Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

ایم کیو ایم، سلمان مجاہد بلوچ اور دوہرا معیار

SAMAA | - Posted: Feb 22, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 22, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: عدیل طیب

پچھلے کچھ دنوں سے ملکی سیاست میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے جس کے سب سے زیادہ اثرات اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دیکھائی دیتے ہیں اور اسکی اہم وجہ متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہونا ہے۔ جب سے ایم کیو ایم بانی الطاف حسین کو اس تحریک سے علیحدہ کیا گیا ہے اسوقت سے لے کر اب تک یہ جماعت ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم پاکستان، بہادرآباد اور پی بی آئی گروپ میں تقسیم نظر آتی ہے جبکہ رہی سہی کسر مصطفی کمال نے پاک سرزمین پارٹی بنا کر پوری کردی۔ ایم کیو ایم اب مزید کتنے گروپوں میں تقسیم ہوگی یا پھر سب ایک ہوجائیں گے، اسکا فیصلہ عام انتخابات 2018 سے قبل ہو جائے گا۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کو باقی گروپس کے مقابلے میں ’’ناجی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ جس طرح ایم کیو ایم لندن و پاکستان سمیت دیگر گروپس کے رہنماء عدالتوں میں مختلف کیسز بھگت رہے ہیں اسکے برعکس پی ایس پی رہنماوں کو کافی رعایت حاصل ہے۔ حالانکہ پی ایس پی کی بنیاد رکھنے اور تنظیم میں شامل ہونے والے تمام رہنماء پہلے ایم کیو ایم کا ہی حصہ تھے، اور پھر اس بات کا امکان بھی کم کہ سب نے بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھوئے ہوں۔

جس طرح ایم کیو ایم پاکستان کے بیشتر رہنماوں نے مصطفی کمال کی پارٹی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کی اسی طرح سلمان مجاہد بلوچ نے بھی پی ایس پی جوائن کرلی تھی تاہم کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان میں شامل ہوگئے۔ سلمان مجاہد بلوچ کی واپسی ایک ایسے وقت پر ہوئی جب ایم کیو ایم پاکستان مزید دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی جس میں سے ایک گروپ فاروق ستار اور دوسرا عامر خان کا ہے۔

سلمان مجاہد نے ان دونوں گروپوں میں سے فاروق ستار کے گروپ کا انتخاب کیا لیکن انکا یوں پی ایس پی سے واپس اچانک ایم کیو ایم پاکستان میں آنا خود انکے لیے اچھا ثابت نہیں ہورہا۔ کیونکہ جب سے سلمان مجاہد پی ایس پی سے واپس ایم کیو ایم پاکستان کی طرف لوٹے ہیں تب سے ان کے خلاف مختلف کیسز بننا شروع ہوگئے ہیں۔ سلمان مجاہد کے خلاف پہلا کیس کراچی میں پی ٹی آئی کارکن پر اسلحہ تاننے پر بنا اور دوسرا کیس خاتون علینہ سے مبینہ زیادتی کرنے پر سامنے آیا، جبکہ ایم کیو ایم کی سابق رہنما ارم عظیم فاروقی بھی سلمان مجاہد پر سنگین الزامات لگا چکی ہیں۔ سلمان مجاہد بلوچ پر لگنے والے الزامات کی اصل حقیقت کیا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ممکن ہے کہ یہ الزامات درست بھی ہوں اور یہ بھی ممکن کہ تمام تر الزامات غلط ہوں لیکن حالیہ واقعات یہ بات واضح کر رہے ہیں کہ جب تک کوئی رہنماء ایم کیو ایم میں رہے گا تو اسکو مختلف کیسز کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن پی ایس پی میں شامل رہنے والے رہنماء اس فکر سے مکمل آزاد ہیں۔ اگر ہم پی ایس پی میں شامل ہونے والے رہنماوں کی طرف دیکھیں تو کئی حضرات ایسے ہیں جن کے مختلف کیسز میں نام آتے رہے ہیں لیکن پی ایس پی میں شمولیت کے بعد سے ان رہنماؤں کے نام تو دور بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی۔

یہ دوہرا معیار کسی ایک شہر یا صوبے میں نہیں بلکہ اسکے جراثیم پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک پارٹی معصوم نظر آتی ہے تو دوسری پارٹی پر دنیا بھر کے سنگین الزامات لگا دیئے جاتے ہیں اور پھر یہاں کیس چلانا تو مشکل ہی نہیں۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کی جوڑ توڑ کرنے والے ’’مخصوص اداروں‘‘ کو چاہیئے کہ دوہرا معیار اپنانا چھوڑ دیں اور گناہ دھونے والی پارٹیاں تشکیل نہ دیں۔ جس پارٹی کے رہنماء نے گناہ کیے ہیں اسکو سزاء بھی کاٹنے دیں کیونکہ روح افزاء کی بوتل میں شراب ڈال دینے سے شراب تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ شراب ہی رہتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube