Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

صحافیوں کی من گھڑت کہانیاں

SAMAA | - Posted: Feb 2, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Feb 2, 2018 | Last Updated: 4 years ago

ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب جو کہ اپنے منفرد انداز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اُنکی جانب سے 24 جنوری 2018 کو نجی نیوز چینل کے ٹاک شو میں زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم عمران کے حوالے سے انکشافات کیاگیا کہ زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے 37 بینک اکاونٹس ہیں۔ ملزم ملکی اور بین الااقوامی سطح پر غیر قانونی کام کرنے والے گروہ کا چھوٹا سامہرہ ہے۔ جس کے تانےبانے سیاسی اور غیرسیاسی شخصیات تک جاملتے ہیں۔  اگلے روز 25 جنوری 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کے الزامات پر سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو طلب کیا۔

 ڈاکٹرشاہد مسعود صاحب چیف جسٹس صاحب کے سامنے پیش ہوئے اور اپنی اطلاعات ثاقب نثار صاحب کے سامنے بیان کیں۔  بقول ڈاکٹر صاحب کے کہ انھوں نے چیف جسٹس صاحب کو ایک پرچی دی۔جس پر اس شخص کا نام لکھاتھا جو ممکنہ طور پر پورنوگرافک جیسے گھناونے  کام میں معاونت کررہا ہے۔ اور وہ پرچی ثاقب نثار صاحب نے اپنے پاس  رکھ لی۔ بینک اکاونٹس کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم عمران علی کے اکاونٹس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے قتل کو طبعی موت قرار دینے والا میڈیا ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کے الزامات پر سیخ پا کیوں ہے ؟ کہا جارہا ہے کہ شاہد مسعود صاحب کی جانب سے غیرزمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی تو معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ہر طرف سے یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ دعویٰ یا الزام جھوٹا نکلا توکیا ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب معافی مانگے گے ؟۔

ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کے معاملے پر حیرت انگیز طور پر دیکھنے میں آرہا ہے کہ ایسے صحافی جو روز صحافتی اقدار اورصحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہیں وہ بھی کہہ رہےہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی جانب سے غیر زمہ داری کا مظاہرہ کیاگیا۔ کیا ڈاکٹر صاحب یا کسی اینکر کی جانب سے پہلی مرتبہ سنگین الزامات سامنے آئے ہیں ؟ بناسوچے سمجھے سنگین جرائم کے الزامات تو تمام نیوز چینلز پر ہمارے اینکرز روز کسی نہ کسی پر عائد کرتے ہیں۔ جو محض الزامات ہوتے ہیں۔ کہیں ثبوت فراہم نہیں کیا جاتا۔ کچھ صحافی اور اینکرز تو اس حد تک صحافتی اقدار کی دھجیاں اُڑادیتے ہیں کہ بناکسی ثبوت کہ کسی بھی شخص کا غیر ملکی خفیہ ایجنسی سے تعلق جوڑدیا جاتا ہے۔ توہینِ مزہب توہینِ رسالت جیسے سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں۔لوگوں کی پگڑیاں اُچھالی جاتی ہیں۔ تضحیک آمیز القابات سے ملک کی اہم شخصیات کو پکارا جاتا ہے۔ کیا یہ رویہ درست ہے ؟ ملزم کو مجرم اور مجرم کو ملزم بنادیا جاتاہے۔کوئی صحافی اس پر ٹاک شو نہیں کرتا کہ کسی بھی شخص کو بغیر الزام ثابت ہوئے، بغیر کسی ثبوت کے اسے میڈیا پر مجرم بناکر پیش کیوں کیاجاتاہے؟ آج جو صحافی اور نجی نیوز چینلز ڈاکٹر صاحب کے الزام کو حیرت انگیز طور پرغیرزمہ دارانہ عمل قراردے کر تنقید کررہے ہیں۔اُنکی جانب سے اس مخصوص خبر پر ہی کیوں کہا جارہا ہے کہ یہ غیرزمہ دارانہ صحافت یا عمل ہے؟ ۔ شاہد مسعود صاحب کا ملزم عمران کے حوالے سے خبر اور انکشاف کا معاملہ دُرست ہو یا غلط یہ تو بلاآخر سب کےسامنے آہی جائے گا کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے۔ ملک بھر سےلوگ لاپتہ ہورہےہیں۔ لاپتہ افراد کی پٹیشنز پر سنوائی نہیں ہوتی۔ لیکن اب اگر ایک ٹاک شو پر چیف حسٹس صاحب نے سو موٹو لیا ہے تو ڈاکٹر صاحب کے کیس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جانا چاہیے ۔ اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔ عوام کو گمراہ کرنے اورمیڈیا پر من گھڑت کہانیاں پیش کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی وقت کی ضرورت ہے۔

چند صحافی شاہد مسعود صاحب کے صحافتی طرزِ عمل پر سوال اُٹھا رہے ہیں، صحافتی زمہ داری ،صحافتی اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں،کبھی ہمارے صحافیوں نے اپنی صحافت پر نگاہ ڈالی ہے؟ آپ  میں اور ڈاکٹر صاحب میں کوئی فرق ہے ؟ صحافتی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے قول و فعل اور طرزِ صحافت کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہاں یہ صحافت ہے؟ ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات پر حیرت کرنے والے یہ کیوں بھول رہے ہیں یہ آپ کا ہی عکس ہے۔ اگر آپ (صحافیوں، تجزیہ نگاروں ،اینکرپرسنز ) کی نظر میں ڈاکٹر صاحب کا طرز صحافت یا عمل دُرست نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ  آپ کو بھی اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ کیونکہ پاکستان کے اکثریت ڈاکٹر اینکرز، تجزیہ نگاروں ، صحافیوں میں اور ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب میں کوئی فرق نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube