فیس بُک کی عجیب دنیا

SAMAA | - Posted: Feb 3, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Feb 3, 2018 | Last Updated: 3 years ago

تحریر: شکیلہ شیخ

فیس بُک کی دنیا بڑی عجیب اور نرالی ہے۔ فیس بُک اس وقت سب سے زیادہ استعمال کی جانی والی سوشل ویب سائٹ ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے باآسانی سے رابطے میں رہ سکتے ہیں یعنی پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز وغیر ہ شیئر کر سکتے ہیں۔ فیس بُک ویب سائٹ 4 فروری 2004 کو متعارف کروائی گئی بہت ہی کم عرصے میں فیس بُک ویب سائٹ سوشل میڈیا پر مشہور ترین ویب سائٹ بن گئی۔ پہلے لوگ خبروں کیلئے اخبار پڑھتے تھے یا ریڈیو سنتے تھے یا پھر ٹی وی دیکھتے تھے لیکن اب آپ کو ہر خبر فیس بُک کے ذریعے مل جاتی ہے۔

ما ہرین کے مطابق انٹرنیٹ دنیا بھر میں ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے مقابلے میں خبروں تک رسائی کا بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے خبروں تک پہنچے میں 29فی صد سے 47 فی صد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق موبائل آلات اور سماجی نیٹ ورک سائٹ آن لائن نیوز کے پھیلاؤ کو بڑھا رہی ہیں اور ان کی تصویر اور ویڈیو شیئر کرکے ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ کرتا ہے۔ سیاست سے لے کر شوبزنس تک اور تو اور گھروں کے اندر کی بھی خاص خبر اب فیس بُک پر ہی ملتی ہیں۔ پہلے لوگ مرنے یا پیدائش کی اطلا ع فون کر کے دیتے تھے، اب فیس بُک پر ایک اسٹیٹس لگا کر دیتے ہیں اور دلچسپ بات تو یہ ہے اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ڈاکٹر کے پاس بعد میں جاتا ہے۔ پہلے فیس بُک پر اسٹیٹس لگاتا ہے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ اور ایک ایسا آلہ ہے جو لوگوں کی رائے ان کے خیالات کا اظہار کرنے، خیالات کا تبادلہ کرنے کے کام آتا ہے۔ اب تو لوگ اپنے جذبات کا اظہار بھی فیس بُک پر کرتے ہیں۔ فیس بک پر بھیجے جانے والا پیغام کس جذبے کی شاخ سے اڑان بھرتا ہے اور کس شعور کی ٹہنی پر اُترتا ہے، یہی بات اس کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہے کوئی خوش ہو جاتا ہے تو کسی کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ حال میں پیش آیا۔ ایک بہت ہی مشہور خاتون شرمین عبید چنائی کی بہن ہسپتال گئی تھیں وہاں ایک ڈاکٹر نے انہیں دیکھا اور پھر اس ڈاکٹر صاحب نے شرمین کی بہن کو فیس بک پر فرینڈشپ کا پیغام بھیجا۔ اس پر شرمین عبید چنائی نے ہسپتال والوں سے سخت شکایت کی۔ اتنی سخت کہ انتظامیہ نے ڈاکٹر کو ہی برطرف کردیا اور ڈاکٹر صاحب اپنا ٹوٹا دل لے کر اپنے گھر بیٹھے ہیں اور اس بات کو لے کر فیس بُک پر ایسی دھما چوکڑی مچائی گئی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ہر چیز کا ایک مثبت اور منفی پہلو ہوتا ہے۔ اسی طرح فیس بُک کا بھی یہاں پر روزانہ فرینڈ بنانے کے خواہشمندوں کی جانب سے فرینڈ ریکویسٹ ملتی ہے اور ہم کئی بار انھیں اپنے دوستوں میں شامل بھی کر لیتے ہیں۔ مگر ایسا کرنے سے پہلے اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ آپ ایک شخص کو اگر نہیں جانتے تو وہ آپ کی فرینڈ لسٹ میں کیوں ہو؟ اگر آپ پھر بھی موقع دینا چاہتے ہیں تو ایک نظر اس کی پروفائل اور اس پر لکھی گئی پوسٹس پر ضرور ڈال لیں۔

پاکستان میں بہت سے لوگ ان دنوں سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر جعلی پروفائلز کے حوالے سے بہت تشویش کا شکار ہیں۔ کچھ اپنے اسٹیٹس کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں کہ ان کی یہی پروفائل ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور پروفائل نہیں ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ فیس بک پر جعلی اکاﺅنٹ بناکر لوگوں کو دھوکا دیا گیا۔ اسی طرح ای میل یا سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ہیک کر کے لوگوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی گئیں۔ اس وقت سوشل میڈیا پر بہت سے جعلی اکاﺅنٹس بھی موجود ہیں جو جرائم کا باعث بھی بنتے جارہا ہے۔ لوگ فیس بُک کے اتنے زیادہ عادی ہوگئے ہیں کہ بس ہر وقت فیس بُک کی دنیا میں مصرف نظر آتے ہیں کہ انہیں اپنے گھر میں کیا ہورہا اس بات کی فکر نہیں ہوتی فیس بُک میں کیا ہو رہا ہے اس بات کی زیادہ فکر ہوتی ہے کیوںکہ ہم اس بات پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے کہ ہمیں کیا چاہیے، ہمارے اندر بدقسمتی سے یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی پر توجہ کرتے ہیں اور فیس بک کی عجب دنیا میں بھی یہی ہے۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube