سانحہ ماڈل ٹاؤن اورآل پارٹیزکانفرنس

January 2, 2018

تحریر: عتیق الرحمان رشید

آپ کو ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاست سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کی اس بات سے ہر زی شعورانسان اتفاق کرے گا کہ پاکستانی نظام، عوام کو ڈلیور کرنے میں ناکام ہوگیا ہے ۔نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے  اور یہ تبدیلی نظام میں رہتے ہوئے ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ قادری صاحب نے اپنے سیاسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے  2013  میں اسلام آباد پر یلغار کی، وقت اور مقام کی سلیکشن اچھی تھی، لیکن سیاسی طور پر اکیلا ہونے اور عمران خان اور دیگر جماعتوں کا اس وقت عملی طور پر ساتھ نہ دینے کی وجہ سے وہ معاہدہ تک تو پہنچے لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔

16 جون 2014 کو نواز حکومت نے ممکنہ دھرنے سے بچنے کے لیے اپنی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی اورطاقت کےگھمنڈمیں ماڈل ٹاؤن پرچڑھائی کردی۔بدترین ریاستی دہشتگردی اوربربریت کامظاہرہ کیاگیا۔14 افرادشہیدہوئےجس کی وجہ سےحکومت مستقل دباؤ میں آگئی۔مسلم لیگ نون کےخلاف ایک مضبوط کیس سامنےآگیا،تمام کارروائی کودنیانےکیمرےکی آنکھ نےبراہ راست دیکھاجسےجھٹلانا اب ناممکن ہے۔

 ماڈل ٹاؤن سانحہ کےانصاف کے لیے جو دھرنا2014  میں دیا گیا گوکہ تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور دیگر چھوٹی جماعتیں اس میں شریک تھیں لیکن پارلیمنٹ کی دیگر تمام جماعتیں بلخصوص پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کے ساتھ کھڑی ہوگئی اوردوکنٹینروں پر مشتمل دھرنا کامیابی حاصل نہ کرسکا۔

عدالتی حکم پرجسٹس باقر نجفی رپورٹ  پبلک ہوئی تو ماڈل ٹاؤن تحریک نے ایک نیا موڑ لیا، ملکی سیاست جو دسمبر کی یخ بستہ سردی میں گرم تھی اس میں مزید اضافہ ہوگیا۔قادری صاحب نے2014  کے دھرنے کی ناکامی سے بہت کچھ سیکھاہے،انہوں نے حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن کا اعلان کردیااورساتھ ہی اپوزیشن کی تمام جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے۔ایجنڈایک نکاتی تھاجس پرکسی اپوزیشن جماعت کواعتراض بھی نہیں ہوسکتاتھا۔تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادتیں منہاج القران سیکریٹریٹ آئیں،سابق صدرآصف علی ذرداری،عمران خان،چوہدری شجاعت،مصطفی کمال،شیخ رشید،سردار عتیق احمد خان اور دیگر بڑی چھوٹی پارٹی کے لیڈران نے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا، وہ جماعتیں جو کل نواز شریف صاحب کی حکومت کو بچارہی تھی آج اسکے خلاف کھڑی ہیں جو عوامی تحریک کی بڑی کامیابی ہے۔

قادری صاحب نے 30 دسمبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن پر مشترکہ فیصلہ لینے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے کا اعلان کردیا۔ آل پارٹیز کانفرنس نہایت کامیاب رہی اور قادری صاحب کے کہنے کے عین مطابق انکے ایک جانب پیپلز پارٹی اور دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت بیٹھی تھی ملک کی 40 جماعتوں نے اس اے پی سی میں شرکت کی اور تمام جماعتوں کی طرف سے متفقہ قرارداد میں سانحہ ماڈل  ٹاؤن کےشہیدوں کوانصاف دلانے کیلئے 7 قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ ماڈل ٹاؤن میں شہید یا زخمی ہونے والے صرف پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان ہی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے شہری بھی تھے جن کے انصاف کیلئے اجتماعی جدوجہد کرنا اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اے پی سی نے اس سلسلے میں آئندہ کی پوری جدوجہد کی ذمہ داری اداکرنےکااعلان کیا۔اے پی سی کی قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن نے شہباز شریف، رانا ثناء اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کےقتل عام اوراس قتل عام کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہےلہٰذاوہ اورسانحہ میں ملوث ان کے دیگرحکومتی ذمہ داران،جملہ شریک ملزمان اور بیورو کریٹس 7  جنوری 2018 سے پہلے مستعفی ہو جائیں۔ اے پی سی نے عوامی تحریک کی 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن میں7 جنوری 2018  تک کی توسیع کردی۔ اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ اگر قتل عام کے ملزمان نے 7 جنوری تک استعفے نہ دیئے تو اسٹیرنگ کمیٹی 7جنوری کو ہی اجلاس منعقد کرے گی اور آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

ماڈل ٹاؤن سانحہ کے انصاف کے یک نکاتی ایجنڈے پر بڑی تعداد میں اپوزیشن کا اے پی سی میں اکٹھا ہوجانا گوکہ ان جماعتوں کے آپس میں بہت سے اختلافات موجود ہیں،قادری صاحب کی بڑی کامیابی ہے۔اے پی سی کےاعلان سےہی حکومت پریشرمیں آگئی تھی۔ حکومت نے مختلف زرائع سے آصف علی زرداری صاحب سے رابطے کی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ حکومت اس وقت اکیلی اور پریشان ہے۔وہ اپوزیشن کو آفر بھی کر رہی ہے اور بھر پور پروپیگنڈہ مہم بھی شروع کر دی گئی ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کو معلوم ہے کہ اگر مسلم لیگ نون کو پنجاب میں گرانا ہے تو ماڈل ٹاؤن کیس اور اس کے انصاف  کےلیے برپا ہونے والی ممکنہ تحریک انکے لیے آخری آپشن ہے۔

نئے سال کے آغاز پر اپوزیشن نئے جوش اور ولولہ کے ساتھ حکومت کے خلاف اکٹھی  ہے اور جدوجہد کا آغاز کرنے والی ہے دیکھتے ہیں کہ عوامی تحریک کی یہ جدوجہد اس بار کامیابی  سے ہمکنار ہوتی ہے  اور ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو انصاف نصیب ہوتا ہے یا نیا سال بھی انکے لیے مایوسی ہی لائے گا۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.