ضمنی انتخاب این اے 154، مقابلہ دوموروثی سیاستدانوں میں

February 12, 2018

پانامہ لیکس کیس میں سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد لاہورکے حلقہ این اے 120 سے نااہل وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کامیاب ہوئیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے نتیجے میں جہانگیر ترین الیکشن کمیشن میں مکمل اثاثے ظاہر نا کرنے پر نااہل ہوئے۔ جس کے بعد 12 فروری کو حلقہ این اے 154 لودھراں 1 میں ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے۔

یہ ضمنی انتخاب اس حیثیت میں بھی منفرد ہوگا کہ منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی کی مدت، حکومت کی مدت 31 مئی کو ختم ہونے کی وجہ سے ساڈھے تین ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔

اس ضمنی انتخاب کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ایک ہی حکومتی مدت میں جنوبی پنجاب کے اس حلقے میں تیسری بار انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ جن کی اہمیت اس بار وہ تو نہیں جو کہ صدیق خان بلوچ کے نااہل ہونے کے بعد دسمبر 2015 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کی تھی۔ جسمیں جہانگیر ترین نے نواز لیگ کے امیدوار صدیق خان بلوچ کو تقریباً 38 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔

لودھراں کے حلقے این اے 154 میں مظبوط سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے صدیق خان بلوچ کی حیران کن کامیابی یہ بھی رہی ہے کہ انھوں نے 2013 کے عام انتخابات میں بحیثیت آزاد امیدوار حصّہ لیا اور تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر ترین کو تقریباً 10 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ تاہم حکومتی تشکیل کے وقت ن لیگ میں شامل ہوگئے۔

الیکشن ٹربیونل کی طرف سے الیکشن کمیشن میں جعلی ڈگری ظاہر کرنے پر نااہل ہونے والے صدیق خان بلوچ نے دسمبر 2015 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں نواز لیگ کی ٹکٹ پر حصّہ لیا۔ جس میں تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر ترین نے 138719 ووٹ حاصل کئے۔ جبکہ نواز لیگ کے صدیق خان بلوچ 99933 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد ہونے والے ضمنی انتخاب میں حلقے میں ماحول نا تو اس طرح سے گرم ہے۔ جیسا دسمبر 2015 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے وقت تھا اور نا ہی میڈیا ابھی تک اس ضمنی انتخاب کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ جس کی یقینی وجہ موجودہ حکومت کی کم رہ جانے والی مدت ہے۔ جس کے بعد عام انتخابات کا میدان سجے گا۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس ضمنی انتخابات میں جیتنے والا ہی اگلے عام انتخابات میں لودھراں کے اس حلقے سے جیتے گا۔ لیکن اگر انتخابی تاریخ اور موجودہ سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو اس ضمنی انتخاب کی بنیاد پر اگلے عام انتخابات کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ کیونکہ ان ضمنی انتخاب کا انعقاد صرف اور صرف آئینی قدغن کو پورا کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ وگرنہ آئین کے مطابق اگر اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے میں 120 سے کم دن رہ جائیں تو ضمنی انتخاب نہیں کروائے جاتے۔ لیکن چونکہ جس وقت سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل کیا۔ اس وقت حکومت کی مدت مکمل ہونے میں 120 دنوں سے زیادہ تھے۔ اس لئے ضمنی انتخاب کا انعقاد لازمی تھا۔

اس ضمنی انتخاب میں عمران خان کی طرف سے جو کہ موروثی سیاست کے مخالف ہیں۔ جہانگیر ترین کے صاحبزداے کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔ جو کہ عمران خان کے بہت سارے دیگر دعووں کے متضاد ہے۔

میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق نواز لیگ کی طرف سے اس حلقے سے صدیق خان بلوچ کے صاحبزادے عمیر بلوچ کو ٹکٹ دیا جانا تھا۔ لیکن آخر میں پیر اقبال شاہ کو ٹکٹ دیا گیا۔ جو کہ پنجاب کی صوبائی نشست پی پی 207 لودھراں 1 پر کامیاب ہونے والے پیر اقبال شاہ کے والد ہیں۔

نواز لیگ اور تحریک انصاف کے علاوہ اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرزا علی بیگ اور تحریک لبیک پاکستان کے اظہر سندیلا بھی ضمنی النتخاب میں حصّہ لیں گے۔

ضمنی انتخاب میں لڑنے والے 14 امیدواروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اصل مقابلہ نواز لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا۔ ماضی قریب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج دیکھے جائیں تو لگتا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان بھی خاطر خواہ ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ جس کا نقصان ممکنہ طور پر نواز لیگ کو ہوسکتا ہے۔