Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

SAMAA | - Posted: Feb 17, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 17, 2018 | Last Updated: 4 years ago

گزشتہ دنوں پیاری بیٹی زینب کے واقعہ کے بعد مختلف این-جی اوز، اسکولز اور خاص کر میڈیا کے ذریعے بچوں کے لئے آگاہی پروگرامز شروع کئے گئے جس میں گڈ ٹچ بیڈ ٹچ، اجنبی سے بات نہ کرنا، کوئی چیز نہ لینا وغیرہ شامل ہے۔ یہ بڑی اچھی کاوشیں ہیں اور بہت حد تک ہم اپنے بچوں کو اس ٹریننگ کے ذریعے ، برے لوگوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ہم جس معاشرے میں پلے بڑھے ہیں وہاں کا ایک المیہ یہ ہے کہ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ہر طرف ہر بندہ چوکنا ہو جاتا ہے اور زبانی طور پر بہت سی منصوبہ بندیاں کی جاتی ہیں اورکچھ عرصے میں لوگ اس واقعے کو بھول جاتے ہیں ، اس کی یاد جب تازہ ہوتی ہے تب ویساکوئی دوسرا واقعہ رونما ہوتا ہے پھر دوبارہ لوگ روک تھام کے ذرائع ڈھونڈتے ہیں ۔ زینب کے واقعہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ کیونکہ قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں جو میڈیا پہ آیا ہو۔ اس پہلے بھی بچوں کے ساتھ درندگی کر کے ان کی فلمیں بنانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ قانون کا حرکت میں آنا، حکمرانوں کا ایکشن لینا، مافیا پہ ہاتھ ڈالنا، سب قابلِ تحسین ہے مگر کچھ اہم نکات ایسے بھی ہیں جن کو ہم سب نظر انداز کئے بیٹھے ہیں ۔

میری سوچ کے مطابق جہاں ہمیں اپنی بچوں خاص کر بچیّوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے وہیں آپ گھر کے لڑکوں کو نظر انداز نہ کریں ۔زینب یا اسما کا ریپ اور مرڈر کرنے والے درندے یقیناً کسی ماں، باپ کے بیٹے ہیں اور لازمی سی بات ہے کہ ان کو اپنے گھر کا ایسا ماحول ملا جس نے ان کی سوچ کو اتنا بھیانک بنایا، کیوں گھر والے ان سے بے خبر رہے ، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کا بیٹا کسی مشکوک حرکات میں ملوث ہو اور والدین ، خاص کر ماں بےخبر ہو۔ یک ماں ہونے کے ناطے یہ ذاتی تجربہ ہے کہ اگر میرے بچے کی روز مرہ کی روٹین میں ذرا سی بھی تبدیلی آتی ہے تو میں فوراً بھانپ لیتی ہوں اور اس کی جڑ تک پہنچتی ہوں، میرا اندازہ صحیح ہوتا ہے چاہے اس کے اسکول کا مسئلہ ہو یا اس کی صحت کا۔ ماں تو اپنے بچے کی ہر حرکت سے واقف ہوتی ہے ۔

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں پر خا ص نظر رکھی جاتی ہے ، لڑکیوں کو روک ٹوک کی جاتی ہے ، ان کی حدیں مقرر کی جاتی ہیں، یہ اچھی بھی بات ہے لیکن اب اس دور میں گھر کے لڑکوں کو اچھے اور برے کی تمیز سکھائیں ، لڑکوں پہ خاص نظر رکھیں، آپ کا بچہ کن لوگوں میں اٹھ بیٹھ رہا ہے، انٹرنیٹ پہ کیا دیکھ رہا ہے ،آج کل اس کی کیا روٹین چل رہی ہے؟ اکثر خاندانوں میں دیکھا گیا ہے کہ جب بیٹے بڑے ہو جاتے ہیں تو والدین بیچارے ڈرتے ہیں کہ اس کو کچھ کہا تو یہ ہمیں چھوڑ دیگا یا ہمیں کون کھلائے گا پلائے گا اور اس ڈر سے بیٹوں سے کچھ پوچھنے سے درگزر کرتےہیں اور اسی طرح اگر کسی کا بیٹا کسی قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر قانون کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو یہی ماں باپ اپنا سر پیٹتے رہ جاتے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹوں پہ خاص نظر رکھیں، بچپن ہی سے اس سے ایسا تعلق رکھیں کہ وہ کھل کر آپ سے ہر بات شیئر کرسکے ، اچھے برے کی تمیز سکھائیں، اپنی اولاد میں دین کا شعور پیدا کریں۔گناہ اور ثواب کی وضاحت کریں ، اللہ کے احکامت کی تشریحات کریں اور سب سے پہلے نماز کا پابند بنائیں۔ بے شک نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ بچوں کومصروف رکھیں۔ہمارے بزرگ کہتے تھے کھلاؤ سونے کا نوالہ ، دیکھو شیر کی نگاہ سے۔ بے جا آزادی اور بہت زیادہ روک ٹوک ، دونوں نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ ماحول ایسا بنایئے کہ آپ کا بچہ آپ پر مکمل اعتماد کرے ، خاص کر آپ کے بیٹے۔

دوسری طرف بہت سے گھروں میں ایک خاص عمر تک بلا وجہ لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی جاتی ہے ، مثلاً اچھی بہو کا نہ ملنا، یا بیٹے کی بہت اچھی جاب کا نہ ہونا یا شادی کر دیں گے تو بیٹا ہاتھ سے نکل جائے گا وغیرہ۔ جب کہ مذہب اسلام میں بھی شادی سے تاخیر کو منع کیا گیا ہے۔ بیٹوں کی شادی میں تاخیر نہ کریں ، رزق اور دیگر معاملات اللہ کے حوالے ہیں لیکن آپ اپنے بیٹے کو اس کا شرعی حق دینے سے بہت سے گناہوں سے بچا سکتے ہیں ۔ بچپن ہی سے اپنے لڑکوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں اور ان کو ایسا پروان چڑھا دیں کہ بجائے معاشرے پہ بوجھ بننے کے آپ کے بیٹے ، ہر بہن بیٹی کی عزت کے محافظ بنیں اور قابلِ فخر بنیں

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube