محبت اور ویلنٹائن ڈے،دو متضاد پہلو

Syed Sharjeel Ahmad Qureshi
February 13, 2018

یہ "محبت‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اسی طرح معاشرے میں ہر فرد اس کا متلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت، پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ مگر قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ’’محبت‘‘ کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے۔  جہاں محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے  وہیں ہمارے معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں بھی پیدا ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا منایا جانا ہے۔  ہر سال 14  فروری کو یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

انساٰئیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کے مطابق اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔انسائیکلوپیڈیا بک آف نالج کے مطابق ویلنٹائن ڈے جو14 فروری کو منایا جاتا ہے محبوبوں کے لیے خاص دن ہے۔ بک آف نالج اس واقعہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ’ویلن ٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے خصوصی پروگرام سمیت ایسی تمام خبروں کے نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے جس سے یہ دن منانے کی حوصلہ افزائی ہو اور جو نوجوانوں میں بے راہ روی کا باعث بنیں۔تفصیلات کے مطابق پیمرا نے 14 فروری کو عالمی سطح پرمنائے جانے والے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو اسٹیشن کو خصوصی پروگرام اور اس سے متعلق خبروں کے نشر کرنے سے منع کردیا ہے۔پیمراکی جانب سےجاری کردہ اعلامیہ میں چینل اور ریڈیو اسٹیشن انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے پروگراموں میں ویلنٹائن ڈے کے ذکر سے گریز کریں کیوں کہ اس طرح کے پروگرام مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور نوجوانوں کو بے راہ روی کی جانب ترغیب دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تہوار پیمرا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق بےحیائی، بے راہ روی اور پاکستان کی نوجوان نسل کی اخلاقی قدروں کو برباد کرنے کا باعث بن رہا ہے چنانچہ اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

کیا کبھی کسی عیسائی نے عید الفطر ادا کی، کسی ہندو نے عید الاضحیٰ پر قربانی دی،  کسی ایک یہودی نے ماہ رمضان میں روزہ رکھے ؟۔آپ نے ایسا کبھی نہ دیکھا اور نہ سنا اور یہ حقیقت ہے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تو پھر ہم یہ فرسودہ اور بے ہودہ رسم بحیثیت مسلمان جس کو ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے کیوں منا رہے ہیں؟۔ ہر سال14 فروری کو عالمی یومِ محبت کےطور پر '' ویلنٹائن ڈے'' کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طر ح پھیلتا چلا جارہا ہے ۔ اس د ن جوبھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ دو تین سالوں سے اس دن کے جشن منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے، حالانکہ یہاں کا ماحول یورپ جتنا سازگار نہیں ہے اور آبادی کا معتدبہ حصہ اس دن کی تقاریب کو قبیح مانتا ہے۔یہاں پر ویلنٹائن ڈے کا تصور نوے کی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے مقبول ہوا۔ شہری علاقوں میں اسے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔پھولوں کی فروخت میں کئی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔یہی حال کارڈز کی فروخت کا ہوتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں جو دلائل دئیے جاتے ہیں، اُن کےمطابق ویلنٹائن ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن ہے۔

اب آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والی نئی نسل کی اخلاقی تربیت کریں۔ انھیں حیا باختہ تہواروں کے بارے میں آگاہ کریں کہ ہمارے مذہب اور ہماری معاشرتی اقدار کا تہذیب ہے جو ہمارے صاف ستھرے چہرے کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔حکومت، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے منتظمین و اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں۔ انھیں ان بے ہودہ تہواروں سے لا تعلق رہنے کی تلقین کریں اور ان دنوں ان کی خصوصی نگرانی بھی کریں کہ کہیں وہ شیطان کے جال میں پھنس کر کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھیں۔ یاد رکھیں! اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور تمام ذمہ داران اخلاقیات کے دشمن ان تہواروں سے صرفِ نظر کرتے رہے تو آج مغرب جس صورتِ حال سے دو چار ہے وطنِ عزیز میں اس کے پیدا ہونے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ہماری آبادی کی اکثریت اس آگ کی تپش سے اب تک محفوظ ہے۔ ابھی وقت ہے کہ آگے بڑھ کر چند جھاڑیوں کو لگی آگ کو بجھا دیا جائے، ورنہ یہ آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی…!۔