلام آباد یونائیٹڈ، اور دوسرا ایڈیشن پشاور زلمی کے نام رہا ہے۔

شائقینِ کرکٹ جو چند ہفتے پہلے قومی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف سیریز میں خراب کارکردگی کے باعث مایوس تھے۔ اب ہر طرف پی ایس ایل کا بخار سر چڑھا ہوا  ہے۔ ہرطرف اطمینان ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ انتظامیہ ، سلیکشن کمیٹی  اورشائقین  کو فی الحال  یہ تشویش نہیں کہ آنے والے ورلڈ کپ تک قومی ٹیم کا اوپننگ اور مڈل آرڈر/ٹاپ آرڈر کا جو مسئلہ ہے وہ حل ہوگا یا نہیں۔  خیر جانے دیجیے۔ ابھی سب اچھا ہے۔ اس وقت شائقین کرکٹ اور بورڈ انتظامیہ سب ایک خواب کی سی حالت میں ہیں۔ جب پی ایس ایل  کا اختتام  ہوجائےگا۔ اس کے چند روز بعد پھر وہی تنقید کی جارہی ہوگی کہ  فلاں کو کیوں کھلایا ، فلاں کو کیوں نکالا۔ کیا کیاجاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی  ناقص پالیسی، سیاسی بےیقینی اور امن وامان کی صورتحال نے پاکستان کی عوام کو صحت مندانہ سرگرمیوں سے دورکر رکھا ہواہے۔   اگر اکثریت شائقین کو  کاروباری حضرات کی جانب سے کرکٹ کو کاروبار میں تبدیل کیے جانے کے باعث خوشی کے لمحات میسر آرہے ہیں تو اچھی بات ہے۔

دوسری طرف اگر شائقینِ کرکٹ کی اقلیت یہ سوچتی ہے کہ کرکٹ کو کاروبار نہیں کھیل ہی رہنے دینا چاہیے۔ دنیا کے معیار کے مطابق اپنے کھیل کو بہتر کرنے ،  مقامی سطح پر کرکٹ کو فروغ دینے اور میدانوں کو آباد کرنے کے لیے خصوصی توجہ دینا چاہیے تو وہ  ابھی پی ایس ایل کے دوران اپنی سوچ اور خیال کو اپنے تک ہی محدود  رکھیں۔ابھی آپ کی یہ بات سُننے میں کسی کودلچسپی نہیں ہے۔ کیونکہ ابھی  ہم سب بڑے کاروباری حضرات کے کاروبار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ تو لطف اندوز ہونے دیجیے ۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube