ہوم   >  بلاگز

بےآسرا خواجہ سرا

SAMAA | - Posted: Feb 18, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 18, 2018 | Last Updated: 2 years ago

تحریر:محمد فہیم

اکیس مئی 2016کی شام فقیر آباد کے قریب خواجہ سراعلیشہ کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا چھ گولیاں لگنے والے خواجہ سراءعلیشہ کو زخمی حالت میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر زخمی خواجہ سراسے ڈاکٹر نے غیر مناسب سوالات کئے اور وقت ضائع کیا جس کے نتیجہ میں علیشہ کا بہت زیادہ خون بہہ گیا اور آخر کار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین روز بعد 25مئی 2016کو علیشہ اسپتال میں جان کی بازی ہار گئی۔

علیشہ کے قتل کے بعد پشاور کے خواجہ سراﺅں نے علیشہ کی نعش تھانہ فقیر آباد کے سامنے رکھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ علیشہ کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔احتجاجی دھرنا تو پولیس کی یقین دہانی کے بعد ختم کرادیا گیا تاہم کیا علیشہ کے قاتل گرفتار ہو کر قرار واقعی سزا کے مرتکب ہوئے؟ یہ جواب شاید کسی کے پاس نہیں بلکہ صرف علیشہ نہیں اس جیسے قتل کئے گئے کئی خواجہ سراﺅں کے قاتل آج بھی آزاد فضا میں جی رہے ہیں۔علیشہ تو مرگئی تاہم اس کی موت نے خیبر پختونخوا کے خواجہ سراﺅں کیلئے ایک امید چھوڑ دی علیشہ وہ پہلی خواجہ سراہے جس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ علیشہ کی بدولت ہی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور نے آئندہ خواجہ سراﺅں کیلئے علیحدہ کمرہ مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پالیسی جاری کر دی اور خیبر پختونخوا حکومت نے پہلی مرتبہ ترقیاتی پروگرام میں خواجہ سراﺅں کیلئے 20کروڑ روپے کی رقم مختص کی اور خواجہ سراﺅں کو عزت سے کمانے کیلئے انہیں ہنر سکھانے کا منصوبہ مرتب کیا۔

اب علیشہ کے قتل کوتقریبا دو سال ہو گئے ہیں اور امید یہی ظاہر کی جارہی ہے کہ علیشہ کے لہو سے جس تحریک کو رنگ ملا تھا اس کے ثمرات ملنا بھی شروع ہو گئے ہوں گے تاہم اگر یہ کہا جائے کہ حقیقت اس سے مختلف ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ بات کی جائے سب سے پہلے اسپتالوں کی تو علیشہ کے بعد بھی کئی خواجہ سراﺅں کو جرائم پیشہ افراد کی جانب سے دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہیں علیحدہ وارڈز یا کمرے کی ادائیگی تو دور کی بات علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔

خواجہ سراﺅں کی نمائندہ تنظیم کے مطابق نوشہرہ، مردان،صوابی اور ڈی آئی خان سمیت کئی اضلاع میں خواجہ سراﺅں پر حملے ہوئے تاہم مقامی اسپتالوں نے خواجہ سراﺅں کا علاج کرنے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد انہیں مجبورا پشاور لایا گیااور میڈیا کے دباﺅکے باعث ان کا کسی حد تک علاج کیا گیا۔ خواجہ سراﺅں نے گلہ کیا کہ آخر پشاور ہی کیوں؟ دور دراز علاقوں میں ایسے کئی خواجہ سراہیں جو پشاور آنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور اکثر اوقات انہیں پشاور لانے کیلئے راستے میں ہی وہ دم توڑ دیتے ہیں ، کیا خواجہ سراخیبر پختونخوا کے شہری نہیں ہیں ؟ کیا انہیں صحت کی سہولیات اپنے ہی شہر میں ملنے کا حق نہیں ہے؟۔

کچھ عرصہ قبل سوات سے یہ خبر سامنے آئی کہ ضلع بھر کے تمام خواجہ سراﺅں کو سوات چھوڑنے کا حکم پولیس نے صادر کر دیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ خواجہ سراغیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔سوات کی خبر پر مختلف شعبہ ہائے زندگی کی جانب سے تنقید کے بعد پولیس نے خاموشی اختیار کر لی تاہم اس کے بعد ڈی آئی خان،بنوں اور دیگر اضلاع سے بھی یہی شکایات سامنے آنے لگیں۔مثالی پولیس کے خواجہ سراﺅں کے ساتھ ہونے والے اس بے مثال رویے کو خواجہ سراﺅں نے مسلسل برداشت کیا تاہم جب بات حد سے گزر گئی تو خواجہ سراﺅں نے بھی خاموشی توڑ دی اور پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئیں اوراب خواجہ سراﺅں کی نظریں عدالت پر لگی ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کب اور کیا آئے گا اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ترقیاتی پروگرام میں خواجہ سراؤں کیلئے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 20کروڑ روپے میں سے اب تک ایک پائی تک خرچ نہیں ہو سکی ہے اور ستم ظریفی یہ کہ اب اس رقم میں کٹوتی کرتے ہوئے اسے 6کروڑ سے بھی کم کر دیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube