Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

عاصمہ جہانگیر : مظلوموں، بے سہاروں اور بے زبانوں کی آواز 

SAMAA | - Posted: Feb 15, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 15, 2018 | Last Updated: 4 years ago

۔۔۔۔۔**  تحریر: نازیہ فہیم  **۔۔۔۔۔

سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار 66 سالہ عاصمہ جہانگیر کو مظلوموں، بے سہاروں اور بے زبانوں کی آواز سمجھا جاتا تھا، انہوں نے ہمیشہ مظلوم انسانوں کیلئے اور پسے ہوئے طبقات کیلئے آواز اٹھائی، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کیلئے ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے آمریت کو للکارا، انکی وفات سے دنیا ایک نڈر، بہادر اور اصول پسند شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے عاصمہ جہانگیر کا کردار صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ ان کی وفات سے جو خلاء پیدا ہوا ہے شاید اس کو پر کرنا اب ممکن نہیں۔ میرے نزدیک سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عاصمہ جہانگیر کی وفات پاکستان کا دوسرا بڑا نقصان ہے۔

عاصمہ جہانگیر کو پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کی وفات سے صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی عالمی برادری کا نقصان ہوا ہے۔ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جب کہ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ، ریمن میکسیسے ایوارڈ، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔

آج ہم سب کی آنکھیں عاصمہ جہانگیر کو ڈھونڈ رہی ہیں مگر اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ وہ انسانی حقوق کیلئے نڈر ہو کر لڑیں اور اسی وجہ سے ان کو ہر پاکستانی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے سوائے چند گمراہ لوگوں کے جو ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ان مخصوص لوگوں نے عاصمہ جہانگیر پر بہت سے من گھڑت الزامات لگائے اور انکی وفات کے بعد بھی ایک ٹولے نے ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جو قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔

کسی بھی شخص سے کسی بھی بات پر اختلاف رکھنا بری بات نہیں مگر کسی کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنانا اور جھوٹے الزامات لگانا غیر اخلاقی عمل ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی زندگی میں ہی بے پناہ الزامات کا سامنا کیا یہاں تک کہ انہیں انڈین ایجنٹ جیسے جھوٹے الزامات کو بھی سہنا پڑا مگر وہ بہادر خاتون ہر الزام کا سامنا ہنس کر کرتی رہیں۔ مظلوموں کی آواز عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ پاکستان اور دنیا بھر کے مظلوم لوگوں کے لئے آواز اٹھائی اور کبھی بھی کسی ظالم، جابر یا ڈکٹیٹر کے آگے سر نہیں جھکایا۔

باہمت اور بے باک خاتون عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ انہوں نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے جدوجہد کی۔ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا ججز بحالی تحریک وہ ہمیشہ پیش پیش رہیں۔ 2007 میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کو گھر میں نظربند کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھیں اور اس وقت کے صدر پروز مشرف کے فیصلے کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مزاحمت کی۔ انسانی حقوق کی علمبردار اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube