پنجاب اور کے پی کے پولیس،،، فرق کیا ہے؟

February 13, 2018

تحریر: شاہد کاظمی

تحریر کے عنوان سے نہ تو اس مغالطے میں جانے کی کوئی ضرورت ہے کہ راقم الحروف کسی سیاسی جماعت کا کوئی کارندہ ہے، نہ ہی اس سوچ کو اپنے ذہن میں جگہ دینے کی کوئی تک بنتی ہے کہ یہ تحریر کسی ذاتی بغض، عناد یا نفرت کی بنیاد پہ سامنے آ رہی ہے۔ ایک ادنیٰ سے صحافت کے طالبعلم کی ادنیٰ سی کوشش ہے کچھ مسائل اُجاگر کرنے کی۔ انفرادی سے لے کر اجتماعی سوچ اس ایک نقطے پہ متفق ہے کہ پاکستان کے ادارے نہ صرف تباہی کی طرف جا رہے ہیں بلکہ ان میں بہتری کی کوئی سبیل بھی نہیں ہو پارہی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اداروں کی زبوں حالی نوشتہء دیوار بنتی جا رہی ہے۔ جو قابل افسوس ہے۔

پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں دو ایک جیسے کیس پچھلے دنوں رونما ہوئے۔ دونوں میں ہی ننھی کلیاں مسلی گئیں۔ اور اس برے طریقے سے مسلی گئیں کہ ہر آنکھ نم ہو گئی ۔ ان دونوں کیسز میں بہت سے پہلو مشترک تھے۔ دونوں واقعات میں ہی معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا گیا، دونوں واقعات میں قاتل نامعلوم تھا، دونوں بچیوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ 4جنوری کو زینب لاپتہ ہوئی، جب کہ 9جنوری کو اس کی لاش کوڑے کے ایک ڈھیر سے برآمد ہوئی۔ 23جنوری 2018 کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک پر ہجوم کانفرنس میں قاتل کے پکڑے جانے کا اعلان کر دیا۔ یعنی پندرہ دن میں یہ کیس حل کر لیا گیا۔ اور گمشدگی کو بھی شامل کیا جائے تو بیس دن میں کیس حل ہو گیا۔ دوسری جانب مردان کی چار سالہ اسماء قتل کیس کو خیبر پختونخواہ کی پولیس نے 25دنوں میں تقریباً حل کیا ۔ 13جنوری کو بچی لاپتا ہوئی، 14جنوری کو گنے کے کھیتوں سے لاش ملی، اور 6فروری کو الیکٹرانک میڈیا پہ خبریں گردش میں تھیں کہ قاتل گرفت میں آ چکا ہے۔

