مجھے کوئی فکرنہیں ۔۔۔

Nasir Farooq
February 12, 2018
 

وہ جٓرم کیلئے جُرم کے جواز پربہت پراعتماد تھا۔ زوربیان جوش ماررہا تھا۔۔۔ مجھ سے کہنے لگا، ''مانا میں بہت بڑا مجرم ہوں۔ میری زندگی بے شمارمالی اور اخلاقی جرائم سے عبارت ہے۔ مگرمیں بےفکرہوں۔ مجھے پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ کیونکہ میں ایک سیاستدان میں ہوں۔ کیونکہ میں ایک بیوروکریٹ میں ہوں۔ کیونکہ میں ایک فوجی میں ہوں۔ کیونکہ میں ایک جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار، اورقانون دان میں ہوں۔ یہ سب میرے جرائم کا قابل قدرجواز ہیں۔

کون ہے جومجھ سے حساب کرسکے؟ کون ہے جو مجھے گرفتار کرسکے؟ ایسا کچھ پہلے ہوا ہے؟ ماضی بعید میں نہ جائیں۔ پرویزمشرف اور ق لیگ کا ہی تذکرہ کرلیں۔ یہ مثالیں میرا جواز ہیں۔ یہ سب احتساب سے آزاد ہیں۔ یہ پھربہت مقتدرلوگ ہیں۔ پولیس افسرراؤ انوارکولے لیجئے، جس نے نہ جانے کتنے گھرانے اجاڑے، اورپھرملزم بنا دودن کراچی سے اسلام آباد دندناتا رہا۔ یہ بھی چھوڑئیے، حالیہ تاریخ کا المناک سانحہ بلدیہ فیکٹری لے لیجئے، کتنے خاندان راکھ ہوگئے، کتنے خواب خاک ہوگئے، کتنے انسان فنا ہوگئے! ان ہولناک جرائم کے مرتکب مجرم سزا سے محفوظ ہیں۔ یہی میرے جرم کا جواز ہیں۔ مجھے کوئی فکرنہیں ـ

 

''میرے جرائم جنگل کی آگ کوکچرے کی آگ دکھانا ہے۔ میں نے محض منی لاڈرنگ ہی کی ہے، کسی ماں کا لخت جگرنہیں چھینا۔ میں نے بیرون ملک دولت کے پہاڑہی کھڑے کیے ہیں، کسی گھرانے پرغم کا پہاڑنہیں توڑے۔ میں نے محض محلات تعمیرکیے ہیں، مزدورخاندانوں کوشعلوں کی نذرنہیں کیا ہے۔ میں نے محض صوبائیت کا نعرہ ہی لگایا ہے، وطن پاک کے ٹکڑے نہیں کیے ہیں۔ بڑے بڑے جرائم پربڑے بڑے مجرم نہ پکڑے جاسکے، میں توپھرناجائز دھن دولت جیسے چھوٹے جرائم کا ملزم ہوں۔ یہ بڑے بڑے مجرم جب تک نہیں پکڑے جاتے، مجھے حراست میں لینے کا جوازموجود نہیں۔ یہی میرے ُجرم کا جواز ہیں۔ یہ سب میری کمیں گاہیں ہیں۔ مجھے کوئی فکرنہیں'' ۔

جُرم کے اس جوازپروہ آئین وقانون کے پرزے اڑا رہاتھا۔ عدل کے امکان پروہ یوں گویا ہوا، ''اگرمجھ سے میرے جرٕائم پراحتساب کرنا ہے، گرفتارکرنا ہے، زنداں کی نذرکرنا ہے۔ پہلے شروع سے شروع کرنا ہوگا۔ آمروں سے حساب کرنا ہوگا۔ نظریہ ضرورت کوکٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔ کراچی کے ہزاروں مقتولوں کے قاتلوں تک پہنچنا ہوگا، انہیں سزا تک پہنچانا ہوگا۔ اگرمجھے گرفت میں لینا ہے۔ پہلے پرویزمشرف کوگرفتارکرنا ہوگا۔ اگرمجھے حراست میں لینا ہے۔ پہلے راؤ انوارسے معصوم جوانوں پرسلگتے سوال اٹھاؤ۔ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کوسزا دلواؤ۔ اُس کے وڈیوریکارڈ بیان میں موجود بڑے بڑے مجرموں کے گریبانوں پرہاتھ ڈال کردکھاؤ۔ میں ان سب کا حصہ ہوں۔ مجھے ان سے الگ کرنا ممکن نہہں۔ اس لیے کہتا ہوں، مجھے پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اس لیے مجھے کوئی فکرنہیں'' ۔

اُس نے دلیل کا دائرہ وسیع کیا، جرم کے بعد جمہوریت کوجوازبناکربیان کیا۔ دعٰوی کیا کہ '' مذکورہ کردارہی صرف میری کمیں گاہیں نہیں ہیں۔ میں عوام کے دل میں بستا ہوں۔ جہاں جاتا ہوں جمہور امڈ آتے ہیں۔ میرے اس جوازپرسردُھنتے ہیں۔ میرے جرائم پربالکل جزبز نہیں ہوتے''۔

اب وہ پارلیمان کا ذکرکررہاتھا، کہنے لگا ''میں اس پارلیمان میں کمیں گاہ بناچکا ہوں۔ کیونکہ یہاں کوئی صادق وامین نہیں۔ لے دے کربیچارہ سراج الحق ہے، سونقارخانے میں طوطی کی سنتا کون ہے؟ کون ہے یہاں جوآئین کے معیارپرپورا توکیا آدھا بلکہ سوا بھی اترتا ہو؟ باسٹھ تریسٹھ سے عاری یہ پارلیمان میرا جواز ہے۔ میرے جرم کے یہاں جواز جا بہ جا ہیں۔ تم سن سن کر تھک جاؤگے، جواز ختم نہ ہوں گے۔ اس لیے مجھے کوئی فکرنہیں''۔

وہ چپ ہوچکا تھا۔ میں نے چند سوالوں کے ساتھ سراٹھایا۔ استفسارکیا۔

کیا جرم کیلئے جرم جواز بنایا جاسکتا ہے؟ اگرایسا ہوسکتا ہے، توپھرجرم کا راستہ کیسے روکا جائے گا؟

کیا ہرچھوٹا مجرم بڑے مجرم میں پناہ لیتا رہے گا؟ کیا ہر بڑا مجرم بڑے جرم سے جواز تراشتا رہے گا؟ کیا احتساب کہیں سے شروع نہ ہوگا؟ کیا ارکان پارلیمان کا انتخاب دیانت پرنہیں ہوسکتا؟ کیا جرائم پر جمہور کا جوازیوں ہی قائم رہے گا؟ ۔

یہ کیسی پارلیمان ہے؟ جو جھوٹے آئین شکنوں کی کمیں گاہ ہے؟ کیا دنیا مہیں کہیں پارلیمان کا یہی معیار یہی پیمانہ ہے؟ کیا چین روس امریکا کہیں امیدوار انتخاب کا یہ معیار ہے؟؟؟ ۔

میرے سوال ہانپنے لگے تھے۔

وہ مسکرایا، آہستہ سے سرگوشی میں کہنے لگا، ''جب تک تمہارے سوالوں کو جواب ملے گا۔۔۔ میرے جرائم کا جواز قائم ودائم رہے گا۔۔۔ اس لیے مجھے کوئی فکر نہیں''۔