عمران خان کا مشورہ

Tauqeer Chughtai
February 13, 2018

تحریر: توقیر چغتائی

مسلم لیگ ( ن ) نے لودھراں کے ضمنی انتخاب میں فتح حاصل کی تو عمران خان نے ماضی کی طرح حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا اور نہ ہی کوئی شکایت کی بلکہ ٹوئٹر کے ذریعے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اس شکست کے بعد غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے مزید مضبوطی سے میدان میں آئیں۔سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں کی غلطیوں کوعوام کبھی نہیں بھولتے اور الیکشن کے موقعے پر اس کی سزا کا بھی انتظام کرتے ہیں جو لودھراں کے ضمنی الیکشن سے عیاں ہے۔

عمران خان نے اپنے کارکنوں کوتو غلطیوں سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا ، مگر اپنی اور اپنے سینئر رہ نماؤں کی کسی غلطی کی طرف اشارہ نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاہ محمود قریشی اورجہانگیر ترین سمیت پارٹی کے کسی بھی رہنما سے اب تک کوئی غلطی ہوئی ہے اور نہ آئندہ اس کا امکان ہے۔

اس حلقے میں (ن) لیگ کی کامیابی نے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پر لگائے جانے والے عمران خان کے ان الزامات کی بھی نفی کر دی کہ پاکستان میں خاندانی سیاست مروج ہے اور باپ کے بعد بیٹا یا خاندان کے دوسرے افراد دو پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے ہر بار منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں اور ہمارے ہم خیال دوستوں کا بھی یہی کہنا ہے مگر اس الیکشن میں جہانگیر ترین کا بیٹا جب اپنے باپ کی کھوئی ہوئی سیٹ دوبارہ حاصل نہ کر سکا تو خاندانی سیاست کے اس اعتراض کو بہت بڑاا جھٹکا لگا، لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ منجھے ہوئے مخالف امیدوار کے سامنے جس نوجوان کو میدان میں اتارا گیا اس کا سیاسی اور سماجی تجربہ اس جیت میں کتنا کردار ادا کرسکتا تھا۔

پلوں، بجلی اورموٹر وے کی تعمیر کے بارے میں تقریریں سن سن کر جس طرح عمران خان پریشان ہیں بالکل اسی طرح بہت سارے دوسرے رہ نماؤں کے کان بھی پک چکے ہیں، مگر دیہی علاقوں کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو لوگوں کے دلوں میں وہی امیدوار گھر بناتا ہے جو ان کی کچی گلیوں کوپکا کرنے کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو بھی درست کرے۔ اور ان سڑکوں پر راویتی ٹرانسپورٹ یعنی تانگے اور گدھا گاڑی کے بجائے بسیں بھی چلوائے ،کہ اب میڈیا نے بھولے بھالے دیہاتیوں کو بھی وہ سب کچھ دکھا دیا ہے جو ماضی کے کچھ لوگ ذاتی طور پر ہی جانتے تھے ۔

ہمارے خیال میں اس حلقے سے فتح حاصل کرنے کے بعدجہانگیر ترین صاحب نے دھرنوں پر تو توجہ دی، مگر اپنی سیاسی اور ذاتی مصروفیت کی بنا پر وہ اپنے حلقے کے ترقیاتی کاموں پر کوئی توجہ نہ دے سکے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے حریفوں نے لودھراں کے ووٹروں کو آسانی سے اپنی طرف راغب کر لیا۔

عمران خان نے اپنے کارکنوں کو جو مشورہ دیا ہے وہ ایک پڑھا لکھا اور با شعور رہنما ہی دے سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے مرکزی الیکشن میں چند مہینے رہ گئے ہیں اور غلطیاں اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں درست کرنے کے لیے مہینوں کی نہیں بلکہ برسوں کی ضرورت ہے ۔