ہوم   >  بلاگز

جنسی استحصال اور ٹوٹی ہوئی ہڈیاں

2 years ago

معمول کے بڑھتے تباہ کن سانحات اور واقعات نے ہمیں معاشرے سے بے حس کردیا ہے۔ زینب کی خبر دیکھ کر کسی بھی انسان جس میں ایک اونس بھی انسانیت باقی ہو اپنے اندر ایک درد محسوس کرسکتا تھا۔ کچرے کے ڈھیر پر بےیارومددگار سات سالہ بچی کی لاش نے عوام میں سوئی ہوئی انسانیت کو جگایا اور ہم سب کے جذبات وہی تھے جو دو سال پہلے قصور میں ہونے والی بچوں سے زیادتی کے وقت تھے۔ پچھلے واقعات نے یہ ہمیں باور کرادیا کہ ہمارے بچے اس معاشرے میں غیر محفوظ ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے زینب کے واقعہ نے ہمیں یہ یقین دلادیا کہ ہم حالات کو بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔

بچوں کا جنسی استحصال نہ صرف قومی بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔جنسی استحصال کےبڑھتے واقعات انفرادیت،خاندانوں اور حتیٰ کہ پورے معاشرےکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ تاہم قوانین کی کمی اور زیادتی کا شکار ہونے والے فرد کی بحالی کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال پریشان کن ہے۔ غیر حکومتی ادارے ساحل کی تحقیق کے مطابق پورے ملک سے روزانہ کم از کم 11 واقعات بچوں سے زیادتی کے رپورٹ کیے جاتے ہیں۔

جنسی استحصال زخموں اور ٹوٹی ہڈیوں  سے کہیں زیادہ ہے۔ جسمانی تشدد اپنے نشان چھوڑ جانے کی وجہ سے زیادہ توجہ کا مرکز ہوتا ہے تاہم اپنے بچوں کی ضروریات پر توجہ نہ دینا انہیں غیر ضروری محسوس کروانا بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم کوئی بھی زیادتی نہایت نقصان دہ ہے۔
پاکستان میں پچھلے 70 سالوں میں 22528 بچوں کو زیادتی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ گزشتہ چند سالوں میں زیادتی کے ان واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق پچھلے ساڑھے سات سالوں میں 2017 سے 2010 کے درمیان ان واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ محض 2010 میں ہی 2252 ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے۔ 2011 میں مزید 2303 واقعات دیکھنے میں آئے۔ 2012 میں بھی 2788 واقعات کی شکایات موصول ہوئیں۔ 2013 میں ان ہندسوں میں 3002 تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2014 میں واضح اضافہ 3508 کا دیکھا گیا۔ 2015 میں ان واقعات میں 3768 کا اضافہ ہوا۔ جبکہ 2016 میں 4139 کی واضح شکایات میں اضافہ ہوا۔ سال 2017کے پہلے چھ مہینوں میں ہی 768 زیادتی کے واقعات ہوئے۔ ایک سماجی آگاہی ادارے آہنگ کی رپورٹ کے مطابق 47 فیصد واقعات میں بچوں سے زیادتی ان کے قریبی رشتہ دار کرتے ہیں۔ 43 فیصد میں بچوں سے بدفعلی میں انکے جاننے والے جبکہ سات فیصد میں اجنبی اس گھناؤنے جرم کی وجہ ہوتے ہیں۔

یہی وقت ہے جب ہمیں اپنے بچوں میں آگاہی لانی ہوگی۔ پاکستان کا شہری ہونے کی وجہ سے یہ میری اشد خواہش ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سنجیدہ ہوں۔کیونکہ کسی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے محض چند سیکنڈز ہی کافی ہیں۔تاہم والدین کی ہوشیاری اور سنجیدگی سے کئی زندگیاں بچائی جاسکیں گی اور ان کو بہتر مستقبل دیا جاسکے گا۔ بچوں کا جنسی استحصال روکا جاسکتا ہے۔ مناسب اقدامات کر کے ہم اپنے بچوں کو بچا جاسکتے ہیں۔ اس کے لیے یقین دہانی کرنی ہوگی کہ بچے جہاں اپناوقت گزارتے ہیں آیاکہ وہ محفوظ ہے یا نہیں۔ چند اقدامات سے ہم اپنے بچوں کو درپیش خطرات سے بچا سکتے ہیں۔ متحد ہو کر ہم اس لعنت کے خلاف آواز بلند کرسکتے ہیں اور اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔

باہر جاتے ہوئےاپنے بچوں کوہمیشہ اپنے ساتھ لے کے جائیں یا اگر آپ نہ جاسکیں تو خاندان کے کسی بااعتماد شخص کو بچوں کے ہمراہ بھیجیں۔ اپنے بچوں کو ہمسائیوں یا کسی اجنبی کے گھر نہ بھیجیں۔ اپنے بچوں کو ملازموں کے ہمراہ گھر میں اکیلا مت چھوڑیں۔ حفاظتی تدابیر کے تحت اپنے ملازموں کی تفصیلات قریبی پولیس اسٹیشن میں جمع کروائیں۔ اگر آپ کوکسی بچے سے بدفعلی کا علم ہو تو قریبی تھانے میں رپورٹ درج کروائیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں