فکر کی بات

January 3, 2018

قدرت کا قانون ہے، ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، افسر اور تاجر بڑے گھروں اور بڑے دفتروں میں رہتے ہیں وہ ملک، وہ معاشرہ زوال پذیر ہوجاتاہے افسوس، اس وقت پورا عالم اسلام، بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے۔ عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں. اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔پاکستان میں ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی، ڈی سی ہاؤسز اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو، یہ سب بڑے گھر ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے،لاہور کا گورنر ہاؤس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے۔ ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے۔ ان حکمرانوں کے دفتر اور انکی شان و شوکت دیکھو، انکے اخراجات اور عملہ دیکھو، کیا یہ سب فرعونیت نہیں؟ کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا؟؟ اسکے برعکس دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف اسٹائل دیکھو۔

۰بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے، دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں، باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں، لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے. وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اسکا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں۔

83861271

۰وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے۔ اسکے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے، اسکے پاس 1980ء کی گاڑی ہے۔

۰برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے۔

ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے۔!۰جرمنی کی چانسلر کو سرکاری طور پر

۰اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے اور کبھی کبھار اسکی بجلی تک کٹ جاتی ہے۔

۰بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا۔

۰وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں، اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے۔

۰جاپان کے وزیراعظم کو شام چاربجے کے بعد سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں۔

چنانچہ دیکھ لو  چھوٹے گھروں والے یہ لوگ ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں۔ یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم دن رات پیچھے جا رہے ہیں۔

 ایسا کب تک چلے گا؟

ہمیں بنکوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہے. جو رقم نکالتے وقت ایک ہی دن میں کئی بار ہمارے اکاؤنٹ سے 0.6 فیصد کے حساب سے بھتہ لے رہے ہیں یعنی ایک لاکھ پر 600 روپے ،   5 لاکھ پر 3000 روپے،  دس لاکھ پر 6000 روپے ایک کروڑ پر ساٹھ ہزار روپے ، دس کروڑ پر  6 لاکھ!! کیوں؟ حکومت کو یہ اختیار کس نے دیا؟ یہ رقم کہاں جاتی ہے؟ ہمیں ان سے حساب لینا ہوگا۔ یہ پارلیمنٹ میں بسیرا کرنے والے سو فیصد سیاستدان ہمیں لوٹ رہے ہیں۔ لیکن اب وقت آگیاہےکہ ہم حقیقی معنوں میں ان سے آزادی حاصل کریں۔ ہمارےلئے سب سےاہم آزادی عزت نفس کی آزادی ہے نہ کہ موٹروے، میٹرو، سی پیک وغیرہ!جب تک ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں دس دس سال لگاتی رہیں گی تب تک یہ نظام راہ راست پہ آنے والا نہیں۔  یہ آپکی ذمہ داری ہے. انکوجگائیں جو سو رہے ہیں جمہوریت کےنام پہ یہ نام نہاد، عوام کےٹکڑوں پہ پلنے والے، یہ بیکار لیڈر آخر کب تک ہمیں بیوقوف بناتے اور لوٹتے رہیں گے؟؟

لگا کر آگ شہر کو بادشاہ نے کہا

اٹھا ہے دل میں تماشے کاآج شوق بہت!

جھکا کر سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے

حضور کا شوق سلامت رہے ،شہر بہت!

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.