ہوم   > بلاگز

فاٹا انضمام اور اقلیتوں کی رائے

SAMAA | - Posted: Feb 10, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 10, 2018 | Last Updated: 2 years ago

****تحریر : محمد فہیم ****

وفاقی حکومت نے مشیر وزیر اعظم برائے سرتاج عزیز کی سربراہی میں نومبر2015میں ایک کمیٹی قائم کی جس نے فاٹا میں اصلاحات کی تیاری کے لئے تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کئے اور قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔ کمیٹی نے انہی قبائلی عمائدین کی مرضی کے مطابق فاٹا اصلاحات ترتیب دئے جو آج تک نافذ نہیں کئے جا سکے۔فاٹا اصلاحات کی تیاری کے دوران فاٹا میں بسنے والی ایک خاص برادری کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا اور آج تک ان کی مرضی جاننے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ہے۔ایک اندازے کے مطابق فاٹا کی تمام ایجنسیوں میں تقریبا 50ہزار سے زائد اقلیتی برادری رہائش پزیر ہے ان اقلیتوں کو پہلی مرتبہ حقوق ملنا 2015 سے شروع ہوئے جب خیبر ایجنسی میں 10اقلیتی شہریوں کو قبائلی ملک کا درجہ دیا ڈومیسائل کے اجراءاور مسیحی خواتین کو نوکریاں دینے کے جو فیصلے کئے گئے وہ بے شک قابل ستائش ہیں تاہم فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے آج تک ان اقلیتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کا گلہ وہ خود بھی کرتے ہیں ۔


پاکستان مینارٹی الائنس فاٹا کے صدر ملک ارشد مسیح نے کہا کہ آج تک فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے نہ تو وفاقی حکومت نے مذہبی اقلیتی برادری کی رائے لینے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی کسی بھی سیاسی جماعت نے ان سے رابطہ کیا ہے اقلیتی برادری کا بھی فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ اکثریت کا ہے۔ارشد مسیح خود فاٹا کے الگ صوبے کے حق میں ہیں ان کے مطابق علیحدہ صوبہ ہی فاٹا کے عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔


فاٹا،خیبر پختونخوا اور پاکستان بھر میں آج بھی خواتین اس بات کی جنگ لڑ رہی ہیں کہ انہیں جینے کا حق برابری کی بنیاد پر دیا جائے اسی طرح خواتین کو بھی مقامی،ملکی اور غیر ملکی فیصلوں میں رائے دینے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ملکی صورتحال میں تو پھر بھی کسی نہ کسی حد تک خواتین کی رائے لی جا رہی ہے تاہم فاٹا کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں کی خواتین سے آج تک فاٹا کے مستقبل کا نہیں پوچھا گیا ہے۔

کرم ایجنسی میں اقلیتی برادری کی رہنما اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی مالا کماری کے مطابق فاٹا میں بسنے والی خواتین کو کبھی انسان ہی نہیں سمجھا گیا خواتین کے ساتھ جو ظلم اور زیادتی کی جاتی ہے اس کا آج تک کوئی پوچھنے والا بھی پیدا نہیں ہوا ایسے میں فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے لئے جانے والے بڑے فیصلے میں خواتین کی رائے صرف ایک خواب ہے۔مالا کماری بھی فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانا چاہتی ہیں ان کے مطابق بیوروکریسی سمیت دیگر تمام تعلیمی،سماجی اور سیاسی میدانوں میں اقلیتوں کی نمائندگی سامنے آ سکے خیبر پختونخوا میں انضمام کے ساتھ فاٹا کے نوجوانوں اور خواتین کو وہی مواقع میسر ہوں گے جو آج ہیں ان میں اضافے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہوگی۔


فاٹا کے نوجوان بھی اپنی رائے دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی سنے گا کون؟نوجوان سکھ رہنما بابا گورپال سنگھ کے مطابق حکومت نے ویسے بھی اقلیتوں کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں کرناتھا تاہم اقلیتوں کو مشاورتی عمل میں شامل کرنا بھی سکھوں،مسیحیوں اور ہندوﺅں کیلئے ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی۔ بابا گورپال سنگھ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میں ہیں ان کے مطابق حکومت فی الفور فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضام کرے فاٹا کے عوام نے کبھی بھی خود کو علیحدہ محسوس نہیں کیا ہے۔فاٹا میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد جب قبائلیوں پر برا وقت آیا تو یہی خیبر پختونخوا کے عوام تھے جنہوں نے ہمیں سینے سے لگایا آئی ڈی پی ہونے کے باوجود ہمیں کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیا گیا اگر دونوں اکٹھے ہو گئے تو فائدہ یہاں کی عوام کو ہو گا۔  سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube