Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

جہیز ایک لعنت

SAMAA | - Posted: Feb 9, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 9, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نازیہ فہیم

بیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا سامان (مطالبہ پر ہو یا بلا مطالبہ کے) جہیز کہلاتا ہے۔ مثلاً: اوڑھنا، بچھونا، برتن، کرسی و دیگر ساز و سامان وغیرہ۔ جہیز ایک لعنت ہے یہ تو ہم بچپن سے ہی سنتے آ رہے ہیں مگر اس لعنت کے خاتمے کے لئے کوئی تیار نہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔

ہزاروں بہن بیٹیاں اس لئے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کیونکہ انکے والدین کے پاس جہیز دینے کے لئے پیسے نہیں ہوتے۔ جہیز دینے کی رسم پرانے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے لیکن عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت کی شکل اختیار کر لی ۔

جہیز دینا بری بات نہیں، والدین اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق جو اپنی بیٹی کو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور وہی لڑکے والوں کو قبول بھی کرنا چاہئے۔ جہیز کو لعنت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اکثر لڑکے والے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کرتے تھے جو غیر اخلاقی، انتہائی نامناسب اور بہت بری بات ہے۔ بہت سے خاندان لڑکی والوں سے جہیز میں گاڑی، موٹرسائیکل یا قیمتی اشیاء کی ڈیمانڈ کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ لڑکی والوں کی معاشی حیثیت کمزور ہے اور پھر رشتوں کی خاطر لڑکی کے بھائی یا والد لڑکے والوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔

جہیز کے مطالبہ کو پورا کرنے کیلئے آج کتنے ہی گھر اجڑ چکے ہیں۔ لڑکی کی پیدائش جو کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے۔ اس کو اس مطالبے نے بدبختی میں تبدیل کر دیا ہے۔

میرا لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ جہاں سے جہیز کا مطالبہ ہو وہاں شادی نا کریں، کیونکہ جو لوگ گاڑی، فریج، اے سی دیکھتے ہیں وہ لوگ رشتوں کی قدر نہیں کرتے اور نا ہی ایسے لوگوں کے نزدیک رشتوں کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ رشتہ وہی کریں جہاں آپ کی قدر ہو ناکہ آپ کے جہیز کی۔

میں حیران ہوں کہ ایک باپ اپنی بیٹی اپنے جگر کا ٹکڑا کسی کو سونپ رہا ہوتا ہے جو ایک باپ کی کل کائنات ہوتی ہے اس کے باوجود لوگ اسے چیزوں میں تولتے ہیں۔ ایک باپ اپنی زندگی کی انمول دولت اپنی بیٹی تمہارے حوالے کر رہا ہے جو آگے چل کر تمہارا خاندان چلائے گی مگر تم اس کے باوجود گاڑی، فریج، موٹرسائیکل وغیرہ کو اہمیت دیتے ہو؟ افسوس ہے ایسے لوگوں پر اور ایسے لوگوں پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

اگر جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہو جائے اور شادیاں سستی ہوجائیں تو کئی نوجوان بچیوں کے چہرے ان گنت خدشات سے پاک ہوجائیں گے اور غریب والدین ان داخلی زنجیروں اور فرسودہ رسموں کے طوق سے آزاد ہو کر اپنے فرائض کو باآسانی ادا کرسکیں گے۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube