Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

بیانیے کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے

SAMAA | - Posted: Jan 5, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jan 5, 2018 | Last Updated: 4 years ago

کیا آپ بھی یہ ہی سوچتے ہیں کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ یکم جنوری کی صبح اُٹھے اوراُٹھتے ہی اچانک جھنجلاہٹ میں پاکستان سے ٹوئٹر پر مخاطب ہوگئے اور ٹوئٹ کرڈالا کہ” پاکستان نے امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پندرہ برسوں میں 33ارب ڈالر امداد دے کر بیوقوفی کی۔پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں معمولی مدد ملتی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلےگا” ۔

کیا ٹرمپ کی ٹوئٹ محض ٹوئٹ ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو گزشتہ دو سالوں سے شدت کے ساتھ امریکی حکام پاکستانی حکام سے دہراتے آرہے ہیں ۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ اور امریکی بیانیہ کی طرح ہمارا بیانیہ بھی وہی ہے جو پہلے تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، ہمیں امداد نہیں اعتماد چاہیے۔ ٹرمپ کی ٹوئٹ سے قبل یہ ہی سب کچھ ہم امریکی نائب صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سے سنتے آرہے ہیں۔

ٹرمپ کی ٹوئٹ بھی اُس پالیسی کا تسلسل ہے جس کا اعلان 22 اگست 2017 کو امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان اورجنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی بیان کی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کےخلاف سخت موقف یوں ہی نہیں ۔ آپ کو یہاں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ 9 مارچ 2017 کو امریکی ایوان نمائندگان میں دہشت گردی کے متعلق زیلی کمیٹی کے صدرٹیڈ پوکی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنےوالا ملک قرار دیا جائے۔ اس بل پراب تک کوئی بحث تو نہیں ہوئی مگر امریکی ڈو مور کے مطالبے میں آنے والی شدت کی ایک وجہ یہ بل بھی ہوسکتا ہے۔کیونکہ اس بل کو پیش کیے جانے سے قبل امریکہ میں 60 روز میں ساڑھے چار لاکھ لوگوں نے پاکستان مخالف پٹیشن دستخط کی تھی۔

ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعدپاکستان میں ایک بےیقینی کا ماحول ہے۔ ایسے میں سول و عسکری حکام کی جانب سے کہا جارہاہے کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی معاونت معطل کردی ہے اور عسکری امداد بھی روک لی گئی ہے۔امداد کے حوالے سے امریکہ کا موقف ہے کہ وہ روکی جانےوالی امداد بحال کرسکتا ہے اگر پاکستان دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کردے اور حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان کو جہاں اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہے وہی اگر اب امداد بھی روک لی جائے گی تو کیا پاکستان گرتی ہوئی معیشت کےساتھ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکےگا؟پاکستان کو اس وقت انتہائی نازک صورتحال کا سامنا ہے۔ایسے میں صرف بیانیے سے کام چلانے کے بجائے عملی اقدام کیے جائے۔ اگرپاکستانی حکام کو لگتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے اقدامات تسلی بخش ہیں تو دنیا کو اعتماد میں لینے کے لیے موثر فورم یا چینل کو استعمال کیاجانا چاہیے۔ ملک میں امن و امان کے حوالے سے مزید بہتر اقدامات کیے جائیں۔ جس کے بعد ملک و قوم کو مزید بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ہم جو بیانیہ دنیا کے سامنے رکھتے ہیں جب تک اس بیانیے کے اثرات واضح طور پردکھائی نہیں دینگے اس وقت تک دنیا کیا ہم اپنے ہی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتے۔

امریکہ یا دنیا کا کوئی دوسرا ملک ہم سے کتنا مطمئن ہے یہ بحث علیحدہ کرکے اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ پاکستانی عوام دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے مطمئن ہیں؟ گزشتہ 15 سالوں میں پاکستان کی سرزمین پر ان گنت آپریشن کیے جاچکے ہیں مگراُس کے باوجود آج بھی دہشت گرد باآسانی معصوم شہریوں کو نشانہ بناکر چلے جاتے ہیں،کیسے ؟ آخر کوئی تو ہے جو اُن کی مدد کرتا ہے۔

ہرذی شعور شخص حیران ہے کہ آخر داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو سپورٹ کرنے والے اُنکا پرچم لہرانے جیسے عزم کا اظہار کرنے والے مولانا عبدالعزیز کے خلاف آج تک کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ جو کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کےخلاف اُٹھائے جانے والے اقدامات پر سوالیہ نشان ہے۔ خدارا ملک و قوم کو مزید رسوائی سے بچانے اور ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والوں کو راہِ راست پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube