Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

الوداع زبیدہ آپا

SAMAA | - Posted: Jan 6, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 6, 2018 | Last Updated: 4 years ago

شوبز سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن سے ذاتی تعلق نہ ہونے کے باوجود دلی لگاؤ محسوس ہوتا ہے اور انکے چلے جانے سے اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا کسی نزدیکی جاننے والے کے جانے سے ہو۔ زبیدہ طارق کا شمار بھی انہیں چند لوگوں میں ہوتا ہےجنکے جانے پر ٹی وی کا ہر ناظر اور ریڈیو کا ہر سامع افسردگی کا شکار ہوا۔

جسطرح فاطمہ ثریا بجیا دنیا بھر میں اردو سمجھنے والوں کی بجیا تھیں اسی طرح انکی ہمشیرہ زبیدہ طارق بھی عالمی سطح پر زبیدہ آپا کے نام سے جانی پہچانی گئیں۔اور اسکی بڑی وجہ انکی خوش اخلاقی اور سُلجھی ہوئی طبیعت تھی۔ دس بہن بھائیوں سمیت زبیدہ آپا کا مکمل گھرانہ جب انیس سو اڑتالیس میں ہجرت کر کے پاکستان پہنچا تو انکی عمر صرف تین برس کی تھی۔ زبیدہ آپا کے نانا حیدرآباد کی نامی گرامی شخصیت تھیں جنکے گھر گاڑیوں اور نوکروں سے لے کر ہرطرح کا عیش و آرام میسر تھا ۔

ان کی والدہ چونکہ اکلوتی تھیں لہذا شادی کے بعد اپنے شوہر اور بچوں کیساتھ والدین کے گھر میں ہی رہا کرتیں۔ مگر انیس سو سینتالیس میں جب پاکستان کے معرضِٰ وجود میں آ جانے کے بعد حیدرآباد دکن کے حالات میں انتہائی کشیدگی در آئی اور اکثر خاندان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے لگے تو انہی میں سے ایک گھرانہ زبیدہ آپا کا بھی تھا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد زبیدہ آپا کے والدین کو مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور وہ گھرانہ جو ٹھاٹھ باٹ کی زندگی گزارنے کا عادی تھا پھر ایسے مکان میں رہائش پذیر ہوا جہاں بارش ہونے کی صورت میں خستہ چھت کے باعث سارا گھرانہ بھیگنے پر مجبور ہوا کرتا اور پھر پی آئی بی کالونی میں سکونت اختیار کی تو زبیدہ آپا اس بات پر انتہائی خوش تھیں کہ اب جب بارش ہوا کرے گی تو ہمارے گھر کی چھت بارش روک لے گی اور ہم مجبوراً بھیگے بغیر بارش بھی دیکھ سکیں گے ۔

وقت کا گھومتا پہییہ یقیناً کبھی ایک سا نہیں رہتا، آج جو لوگ پہیے کی اوپری طرف ہیں کل کو وہی نیچے بھی جائیں گے اور درحقیقت وہی وقت خدا کیطرف سے آزمائش کا ہوتا ہے ۔حیدرآباد دکن میں رہائش کے دوران دنیا کی ہر نعمت برتنے والے اس گھرانے کے وہ دن شاید آزمائش ہی کے تھے، جب پہلے زبیدہ آپا کے نانا اور پھر والد صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے تو تین بڑی بہنوں نے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور بہن بھائیوں کی پڑھائی کے اخراجات ہمارے ملک کی ممتاز شاعرہ ادب دوست شخصیت اور زبیدہ آپا کی ہمشیرہ زہرہ نگاہ کے مشاعروں سے ملنے والے اعزازیے سے ادا ہونے لگے۔

زبیدہ آپا کی والدہ صبر و برداشت کی مثال تھیں ۔کم وسائل میں رہنے کے باوجود اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی کہ وہ نہ صرف خود اپنے شعبے میں نامور کہلائے بلکہ اپنی ذات میں دنیا کیلئیے مثال بنے۔ زبیدہ آپا سن انیس سو سڑسٹھ میں اپنے کزن طارق مسعود سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں ۔ اللہ نے انہیں ایک بیٹے اور بیٹی سے بھی نوازا ۔ شادی کے وقت زبیدہ آپا کھانا پکانے کے ہنر سے قطعی طور پر نابلد تھیں گھر داری کے باقی تمام امور میں طاق زبیدہ آپا محض دو تین دن کی مشق سے اتنے لذیذ کھانے بنانے لگیں کہ گھر آئے مہمان حیران رہ جاتے اور پھر ذائقہ تو انکے ہاتھ میں تھا ہی مگر مہارت بھی ایسی آئی کہ دو سے تین سو افراد تک کا کھانا بڑی سہولت سے بنا لیا کرتیں۔ ان کے شوہر ڈالڈا کمپنی سے وابستہ تھے اور یہ زبیدہ آپا کے کھانوں اور گھرداری کی مہارت ہی تھی جسکی بدولت انہیں ڈالڈا ایڈوائزری کونسل میں ملازمت کی پیشکش کی گئی اور جس روز انکے شوہر کی نوکری کا آخری روز تھااُس سے اگلا دن زبیدہ آپا کی ملازمت کا پہلا روز ثابت ہوا اور یوں تقریباً تئیس سال پر محیط رہنے والےانکے کیرئیر کا آغاز پچاس برس کی عمر میں ہوا۔

اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے نہ صرف ریڈیو بلکہ تقریباً سارے ہی نجی ٹی وی چینلز سے کوکنگ شوز، ٹاک شوزاور مارننگ شوز کئے ، جن کی تعداد تقریباً 4000 سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔امورِ خانہ داری کی سات کتب کی منصفہ ہونے کیساتھ ساتھ انکی وجہ شہرت آسان گھریلو ٹوٹکے بھی تھے جن سے ہر خاص و عام مستفید ہوا کرتا۔

جہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ زبیدہ آپا بطور ماہر امور خانہ داری کی بلندیوں کو چھونے والی واحد خاتون ہیں وہاں ایک حقیقت قابلِ مذمت بھی ہے کہ زبیدہ آپا ہی وہ واحد خاتون ہیں جنکے نام اور تصاویر کو اُنکی عمر کے تقدس کا خیال کیے بغیر سطحی مزاح تخلیق کرنے کے لیے اس حد تک استعمال کیا گیا کہ انکے اہلِ خانہ کو ایک اخباری اشتہار کے ذریعے اس عمل کی مذمت اور اس کی روک تھام کی درخواست کرنی پڑی۔

زبیدہ طارق کو دل کے علاوہ پارکنسن کا عارضہ بھی لاحق تھا۔ان کا انتقال چار جنوری 2018 کو حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث ہوا۔ایسے میں زہرہ نگاہ کا ایک شعر ذہن میں آتا ہے

ڈھونڈ لے گر اپنی منزل اس خس وخاشاک میں
کتنے غنچے مل گئے ہیں گلستاں کی خاک میں

اب جبکہ وہ ہم میں نہیں رہیں تو معاشرے کے با شعور شہری ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے ہم پر لازم ہے کہ مزاح کے نام پر ہر اُس پھکڑپن سے دور رہیں جس میں انکا نام عامیانہ طور پر لیا گیا ہو، اور میرا خیال ہے جانے والوں کے لیے اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube