Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

ایک اذان اور بائیس شہادتیں

SAMAA | - Posted: Jan 28, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jan 28, 2018 | Last Updated: 4 years ago

کشمیر وہ واحد خطع ہے جسے برطانوی سامراج نے16 مارچ 1846 کو باقاعدہ طور پر75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کیا۔انسان فروشی کا یہ سودا معاہدہ امرتسر کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں سے ایک طویل اور باقاعدہ ظلم و ستم کی داستان شروع ہوئی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا دیے گئے ڈوگرہ حکمرانوں کے اس ظلم کے خلاف جس کسی نے بھی آواز اٹھائی توان ظالم حکمرانوں نے زندہ انسانوں کی کھالیں تک کھینچوا دیں لیکن پھر کچھ ایسے ایمان افروز واقعات رونما ہوئے جس سے ڈوگرہ راج حل کر رہ گیاان واقعات میں سب سے پہلا واقعہ نمازِ عید کے خطبے کی بندش کا ہےجس سے کشمیری مسلمانوںکو ایک تحریک ملی اور وہ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئےاس واقعہ کے فوری بعد ہی توہینِ قرآن پاک کا واقعہ پیش آیا۔ان واقعات کے بعد احتجاج کی غرض سے 21 جون1931 کوخانقاہِ معلی کے صحن میں بڑا اجتماع ہوااس اجتماع کو کشمیر کی تحریکِ آزادی کا رسمی افتتاح سمجھا جاتا ہےاس اجتماع کے آخر میں عبدالقدیر نامی شخص نے کشمیری مسلمانوں سے خطاب کیا ‘ مسلمانوں ! اب وقت آگیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے یاداشتوں اور گزارشوں سے ظلم و ستم میں کوئی فرق نہیں آئے گا اس راج محل کی طرف بڑھو اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دو’ اس خطاب کی وجہ سے اس نوجوان کو ڈوگرہ فوج نے فوری طور پرگرفتار کرلیا اور مقدمہ بغاوت چلا دیا 13 جولائی1931کو اس مقدمہ کی سماعت شروع ہوتے ہی کشمیری عوام نوجوان عبدالقدیر کے ساتھ یکجہتی کیلئے بہت بڑی تعداد میں سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے جمع ہوئے۔

اس دوران نماز کا وقت ہوااور ایک کشمیری نوجوان اٹھا اور اذان دینے لگا۔ڈوگرہ سپاہیوں نے اسے نشانہ بنا کر اس پر فائر کردیا جس سے وہ شہید ہوگیا اور اس کی اذان ادھوری رہ گئی۔اس کے بعد فورا اسی گروہ میں سے ایک اور کشمیری نوجوان جذبہ ایمانی سے سرشار اٹھا اور جہاں سے نماز کا سلسلہ ٹوٹا تھا وہیں سے اذان کا سلسلہ جو ڑدیا۔اس پر بھی سپاہیوں نے فائر کیے اور وہ بھی شہید ہوگیا اس کے بعد ایک اور اٹھا اور اسے بھی شہید کردیا گیا حتی کہ پہ درپہ 22 کشمیری اٹھے اور سب کے سب شہید کردیے گئےاور تب اذان مکمل ہوئی۔

دنیا میں ہر جگہ بہت سے مظالم یا واقعات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن جو ظلم کی داستان سرینگر میں 13 جولائی کو لکھی گئی اس کی شاید کہیں مثال نہیں ملے گی دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو وہ ظلم و ستم سے روکتا ہے اور انسانیت کا درس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات اور چپقلش ہمیشہ سے رہی ہے لیکن اس حد تک ظلم محض اختلاف نہیں بلکہ ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی مذمت صرف عالمِ اسلام کو ہی نہیں بلکہ بحثیت انسان پوری دنیا کو کرنی چاہیے تھی اگر اس واقعہ کا کسی بھی سطح پر نوٹس لیا گیا ہوتا تو اس محکوم قوم کو مظالم سے نجات مل چکی ہوتی لیکن حد تو یہ ہے کہ اسلام دشمنی کی یہ آگ مختلف ادوار میں مختلف ممالک میں بڑھکتی رہی جس کا فلسطین ، برما اور شام کے انسانیت سوز واقعات منہ بولتا ثبوت ہیں ۔لیکن افسوس صد افسوس عالمِ اسلام تب بھی خاموش تھا اور اب بھی خاموش ہے۔جس کی بدولت اس قسم کے انسانیت سوز واقعات ختم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھ رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام طاقت اور وسائل ہونے کے باوجود ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی ہے۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube