Wednesday, July 8, 2020  | 16 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

پرچی کیسی فلم ہے؟

SAMAA | - Posted: Jan 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago

اس سال کی ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم پرچی دیکھی۔فلم شروع ہوئی تو ایسے لگا شاید کوئی ایکشن یا انڈرورلڈ کے موضوع پر فلم بنائی گئی ہے۔ آدھا گھنٹہ گذرنے کے بعد احساس ہونا شروع ہوا کہ نہیں یہ ایک کامیڈی فلم ہے کیونکہ فلم کے پانچ کردار تو ہنسانے کے کوشش کر رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ یہ کوشش انتہائی سنجیدگی بلکہ زور لگا کر کررہے ہیں جو ہنسنے کا باعث کم اور بوریت کا باعث زیادہ بن رہی تھی۔

فلم کی کہانی سے لیکر کرداروں تک کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ کہانی وہی گھسی پٹی۔۔۔۔ کبھی فکرے، کبھی گول مال ،کبھی نامعلوم افراد تو کبھی کل بل ،نظر آئی اور تو اور گذشتہ ہفتہ ریلیز ہونے والی چھپن چھپائی کے پانچ کرداروں اور اس پرچی کے پانچ کرداروں اور کہانی میں کیا فرق ہے؟۔ چلیں مان لیا کہانیاں کہاں تک نئی نکالیں مگر کہانی کو پیش کرنے کا بھی تو کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ یہ تو ذہن میں رکھا جاسکتا ہے نا کہ فلم ایکشن ہے ، کامیڈی ہے، ڈرامہ ہے ، ہارر ہے، کیا ہے؟ اور اگر بارہ مصالحے کی فلم ہے تو دیکھنے اور کہنے میں یہ فلم بنانا آسان لگتا ہے مگر ایسی فلم بنانا ساب سے مشکل ہے کیونکہ ہر مصالحہ اس کی ٹائمنگ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اوردیکھنے والا شش وپنج میں نہیں رہتاکہ ہنسنا کب ہے ۔۔۔۔ حیران یا سجنیدہ کب ہونا ہے اور ڈرنا کب ہے۔ یہ ہر کام خود بخود ہوتا ہے اور اچھا ہدایتکار کامیابی کے ساتھ یہ کام کرتا ہے۔

پرچی فلم کا ہدایتکار اس سے پہلے سیاہ اور جانان بناچکا ہے۔ جانان ڈرامہ فلم تھی اچھی تھی اور سیاہ ہارر تھی۔ پہلا تجربہ تھا ،شوق تھا، ہارر موضوع کو لیکر فلم بنانے کی صلاحیت تھی تو وہ بنائی اور کم بجٹ فلم تھی مگر اچھی تھی۔ مگر یہ فلم بناتے وقت ہدایتکار زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوگئے کہ اس نوعیت کی فلم بھِی بنا لوں گا۔ ایسا نہیں ہے کیونکہ ہر ہدایتکار کی ایک پہچان ہوتی ہے۔ جیمز کیمرون کیوں نہیں سوچتا کہ کامیڈی فلم بناؤں یا اسپیل برگ لو سٹوری کیوں نہیں بناتا کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ کونسے موضوع کی فلم وہ اچھی بنا سکتے ہیں یا روہیت سیٹھی آرٹ فلم کیوں نہیں بناتا یا سنجے لیلا بھنسالی تاریخی موضوع یا سنجیدہ موضوع چھوڑ کر فرح خان کیوں نہیں بن جاتا ۔ پاکستان میں حسن طارق ، شباب کیرانوی کی طرح ہلکی پھلکی فلم یا شباب کیرانوی ،حسن طارق کی مہنگی اور مخصوص موضوع کی فلم کیوں نہیں بناتا تھا کیوںکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کا پتہ تھا۔ بارڈر اور رفیوجی جیسی فلمیں بنانے والے جے پی دتہ نے جب امراؤ جان ادا بنائی تو آٹے دال کا بھاؤ پتہ لگ گیا تھا کہ کہاں ریکھا کی امراؤ جان ادا اور کہاں ایشوریہ کی فلاپ فلم۔ تو ہدایتکار کا بھی ورسٹائل ہونا ایک مشکل کام ہے۔

فلم پرچی میں اداکاروں کی اگر بات کی جائے تو ان سے جو کام لیا گیا انھوں نے کیا یا تو ایسا ہوتا ہے کہ کہانی ہدایتکاری کمال کی ہوتی ہے تو کسی ایک اداکار کی اچھی اداکاری یا تو چار چاند لگا دیتی ہے یا بری اداکاری فلم کا ستیاناس کر دیتی ہے۔ پرچی میں چونکہ کسی کردار کو نہ تو بنایا گیا اور نہ ہی اس طرح کی کوئی کوشش نظر آئی ،حریم فاروق کا کردار بھی کہنے کو مختلف شیڈز لیے ہوئے ہے مگر دیکھنے والا پریشان ہی رہتا ہے۔ اسی طرح علی رحمان خان رنویر سے کوئی زیادہ ہی متاثر لگتے ہیں۔ شروع میں کسی کا گیٹ اپ کاپی کرنا چل جاتا ہے مگر فلم میں مستقبل بنانے کے لیے مسلسل محنت اور اپنا انداز کامیاب ہوتا ہے۔ احمد علی اکبر جو جانان اور سیاہ میں کام کر چکے ہیں وہ ٹھیک رہے فلم میں بھولے کے کردار پر محنت کی گئی اس کے کھانے کے شوق کو خوب اجاگر کیا گیا جس پر لوگ ہنسے بھی۔شفقت چیمہ ضائع ہوا۔

فلم پرچی ایک ڈبہ فلم ہے جس کو دس میں سے بمشکل تین نمبرز یا پانچ میں سے ڈیڑھ اسٹارزدیے جا سکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. FAS  January 8, 2018 2:37 pm/ Reply

    دس میں سے ایک نمبر بھی ذیادہ ہے اس فلم کے لئے۔ انتہائ بکواس سکرپٹ فضول مووی

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube