Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

خوداعتمادی

SAMAA | - Posted: Feb 16, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Feb 16, 2018 | Last Updated: 4 years ago

ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور خوش فہمی کبھی کبھی باعث بربادی بن جاتی ہے۔ خواہ یہ معاشرے کیلئے ہو، کسی قوم کیلئے یا کسی فرد کیلئے۔ این اے ایک سو چون لودھراں کے ضمنی انتخاب میں عمران خان کو بھی اپنی خود اعتمادی لے ڈوبی۔ روایتی سیاست پراپنے مخالفین کے لتے لینے والے جب اپنے حریفوں کے ہی نقش قدم پر چلیں گے تو پھر ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ہم نے لودھراں کے ضمنی انتخاب میں دیکھا۔ خان صاحب موروثیت کے خلاف تھے، اسٹیٹس کو کو کوستے تھے مگر یہاں جب ذاتی یاری نبھانی کی بات چلی تو جہانگیرترین کی نااہلی کے بعد اس کا بیٹا ہی سب سے ’’اہل‘‘ نظر آیا۔

عمران خان کو نہ صرف یہ امید ہے کہ ان کی جماعت آئندہ کی حکمران جماعت بننے والی ہے بلکہ یہ بھی خوش فہمی ہے کہ وہ جس کسی کو بھی ٹکٹ دیں گے تو وہی جیتنے والا امیدوار ہوگا۔ مگر اس لودھراں کے انتخاب نے تو ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔۔ خواب چکنا چور ہوگئے تو خان صاحب بھی مجبور ہوگئے کہ حریف کی جیت کو تسلیم کیا جائے۔

ان کا عزم کہ ہر شکست نے انہیں طاقت بخش دی ہے بہت اچھا اورامید افزا ہے مگر اس کا کیا کیجئے کہ آئندہ انتخابات سرپرہیں۔ اگر ایسی حالت رہی تو تبدیلی کے نعرے کا کیا بنے گا؟ اس سے پہلے کہ ٹکٹ کی تقسیم کا معاملہ درپیش ہوجائے تحریک انصاف کو سوچنا ہوگا؟ وہ کونسے عوامل ہیں جن کے باعث آج اس تبدیلی والی جماعت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرجھائے امیدوں کے ملبے پرکھڑے ہوکرعمران خان کو ذرا گریبان میں جھانکنا ہوگا؟ دوہزارتیرہ میں تبدیلی کا نعرہ لگایاتو لوگ اسی طرف ہولئے۔ مگر دھرنوں کی سیاست میں کود کرعمران خان نے نہ صرف اپنی قوت زائل کردی بلکہ اپنی جماعت کی ساکھ کو بھی بری طرح مجروح کیا۔

اس جماعت میں اب لوگوں کیلئے شاید اس وجہ سے بھی کشش کم ہوتی جارہی ہے کہ یہ اسٹیٹس کو کی جماعت بن چکی ہے۔ نعرے ضرور تبدیلی کے لگائے جارہےہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر جن جغادریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں کیا وہ تبدیلی لانے کے خواہاں ہونگے۔ یقیناً نہیں ہرگز نہیں۔

آپ مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف تینوں کا جائزہ لیں ، دیکھ لیں ، پرکھ لیں کیا ان تینوں میں کوئی فرق ہے؟ آپ کو تینوں جماعتوں میں لوٹے ہی لوٹے نظر آئیں گے۔ کیونکہ یہی لوٹے ’’الیکٹ ایبلز‘‘ ہیں۔ ان کے بغیر ان جماعتوں کو اکثریت نہیں ملتی۔ مگرخان صاحب کو اس معاملے میں مات اس لئے کھانی پڑرہی ہے کہ انہوں نے موروثی سیاست کے خلاف نعرہ لگایا، لوگوں کو جگایا، شعور کو بیدارکیا  مگر پھر یوں ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

لودھراں میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد میاں صاحب کی رفتار اور بھی تیز ہوگئی ہے۔ عدلیہ پر گرج برس رہےہیں۔ ان کی صاحبزادی کا لب لہجہ بھی سخت سے سخت تر ہوگیا ہے جبکہ داماد جی تو باقاعدہ ’’بددعائیں‘‘ دینے لگے ہیں۔۔ اور کیوں نہ ہوایسا؟  لودھراں کا ضمنی انتخاب جو جیتے ہیں۔ مگر خوش فہمی کے ریشمی حصار میں رہنے والے ذرا یہ بھی تو سوچیں کہ اس جیت سے انہیں کیا فائدہ؟ کیا ان کی نااہلیت ختم ہوجائے گی؟ کیا ان پردائر کیسز ردی کی ٹوکری میں پھینکے جائیں گے؟

سیاسی پنڈت تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی تک جو چلا وہ صرف ٹریلر تھا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ شریف خاندان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے نیب کافی جارحانہ انداز میں لگا ہواہے۔ ایون فیلڈ میں ضمنی ریفرنس دائر ہوچکا ہے جبکہ العزیزیہ اور فلیگ شپ کیس میں بھی ضمنی ریفرنسز دائر کئے جاچکےہیں۔ نیب نے وزارت داخلہ کوملزمان کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست کی ہے۔

دل بے تاب نے ابھی اور کچھ سہنا ہے، گناہگار آنکھوں نے ابھی اور کچھ دیکھنا ہے، اماؤس کی رات ابھی ختم نہیں ہوئی؟ احتساب کی دودھاری تلوار تاحال میاں صاحب اور ان کی فیملی کے سر کے اوپر لٹک رہی ہے۔ ان پر دائر مختلف مقدمات کیا رخ اختیار کرتےہیں؟ اس کا فیصلہ بھی زیادہ دور نہیں۔

ہاں اس پورے معاملے میں شہباز خاندان کے امکانات کافی روشن ہوگئے ہیں۔ اس جیت سے اگر کسی کو فائدہ پہنچے گا تو وہ چھوٹے میاں صاحب ہی ہیں۔ گزشتہ دنوں چوہدری نثار نے پریس کانفرنس میں جوباتیں کیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ چوہدری صاحب نبض شناس سیاستدان ہیں۔ سب سے بنا کے رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کے پرانے جگری ہیں۔ انہیں چھوڑیں گے نہیں مگرفی الحال وہ دور سے بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں اور صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

خوش فہمی کے اندھے گھوڑے پر اعتماد کے ساتھ جست لگانے والےفی الحال ذرا دیوار پر لکھا پڑے۔ میاں صاحب ہو یا پھر عمران خان، عوام جب کسی کو سرآنکھوں پر بٹھاتےہیں تو وہ اوج ثریا تک پہنچ جاتےہیں مگر جب کسی کو زمین پرپٹخ دیتے ہیں تو وہ پاتال میں گِرجاتےہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube