پاکستان گلوبل وارمنگ سے متاثرہ ساتواں بڑاملک

January 29, 2018

تحریر:روحیل ورنڈ

گلوبل وارمنگ کا مطلب گرین ہاؤس افیکٹ میں اضافہ۔ گرین ہاؤس افیکٹ ایک قدرتی عمل ہے جب زمین سورج کی شعاؤں کو منعکس کرنے کی بجائے روک لیتی ہے اور زمین پر بسی مخلوقات کے لیے زندگی کا ساماں کرتی ہے تاہم انسان کی کچھ سرگرمیاں جیسے کہ معدنی ایندھن کا جلنا ، درختوں کی بےجا کٹائی اور فیکٹریوں کے حد سے زیادہ دھواں نے گرین ہاؤس افیکٹ میں اضافہ کردیا ہے۔ کاربن ڈائیاکسائیڈ، میتھین ، نائٹرس اکسائیڈ کی زمین کے گرد تہہ ان شعاؤں کو روکنے کا کام سر انجام دیتی ہے اور یہی گیسز زمین پر بےجا بڑھتے درجہ حرارت اور گلوبل وارمنگ کی وجہ ہے۔گلوبل وارمنگ اس صدی میں لاحق زمین کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان معاشی سروے 2017-2016 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان گلوبل وارمنگ سے متاثرہ دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ سروے کے مطابق مستقبل میں آب و ہوا پر ہونے والےمنفی اثرات کے باوجود پاکستان پھر بھی نہایت کم جی ایچ جی گیسز کے اخراج کی وجہ ہے۔ جون 2017 عالمی ماحولیات کے موقع پر ڈاکٹر معظم علی کے مطابق گرین ہاؤس گیسز کے اخراج نہ کرنے کے باوجود پاکستان کو پھر بھی ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان دنیا میں ہونے والے گیسز کے اخراج کا محض تین فیصد حصہ ہے تاہم پوری دنیا میں ہونے والی موسمی تبدیلی نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔

پاکستان میں سیلانی اور شدت کے ساتھ ہونے والی موسمی تبدیلی، سیلاب اور اناج کی کم پیداوار موسی مسائل کی ایک وجہ ہے۔ فی الحال پاکستان گلوبل وارمنگ کا نشانہ بننے والا ساتواں بڑا ملک ہے۔ جبکہ 133 شدت کے ساتھ ہونے والےموسمی واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس سے ملک کو 3.82 ملین ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ یہ موسمی تبدیلی مویشیوں پر بھی اثر انداز ہوئی۔ جس کی وجہ سے پولٹری، گوشت اور دودھ میں 30-20 فیصد کی کمی دیکھنا واقع ہوئی۔ مویشیوں پر ہونے والے اثرات نے ڈیری اشیاء مہنگی کردیں۔

زرعی شعبے کو بھی موسمی تبدیلی کے باعث 15-2 بلین ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا ہوگا۔ قومی معاشی سروے کی 2013 کی رپورٹ کے مطابق 2012-2011-2010 میں آنے والے سیلابوں نے 3000 زندگیاں لیں جبکہ ملک کو 16 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ سیلاب نہ صرف تیز بارشوں بلکہ سطح آب بڑھ جانے کی وجہ سے آتے ہیں جس کی وجہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئرز کا پگھلنا ہے۔ اس سے نہ صرف سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ گھروں میں استعمال ہونے والا تازہ پانی بھی سمندروں میں ضائع ہونے کی وجہ سے ملک نقصان میں ہے۔

عشروں سے پاکستان ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے دہشتگردی سے برسرِپیکار ہے۔ تاہم قلیل مدت کی منصوبہ بندی کی وجہ سے کئی اہم مسائل جیسا کہ گلوبل وارمنگ کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ بڑھتےموسمی مسائل مستقبل میں پاکستان کی سیاست اور معیشت کے لیے خطرناک ہونگے۔حکومتِ پاکستان کو موسمی مسائل کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات سے بچایا جاسکے۔