بدیشی ایندھن،قیمت پرکنٹرول ہوتو کیسے

Muhammad Luqman
January 3, 2018

اس بار سال نو کے موقع پر ن  لیگ کی حکومت نے قوم کو پیٹرول کی قیمت میں چار روپے فی لیٹراضافے کا تحفہ دیا۔ جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ سمیت تمام شعبوں میں مہنگائی کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ رکشا ڈرائیورز نے تو یکم جنوری سے پہلے ہی  قیمت میں ممکنہ اضافے کو بھانپ کر کرائے بڑھا دیے تھےمگردیگرشعبوں میں آہستہ آہستہ اس کے اثرات آنے شروع ہوگئے ہیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کوئی آج کی بات نہیں۔ستر سال پہلے جب پاکستان قائم ہوا تب بھی پیٹرول اس دور کے حساب سے اتنا سستا نہیں تھا۔ قیام پاکستان کے پہلے آٹھ سالوں میں جہاں روپے کی قدرکافی حدتک مستحکم رہی تو وہیں پیٹرول بھی 1955 تک سوا روپے میں ایک گیلن یعنی چار لٹر دستیاب رہا۔ پانچ آنے فی لٹر کے حساب سے ملنے والا پیٹرول اس دور کے پاکستانیوں کے لئے بھی مہنگا تھا کیونکہ زیادہ تر سرکاری ملازمین کی ماہانہ تںخواہ سو روپے سے کم تھی۔ پیٹرول کی قیمت میں پہلا بڑا اضافہ 1955 میں ہوا جب پیٹرول کاگیلن سواروپے سے بڑھ ایک روپےنوآنےکاہوگیا۔1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تومہنگائی بھی بڑھ گئی۔ پیٹرول کی فی گیلن قیمت دو روپے دو آنے تک پہنچ گئی۔ 1970 میں ملک میں سیاسی حالات بگڑے توپیٹرول کی فی گیلن قیمت اس وقت کی بلند ترین سطح تین روپے پندرہ آنے تک جا پہنچی۔ ذوالفقارعلی بھٹوکےدورحکومت میں اعشاری نظام متعارف ہواتوپیٹرول لیٹروں میں بکنے لگا۔ضیاٗ الحق کے دور حکومت میں پیٹرول کی فی لٹر قیمت چار روپے تک بڑھ گئی۔ ضیا الحق کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو پیٹرول سات روپے اٹھاسی پیسے میں بکنے لگا۔ 1991 میں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں پیٹرول کی قیمت دگنی ہوگئی اور ایک لٹر پیٹرول چودہ روپے میں دستیاب تھا۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں پیٹرول نے ایک بڑی چھلانگ لگائی اور فی لٹر قیمت بائیس روپے تک جاپہنچی۔ 1997میں نواز شریف کے دوسرے دور میں ستائیس روپے پچاس پیسے ہوگئی۔ فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور میں پیٹرول کی قیمت نے 86روپے کی نئی حد کو چھو لیالیکن پیٹرول کی قیمت کی سینچری مکمل کرانے کا اعزاز 2008 میں شروع ہونے والے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ہوا جب پیٹرول کی قیمت پاکستان کی تاریخ پہلی مرتبہ سو روپے فی لٹر سے بڑھی۔

سال2013 میں ن لیگ کی حکومت مہنگائی کےخاتمےکانعرہ لگاکرآئی مگراقتدارمیں چند ماہ بعد ہی اکتوبر 2013 میں پیٹرول کی فی لٹر قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 113 روپے تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے بعد بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کوسکھ کاسانس ملا۔ایک موقع ایسابھی آیاکہ 60 روپے فی لٹرکےقریب آگئی۔گویاکہ جہاں پاکستان کی درآمدی بل میں خاطر خواہ کمی آئی توعام صارف کو بھی فائدہ ہوالیکن جتنا فائدہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سےمعیشت کے مختلف شعبوں میں لاگت میں کمی آئی اس کو کبھی بھی ایک عام شخص تک منتقل نہیں کیا گیا۔ دکانداروں اور صنعتکاروں نے اس فائدے کو منافع کے طور پر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری سطح پر تو افراط زر میں کمی کا دعوی کیا گیا۔ مگر محلے کے دکاندار یا رکشے والے نے اپنے شرح منافع میں کسی قسم کی کمی نہیں کی۔ اب جب کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور فی لٹر قیمت 82 روپے تک پہنچ گئی ہے تو اب دکانداروں اور ٹرانسپورٹرز نے از خود قیمتوں اور کرائے میں اضافہ کرلیا ہے۔۔گویا کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ ، کڑوا کڑوا تھو۔ ایندھن کی قیمت میں کمی کے لئے پیٹرول کی بجائے مقامی ایندھن یعنی سی این جی کو دوبارہ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح اگر ہائبرڈ کاروں اور خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جائے تو ملک میں پیٹرول کی کھپت کم ہوسکتی ہے۔جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو سانس ملے گا بلکہ عوام کا ماہانہ بجٹ بھی کم ہوجائے گا۔ اسی طرح سفید پوش طبقہ کار اور موٹر سائکل کی بجائے میٹرو بس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کرے تو خرچ میں خاصی کمی آسکتی ہے۔ صرف آزمائش شرط ہے۔