اب نگاہ دوڑائیے کہ کہاں پہ ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور کہاں ادارے اب بھی قید پرندے کی طرح ہیں۔ قصور قتل کیس جیسے ہی سوشل میڈیا کی طرف سے سامنے آیا۔ تمام سیاسی قیادت پنجاب کی حرکت میں آ گئی ۔ مقتولہ کے گھر کے دورے شروع ہو گئے۔ پولیس کے پاس واضح سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تھی (جو خود مقتولہ کے رشتہ داروں نے مہیا کی اور شنید ہے کہ مشکوک فرد کا بھی لواحقین نے ہی بتایا)۔ اس کے باوجود پولیس ٹامک ٹوئیاں مارتی رہی۔ مشتبہ فرد کے ایک سے زائد خاکے زیر گردش ہو گئے۔ (خاندان کی) کوششوں کی وجہ سے ہی مرکزی کردار پھر گرفت میں آیا اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا۔ حیران کن طور پر اُس نے سابقہ ایسے ہی جرائم کا بھی اقرار کیا۔ جس میں ماضی میں ایسے ہی ایک جرم کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے۔ کیس کا مرکزی کردار پکڑا گیا، اب یہاں پولیس بیک گراؤنڈ میں چلی گئی ۔جس کی ذمہ داری تھی اُس کے بجائے صوبے کے وزیر اعلیٰ بھاگم بھاگ پہنچے۔ پریس کانفرنس کا انتظام ہوا اور بھری پریس کانفرنس میں قہقو ں کی گونج میں قاتل پکڑے جانے کی خوشخبری سنا دی گئی ۔ اور نئے ڈی پی او کو انگلی کے اشارے سے دور ہجوم میں کھڑا کرایا گیا تا کہ اُن کی رونمائی ہو سکے ۔ اور کریڈٹ سارا لیا گیا کہ انتظامیہ، پولیس یا دیگر اداروں نے قاتل پکڑا ہے جب کہ ایک مشہور لکھاری پہلے ہی اس راز سے پردہ اُٹھا چکے ہیں کہ قاتل خاندان کی کوششوں سے پکڑا گیا ۔ دوسری جانب مردان میں اسماء قتل کیس، نہ سی سی ٹی وی فوٹیج ، نہ ہی کسی قسم کے آثار ، گھنے کھیت، اور ایک لاش ، نہ ہی فرانزک لیب (کوئی دو رائے نہیں کہ یہ لیب نہ بنانا صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے) ۔ لیکن کھیت میں ایک گنے پہ خون کے ایک قطرے سے خیبر پختونخواہ کی پولیس نے ہمت باندھی ۔ نہ معطلی ، تبادلے کا سین چلا۔ آہستہ آہستہ کاروائی آگے بڑھنے لگی ۔ خون کے ایک قطرے سے شروع ہونے والی کاروائی سے 6فروری کو قاتل کے پکڑے جانے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس موقع پر نہ تو صوبائی سیاستدانوں کے دورے ہوئے، نہ پریس کانفرنس سجائی گئی ، نہ ہی مائیک توڑ خطابت ہوئے، نہ ہی ہجوم میں ڈی پی او کو کھڑا گیا۔ جس کی ذمہ داری تھی اُسی پولیس افسر نے کیس حل ہونے کی خبر میڈیا کو بتا دی۔7فروری کو آئی جی خیبر پختوانخواہ صلاح الدین محسود اور آر پی اور مردان ڈاکٹر میاں سعید نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔

اب ان دونوں کیسز کا جائزہ لیجیے۔ اور خود فیصلہ کیجیے۔ ایک جانب پورے کیس میں پولیس کا کردار کسی جگہ نظر نہیں آیا۔ ہر معاملے میں سیاستدان چھائے رہے جب کہ ذمہ داری پولیس کی تھی ۔ اور خود خاندان کا دعویٰ ہے کہ قاتل پکڑنے میں تمام کردار خاندان کا تھا ،نہ کے پولیس کا (سی سی ٹی وی فوٹیج، مشکوک بندے کی نشاندہی )۔ دوسری جانب پولیس کے پاس سوائے گنے کے چھلکے پہ خون کے ایک قطرے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن اس کے باجودپولیس نے ہمت نہیں ہاری اور مخالفین کے بیانات پہ بھی توجہ نہیں دی۔ لوگ طعنے بھی دیتے رہے کہ ہم نے قاتل پکڑ لیے آپ نے نہیں پکڑے مگر کسی طرح کا کوئی بیان دینے کے بجائے کام میں جتے رہنے سے خیبرپخوانخواہ نے قاتل پکڑا اور پولیس افسران نے اعلان کر دیا۔ نہ وزیر اعلیٰ نظر آئے، نہ پارٹی چیئرمین ، نہ کوئی سینئر وزیر، نہ اہل خانہ کے ساتھ پریس کانفرنس۔

تو اب قارئین سے گذارش ہے دونوں واقعات بھی سامنے ہیں، حل ہونا بھی سامنے ہے، اور حل ہونے کے بعد ردعمل بھی سامنے ہے ، فیصلہ خود کیجیے کہ کہاں تبدیلی آئی اور کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنوز دَلی دوراَست

  Email This Post

 

:ٹیگز


 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.