ہوم   >  بلاگز

پاکستان کو صاف پانی آخر کب ملے گا؟

2 years ago

تحریر: روحیل ورنڈ

اپنی بقاء کے حصول کے لیے صاف پانی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ کسی دہشت گردی سے کم خطرناک نہیں جو ہر سال لاکھوں لوگوں خصوصاً بچوں کی زندگیاں لے لیتا ہے۔ پانی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ معیاری پانی کی بقاء اور صاف پانی کی ترسیل پاکستان کو درپیش چند اہم اور خطرناک مسائل میں سے ایک ہے۔ پاکستان کو اس بات کا احساس ہے کہ پانی کے وافر ذخائر والا یہ ملک اب پانی کے بحران کا شکار ہونے والا ہے۔

مارچ 2017 میں پاکستانی کونسل تحقیق برائے آبی ذخائر (پی سی آر ڈبلیو آر) کی تیار کردہ ایک رپورٹ پر وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی رانا تنویرحسین نے کہا کہ محض پانی کے 72 فیصد ہی حرکت میں ہیں جبکہ 84 فیصد کو پانی کھپت میں استعمال نہیں کیا جارہا۔ مسٹر حسین کے مطابق پنجاب اور سندھ کو 14 پی سی سے پانی مہیا کیا جاتا ہے جس میں بہت زیادہ مقدار آرسنک کی دریافت کی گئی۔ جوکہ خطرناک حد سے بھی زیادہ ہے۔ جولائی 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کو مہیا کیے جانا والے 90 فیصد پانی میں بیکٹیریا اور دیگر جراثیم پائے گئے۔ جسٹس محمد اقبال کلھورو کی سربراہی میں کی جانے والی جانچ پڑتال میں مختلف مقامات سے پانی حاصل کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انتظامیہ سندھ میں صاف پانی کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔ ایک بڑے ترقی یافتہ شہر میں پانی کی معیاری صورتحال دیکھ کر چھوٹے شہروں اور دیہاتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ لوگوں کو مناسب معیاری پانی مہیا کیا جاسکے۔ پانی کی مناسب فراہمی پر قوانین موجود نہیں۔ مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث پانی کی صفائی کے بیشتر یونٹ بند پڑے ہیں۔ وقتاً فوقتاً پانی کی صفائی کے ٹیسٹس اور معائنہ ضروری ہے۔ فیکٹریوں کو بھی پانی کی صفائی میں اپنا کردار ادا فاضل مادوں کو صاف پانی کے ذخائر میں نہ پھینک کر کرنا ہوگا۔

پانی کے عالمی دن پر برطانیہ کے واٹر ایڈ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق محض پاکستان ہی نہیں بلکہ بہت سے ممالک میں صاف پانی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ لاکھ لوگ صاف پانی سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مزید کہا گیا کہ “پاکستان دس ممالک میں شامل جہاں لوگ صاف پانی تک رسائی نہیں رکھتے۔ لہذا غیر محفوظ وسائل سے گندا پانی حاصل کرنا ان کی مجبوری ہے۔”

صاف پانی حاصل نہ ہونے کے باعث لوگ کئی بیماریاں جیسا کہ ڈائیریا، ورم انفیکشنز، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائیٹس میں مبتلا ہیں۔ کچھ بچوں پر ان بیماریوں نے صحت، تعلیمی میدان، اور دماغی صحت پر بھی دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستانی کونسل تحقیق برائے پانی اور وسائل کے مطابق 1000 میں سے 101 بچے خراب پانی کی وجہ سے پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی انتقال کرجاتے ہیں۔ ڈائیریا انفیکشن ہر سال 2 ملین اموات کا سبب ہے۔ ناقص پانی کے باعث بہت سے لوگ اپنے علاج پر خطیر رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

عالمی صحتِ تنظیم کی رپورٹ کے مطابق صرف 36 فیصد آبادی جس میں 41 فیصد شہر جبکہ 32 فیصد دیہاتی صاف پانی تک رسائی رکھتے ہیں۔ 69-85 فیصد تک پانی میں جراثیم پائے گئے جو مختلف بیماریوں کا سبب ہے۔ بنیادی تعلیم، ضروریات جیسا کہ صاف پانی اور مناسب علاج و معالجہ کی تشویشناک صورتحال پریشان کن ہے۔ ان مسائل کی طرف مناسب توجہ محض ” واقعہ کا نوٹس لے لیا گیا ہے” کہہ کر جھٹلا دی جاتی ہے۔ زندگیاں اپنے خاتمے کی نہج پر پہنچ چکی ہیں اور صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
1 hour ago
3 hours ago
3 hours ago
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں