ہمارے سرکاری اسپتال یا بھیڑیا چال؟

February 13, 2018

گزشتہ ہفتے اپنے والد کے ساتھ کراچی کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں گئی جہاں ہمیں ڈاکٹرسے معائنے کے لیے 11 واں نمبر ملا، اُس بڑے سرکاری اسپتال میں ہمیں ایک دوسرے سرکاری اسپتال کے بڑے ڈاکٹر نے ہی ریفر کیا تھا کہ آپ وہاں جایئے اوراس ڈاکٹرسے معائنہ کرایئے، اس کے بعد وہ جوبھی دوا دیں گے اس سے افاقہ ہوگا کیونکہ وہ بہت تجربہ کار ہیں، اسی امید کے ساتھ ہم وہاں چلے گئے۔ چاہے ہمارے پاس کام ہوں یا نہ ہوں، ہم فارغ ہوں یا بہت ہی مصروف زندگی گزاررہے ہوں، جب ہمیں ڈاکٹر سے معائنے کے لیے شروع کا نمبر ملتا ہے تو اس خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں ہوتا اوریہ ہی ہوا، معمول کے مطابق جب ہم پرچی بنوا کر او پی ڈی کی جانب گئے تو ہم نے دیکھا کہ اتنی لمبی قطارلیکن جب ہمیں 11 واں نمبر ملا تو اُس سکون کی تو کوئی بات ہی نہیں۔

 

خیر، ڈاکٹرکا وقت 9 بجے سے شروع ہوجاتا ہے، 9 بھی بج گئے، سوا 9 بھی بج گئے اور پھر ساڑھے 9 بھی بج گئے، لیکن ڈاکٹر کے کمرے میں نہ آدم اور نہ ہی آدم کی ذات، اب ایسی کوفت شروع ہوئی کہ وقت گزرنے کا نام نہیں لے رہا اور ساتھ ساتھ ڈاکٹرز بھی آنے کا نام نہیں لے رہے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس کمرے میں صرف ایک ڈاکٹر کو نہیں آنا تھا، بلکہ 3،3 ڈاکٹروں کو 9 بجے ہی آجانا تھا پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ کر کے ایک ڈاکٹرنی صاحبہ آگئیں، پر ہمیں معائنے کے لیے بڑے ڈاکٹر کو دکھانا تھا جو ساڑھے 9 کے کچھ دیر بعد کم وبیش 9 بج کر 40 منٹ پرتیزی سے کمرے میں داخل ہوئے اورپھر سب کے سب الرٹ ہوگئے۔ خیر، اب یہ خوشی کہ ہمارا تو11 واں نمبر پھر کس بات کی فکر ، بس ابھی نمبر آتا ہی ہوگا۔ پھر ایک زوردار آواز لگائی گئی کہ جس سے مریض تو پریشان ہو ہی جائے، اس کے ساتھ آئے ہوئے گھر والے بھی چونک جائیں، اور وہ آواز تھی کہ ( ہاں بھئی کون ہے 1 نمبر، 2 نمبر، 3 نمبر، جلدی جلدی جلدی۔۔۔۔۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ، آگے والوں کو بلا لوں گا پھر دوبارہ پرچی بنوانا ہوگی یا پھرسب سے آخر میں آنا ہوگا) اورسب ایسے کان لگا کر سن رہے تھے کہ انتہائی کوئی اہم اعلان کیا جارہا ہے، خیر ہم سکون سے بیٹھے تھے کیونکہ ہمارا تو 11 واں نمبر تھا ، جب دسواں نمبر آگیا تو ہم بھی الرٹ ہوگئے اور دروازے کے پاس چلے گئے کہ فوری جب ہمارے نمبر کی آواز لگے گی تو ہم بھی جھٹ سے داخل ہوجائیں گے۔

پر مسئلہ یہ ہوا کہ ہمیں بڑے ڈاکٹر کو ہی دکھانا تھا، اور اس کے علاوہ 2 ڈاکٹر اورموجود تھے، اور ان بڑے ڈاکٹر کے انتظار کے چکر میں 30 نمبر والا مریض تک اندر چلا گیا۔ پھر غور سے صورتحال کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ہم تو اندر جانے کا انتظار ہی کر رہے ہیں ، کوئی آتا ہے سوٹ بوٹ میں ، سیدھا اندر جاتا ہے اور بڑے ڈاکٹر کو دکھا دیتا ہے، پھر ایک آتا اور وہ بھی یہ ہی کرتا، اور پورے پورے پروٹوکول سے ساتھ آتے ہیں، اور ہم دروازے پر پاگلوں کی طرح انتطار ہی کر رہے ہیں کہ کب ہمارا نمبر آئے گا۔ پھر صبرکا پیمانہ لبریزہوگیا، اور میں بھی چیخی کہ یہ کیا تماشہ ہے، نمبردینے والے کہ پاس بس اس جملے کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ بس اب آپ کو ہی بھجوں گا اور یہ کہتے کہتے بہت وقت گزر گیا۔ پھر تو چلانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، غصہ تو نکالنا تھا، میں نے کہا یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے آپ نے، بغیر پرچی کے ایک آرہا ہے دکھا کر جارہا ہے، ہم کیا پاگل ہیں ؟؟ چونکہ میں اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک تھی تو اس نے بڑی خاموشی سے کہا کہ (خاموش ہوجائیے، ان لوگوں کو اگر نہیں روکا تو یہ ڈاکٹر کو بھی نہیں چھوڑتے ہیں، ٹرانسفر کروادیتے ہیں، یہ کر دیتے ہیں وہ کردیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔) یا اللہ! ۔۔اللہ اللہ کرکے میں اپنے والد کے ساتھ زبردستی اندر گئی، تو باہر پھر کسی اور نے میری طرح احتجاج کیا تو اُس نمبر دینے والے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں کہ کون سا قانون ، کیسا قانون، کوئی قانون نہیں اس ملک میں، کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔

 

ہم نے ڈاکٹر سے معائنہ کرایا اورہم شکر شکر کر کے گھر آگئے، پرمجھے اس شخص کی وہ بات جو اس نے خاموشی سے کہی کہ (ان لوگوں کو اگر نہیں روکا تو یہ ڈاکٹرکو بھی نہیں چھوڑتے ہیں۔۔۔۔) مجھے تنگ کرتی رہی اور یہ یقین مزید پختہ ہوگیا کہ ہاں یہاں کا نظام توواقعی بہت حد تک بگڑچکا ہے، ہم نیچے والوں کوکیا کہیں یہاں توپورے کا پورا آوا  بگڑا ہوا ہے۔ توکیسے ملک ٹھیک ہوگا، لوگ کیسے سدھریں گے، معلوم نہیں۔ یہ ملک اور اس کا نظام جب تک ٹھیک نہیں ہوسکتا جب تک پرچی سسٹم کو پیچھے دکھیل کر میرٹ اور محنت کو آگے نہ کیا جائے اور افسوس کہ یہ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا اور جو لوگ واقعی نظام کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں کھینچ کر پیچھے کردیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ نئے نئے آئے ہوکیا، سیدھے بیٹھو سیدھے، آپ کھاؤ پیڑ نہ گنو۔