تنہا ذمہ داری کیسے اٹھائوں ؟

Raazia Syed
January 3, 2018

موت کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے کیونکہ جس نے بھی اس دنیا پر آنا ہے وہ اپنے مقررہ وقت پر اس زندگی کے قفس سے آزاد ہو جاتا ہے، اگرچہ زندگی بہت خوب صورت ہے لیکن کبھی کبھی مشکلات کے بار تلے دب کر انسان خود اس قید سے جان چھڑانے کی سوچتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کرب اور دکھ کے لمحات طویل تر نہ ہو پائیں ۔

ہمیں زندگی میں بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے کہیں کسی کے والدین اسے چھوڑ جاتے ہیں تو کہیں ہم کسی امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں ، کسی کو اولاد کا دکھ ہے تو کوئی کسی جان لیوا بیماری کا شکار ہو جاتا ہے لیکن اس سب میں موت بے بسی کی ایک ایسی کیفیت ہے جس کا اثرانسان پر بہت دیر تلک رہتا ہے ۔

مان لیا کہ وقت بہت بڑا مرہم ہے انسان اپنے پیاروں کو بھی بھولنے لگتا ہے لیکن بعض اوقات مرنے والے کچھ ایسی ذمہ داریاں چھوڑ جاتے ہیں کہ جو نبھانے سے بھی درست انداز میں نہیں نبھتیں ۔

آج ذکر ہو رہا ہے ایسے تنہا والدین کا خواہ وہ ماں ہو یا باپ جو تنہا رہ جاتے ہیں اب ان گاڑی کے دو پہیوں کو خواہ موت جدا کرے یا طلاق جیسی ناخوشگوار صورتحال وہ اکیلے ہی رہ جاتے ہیں اور زندگی دونوں صورتوں میں ہی محال ہونے لگتی ہے ۔

بچے جس کو ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے اسکی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتی ہے ، کئی والدین اس صورتحال سے پریشان ہو کر دوسری شادی کا سوچنے لگتے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ اکثریت خواہ ان میں خواتین شامل ہوں یا مرد دونوں نکاح ثانی کے بعد اور بھی بدل جاتے ہیں یا شاید اور زیادہ ذمہ داریوں میں گھر جاتے ہیں ، ایسے میں اگر بچہ اکلوتا ہو تو وہ دنیا بھر سے کٹ کر رہ جاتا ہے ۔

دوسری طرف اگر والد یا والدہ اکیلے رہ جائیں اور شادی نہ بھی کرنا چاہیں تو ان کے والدین اور عزیز و اقارب اپنی جان چھڑانے کے لئے انھیں شادی کا مشورہ دیتے ہیں ، خیر یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں والدین میں بچ جانے ایک فرد کے لئے بچوں کی پرورش بہت مشکل کام بن جاتی ہے ۔

خصوصا لڑکیاں اپنے مسائل نوجوان ہونے کے بعد والد سے ڈسکس نہیں کر سکتیں ، لڑکے ہیں تو وہ خود کو اپنی والدہ کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے اور بری صحبت کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ باپ کی موجودگی میں ان کی تربیت میں توازن کا ایک عنصر قائم رہتا ہے ۔

پھر ایسے والدین جہاں دولت کی ریل پیل ہوتی ہے وہاں بچوں کے سب کام ملازم یا میڈز کرتی ہیں تو بچوں اور والد یا والدہ میں ایک حد فاصل آجاتی ہے اور انھیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اب تو ہمیں بالکل ملازموں پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے اور ہمارے والدین کو ہمارا کوئی خیال نہیں۔

کم و بیش یہی صورتحال طلاق لینے والے والدین کے ساتھ پیش آتی ہے کہ کبھی ایک طرف بچے کو کھینچا جاتا ہے اور کبھی دوسری طرف سے فٹ بال بنا لیا جاتا ہے ۔

اب اگر ان تنہا والدین کا بھی دکھ دیکھیں ان کی بھی بات سنیں تو وہ بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں ، کتنا عرصہ تو انھیں یہ یقین ہی نہیں آتا کہ ان کا جیون ساتھی انھیں چھوڑ کر جا چکا ہے اور اب وہ اس دنیا میں تنہا رہ چکے ہیں ۔اب اگر وہ دوسری شادی کرتے ہیں تو لوگ فورا کہتے ہیں کہ بنتا کتنا وفادار تھا اور بس بیوی کے مرنے کی دیر تھی ابھی اسکا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور دوسری شادی کر لی ہے ۔

خواتین کو بھی معاشرتی مسائل کا سامنا رہتا ہے اور اکثر اوقات تو بچے بھی بڑے ہو کر یہ کہنے لگتے ہیں کہ آپ نے آخر ہمارے لئے کیا کیا ہے ؟ آپ نے تو اپنے لئے شادی کی تھی ، یا یہ کہ آپ نے ہمیں پال پوس کر کون سا احسان کیا ہے کیوں کہ یہ تو سب کے والدین کرتے ہیں ، ایسی صورتحال میں ان تنہا والدین کا دکھ کون جانے جن کے آنسو ان بچوں کی چیخ و پکار میں ہی کہیں کھو جاتے ہیں ۔

ان والدین کے بارے میں تو کوئی نہیں سوچتا جو ایک طرف اپنے ساتھی کی جدائی کا صدمہ برداشت کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف اپنی اولاد کو بھی پال رہے ہوتے ہیں اور اگر ان بچوں کی فرمائش نظر انداز ہو جائے تو یہ بھی سنتے ہیں کہ اگر ہماری والدہ زندہ ہوتیں تو آپ ہمیں ایسے اگنور نہ کرتے یا اگر ہمارا باپ ہوتا تو آپ ہمیں یہ بھی لے کے دیتیں ۔

معاشرےمیں رہتے ہوئے ہمارے بہت سے مسائل ہوتے ہیں لیکن اسلام تو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جہاں والدین کے سامنے اف تک کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے تاوقتیکہ کہ وہ دین کی باتوں سے روکیں تو ہمیں تو ان والدین کا اور بھی زیادہ خیال کرنا چاہیے جو تنہا رہ گئے ہیں کہ وہ دوہری ذمہ داری ادا کر رہے ہیں او رکوئی شکوہ بھی زبان پر نہیں لا رہے ، ایسے عظیم والدین جو اپنی زندگی کی خوشیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں تاکہ اپنی اولاد کی زندگی کو خوشگوار اور محفوظ بنا سکیں ۔

آئیے آج اپنے ان تنہا والدین کو تنہا نہ ہونے کا احساس دلائیں کیونکہ اگر یہ ان کی نیکی اور احسان کا پوارا صلہ نہیں ہو گا تو کم ازکم ایک فیصد تو ہو گا کیونکہ نیکی تو اجالے کی طرح ہے جس کی ایک کرن اندھیرے کمرے کو روشن کر سکتی ہے ۔