آج کا پاکستان اور جناح کا پاکستان

January 4, 2018

کیا 1947 کے بعد کا پاکستان یا آج کا پاکستان واقعی "جناح کا پاکستان" ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے ذہنوں میں ہے۔ اور کسی بھی باشعور پاکستانی سے اس سوال کا جواب پوچھیں تو جواب نا میں ملے گا اور میرے نزدیک بھی آج کا پاکستان جناح کا پاکستان نہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح کیسا پاکستان چاہتے تھے اس موضوع پر ہم بہت سے لیکچر سنتے رہتے ہیں مگر جناح کا پاکستان آج بھی ایک خواب کی طرح ہیں۔ جناح کے پاکستان کا قیام اقلیتوں کے تحفظ کے بغیر ممکن نہیں، بالکل اسی طرح معاشرے سے تعصب، عدم برداشت اور انتہاپسندی کا خاتمہ کئے بغیر بھی یہ خواب ادھورا رہے گا۔

گذشتہ 70 سالوں میں اس ملک میں جو نسلیں پیدا اور جوان ہوئی ہیں، ان کی سوچ، سمجھ اور خیالات میں بتدریج کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن میں یقیناً بڑی حد تک پاکستان کے حالات، مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات، سیاسی، معاشرتی و معاشی مسائل کا بڑی حد تک عمل دخل ہے۔

ہمارے ملک میں بھی صرف مسلمان آباد نہیں ہیں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہاں آباد ہیں پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندوؤں کی ہے جبکہ مسیحی برادری دوسری بڑی اقلیت ہیں جبکہ ان کے علاوہ سکھ، پارسی، بودھ اور کیلاشی نمایاں ہیں۔ ملک میں بسنے والے ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ہر مذہب اور ہر فرقے کا احترام کریں اور اس لئے ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔

"آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔" قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر سے اقتباس

قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں واضح کردیا تھا کہ لوگ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور کسی کے مذہب سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔

کچھ روز قبل صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے زرغون روڈ پر چرچ میں دھماکا ہوا ہے جس میں 8 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کچھ مذہبی انتہاپسند اور دہشتگرد اس ملک کو اپنی خواہشات کے مطابق چلانا چاہتے ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ ‏دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہاپسندی کا خاتمہ ضروری ہے اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے نفرت انگیزی کا خاتمہ ضروری ہے۔‏ یہاں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انتہاپسندی کا خاتمہ گولی اور طاقت سے ممکن نہیں بلکہ ‏تعلیم کے فروغ سے انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ کالعدم جماعتیں نام بدل بدل کر سرگرمیاں کررہی ہیں، نفرت پھیلا رہی ہیں اور حکومت اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ حکومت کو ان تمام کالعدم جماعتوں کو لگام ڈالنا ہوگی جو نام بدل کر سرگرمیاں کررہی ہیں کیونکہ انتہاپسندی کے خاتمے کے بغیر جناح کے پاکستان کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