چائلڈلیبرایک سیاہ حقیقت

February 23, 2018

چائلڈ لیبر ایک سیاہ حقیقت ہے جو بدقسمتی سے بہت سے طریقوں سے معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی مکینک کے پاس لے کر جاتے ہیں تو پسِ منظر میں ایک بچے کو کام کرتا اکثر پائینگے۔ کسی پان کے کھوکھے یا چائے کی دوکان پر بھی بچوں کو ہم اکثر کام کرتا دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں ان بچوں کی ہر لمحہ بڑھتی تعداد تشویشناک ہے۔ پاکستان چائلڈ لیبر رکھنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔2014 کی ایک بین الاقوامی لیبر تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق مختلف ممالک میں چائلڈ لیبر میں واضح کمی دیکھنے میں واقع ہوئی تاہم پاکستان کے حالات جوں کے توں ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی 2012 کی رپورٹ کے مطابق 1کروڑ 25 لاکھ بچے کم عمری میں محنت مزدوری کرتے ہیں. گلوبل سلیوری انڈیکس کی 2013 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں بچے کم عمری سے ہی کام کرتے ہیں۔

یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جن بچوں کی عمریں اسکول جانے کی ہے وہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں جارہے ہیں اور جن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے ان ہاتھوں میں اینٹیں اور اوزار ہیں۔ وہ مستقبل کے ننھے معمار ہمیں گاڑیوں کے ٹائر بدلتے نظر آتے ہیں۔ ان بچوں سے میں نے جب بات کی تو ان کی کہی داستانیں نہایت دلبرداشتہ تھیں جو آپ کے گوشِ گزار کیے دیتا ہوں۔

فراز نے بتایا کہ اس نے تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن محض چوتھی تک پڑھ سکا ۔ اساتذہ کے زبانی اور جسمانی تشدد ، پڑھائی کے دیر پا اوقات اور کھیل کا کوئی میدان نہ ہونے کے باعث آگے نہ پڑھ پایا۔ اسکول چھوڑنے کے بعد اس نے 3000 ماہانہ پر چائے کی دوکان پر کام شروع کردیا۔ عاکف ایک سولہ سال کا بچہ جو پان کی دوکان پر کام کرتا۔ اپنے خاندان کو پالنے کے اس نے اوائل عمری میں کام شروع کردیا کیونکہ اس کے والد نیچلہ دھڑ فالج کا شکار ہونے سے کام کرنے سے قاصر تھے جبکہ والدہ بچپن میں ہی گزر گئ تھیں۔ اس کے چار بہن بھائی تھے ۔ بڑی بہن شادی شدہ تھی چھوٹی بہن اپنے والد کے ساتھ گھر پر رہتی تھی۔ جبکہ دو بھائی ان کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔

 زبیر نے چھٹی کلاس تک ایک نجی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ابتداء میں اس کےوالد اسکی تعلیم کی کفالت کرتے تھے تاہم لگاتار بے روزگاری اور غربت کے باعث اس نے اور اس کےچھوٹے بھائی نے بھی تیسری میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ تعلیم چھوڑنے کے بعد فوراً ہی اس نے صبح چھ سے رات آٹھ تک ریشم کی فیکٹری میں بُنائی کا کام شروع کردیا۔

دی نیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق بے جا مہنگائی، ناخواندگی، غربت اور بےروزگاری کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان بچوں کو مکینکس کی دوکانوں پر، چائے پان، فیکٹریوں اور سڑکوں پر غبارے بیچتے بکثرت دیکھا جاتا ہے۔ بہت سے بچے گھریلو ملازم بھی ہیں۔ ان بچوں کی حتمی تعداد تو نہیں تاہم مین پاور 2008-2007 کی رپورٹ کے مطابق 14-10 کے درمیان تقریباً 21 ملین بچے اس کام میں شامل ہیں۔ یونیسف کی 2003 رپورٹ کے مطابق 8ملین بچے چائلڈ لیبر میں شامل ہیں۔ انسانی حقوق پاکستان کی 2005 رپورٹ کے مطابق 10 ملین بچوں کو اس لعنت میں جھونک دیا جاتا ہے۔

میں ہر مہینے بے شمار ان بچوں سے ملتا ہوں جو کم عمری سے کام میں لگ جاتے ہیں۔ میرے مطابق ان سب کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔ہربچے کے ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ پڑھے پر کم وسائل اور برے حالات ان کواپنے بچوں کو کم عمری سے کام پر بھیجنے پرمجبور کر دیتے ہیں ۔

اگر میں اپنے تجربے کی بات کروں تو 90فیصد جن چائلڈلیبر سے میں ملا ان سب کا کہنا تھا کہ ان کے ماں باپ چاہتے تھے کہ یہ بچے اسکول جائیں اور ان میں سے اکثر گئے بھی پر استاد کی مار اورا سکول کا سخت ماحول ان سے برداشت نہیں ہوا اور ان بچوں نے اسکول چھوڑدیا۔ماں باپ نے بھی یہ دیکھ کر ہمت ہار دی کہ ہمارا بیٹا اب بڑا افسر،ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتاتوانہوں نے سوچا کہ کم عمری سے ہی اس کو کام پر بھیج دیا جائے تاکہ ان کا بوجھ بھی کم ہو۔ یہ سب دیکھ کربہت دکھ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ معصوم بچے اپنا بچپن کھو دیتے ہیں ۔