Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

نقیب، انتظار اور پھر مقصود آخر کب تک

SAMAA | - Posted: Jan 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jan 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago

یہ کب تک ہوتا رہے گا کب تک معصوم لو گ اپنے ہی دیئے ہوئے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی ہوئی گولیوں کا نشانہ بنتے رہینگے، ہماری یہ قانونی ادارے کب تک جعلی پولیس مقابلوں اور تشدد کر کے ویران راستوں پر پھینکنے کا سلسلہ کب رکے گا اگر دیکھا جائے تو پولیس کا کام صرف مجرم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنا ہے اور عدالت کا کام صرف اور صرف انصاف فراہم کرنا ہے مگر ہمارے نام نہاد بہادر پولیس افسران میڈیا کی زینت بننے کیلئے جعلی پولیس مقابلے کرتے ہیں جن مقابلوں میں پولیس کا ایک نوجوان بھی زخمی نہیں ہوتا اور چار چار دہشت گرد منٹوں میں ہلاک کردئے جاتے ہیں ابھی کراچی میں حالیہ تین افسوسناک واقعات ہوئے جن میں نقیب ، انتظار اور مقصود کو پولیس والوں نے عوام کے ٹیکسو ں سے خریدی جانے والی گولیوں سے بھون ڈالا ان تینوں کیسز میں سب سے زیادہ توجہ نقیب اللہ کو ملی کیونکہ اس کے فیس بک پر ہزاروں کی تعداد میں فالورز تھے اور بظاہر نقیب اللہ محسود کا کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق نہیں تھا اور وہ ماڈلنگ کے شعبے میں دلچسپی رکھتا تھا ،نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ میں شیر آغا ہوٹل سے دو اور تین جنوری کی شب سادہ کپڑوں میں اہلکاروں نے اٹھایا تھا اور چار روز کے بعد ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔


جبکہ دوسرا واقعہملائشیا سے وطن لوٹنے والے نوجوان نتظارحسین کا تھا جسے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا قتل کے وقت انتظار کے ساتھ کار میں ایک لڑکی بھی موجود تھی جس کی وجہ سے انتظار کے کیس کو میڈیا کی توجہ ملی اور سب اس کیس کی حقیقت جاننے کے بجائے اس لڑکی کے بارے میں جاننے کے خواہش مند تھے در حقیقت انتظار قتل صرف ایک لڑکی کا معاملہ تھا جس میں اس لڑکی نے ایک پولیس والے کو چھوڑ کر انتظار کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہی تھی جیسا کہ اس لڑکی نے خود کہا تھا کہ وہ انتظار سے صرف ایک ہفتے پہلے ہی ملی تھی اس لئے بیچارا انتظار اس پولیس والے کے غصے کی بھینٹ چڑھ گیا۔


تیسرا افسوسناک واقعہ چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی اورمعذور باپ کا واحد سہارا مقصود جو شاہراہ فیصل پر ڈاکووئں اور پولیس کے درمیان مبینہ مقابلے میں گولیاں لگنے سے زندگی کی بازی ہار گیا جسے پولیس نے پہلے ڈاکو قرار دیا اور بعد میں کہا کہ مقصود کی موت ڈاکووئں کی فائرنگ سے ہوئی۔بد قسمت مقصود کی 20روز بعد شادی تھی مقصود کی موت بھی ہمارے قانونی اداروں پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ گولی کس کی تھی جو مقصود کی جان لے گئی پتہ نہ چل سکا لیکن اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی، وہ گولی جس کی بھی تھی مقصود کے گھر والوں کو عمر بھر کا غم دے گئی۔ نقیب کے معاملے پرراو ¿ انورکو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوئری جاری ہے جبکہ وہ خود انکوئری کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہورہے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ یہ انکوائری ایک اور ’مبینہ پولیس مقابلہ‘ نہیں؟قانونی ماہرین کا کہنا ہیکہ ماضی کے مشکوک پولیس مقابلوں کو بھی کھولا جانا چاہئے قتل معاف کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہونا چاہئے،کراچی بار ایسوسی ایشن نے مبینہ جعلی مقابلوں کی انکوائری کے لیے چیف جسٹس پاکستان کا خط لکھ دیاراو ¿ انوار ودیگر کے خلاف انکوائری سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج سے کرائی جائے۔

انتظار قتل کیس میں اب تک کوئی پیش رفت نہ ہوسکی سندھ حکومت کی جانب سے کیس کی جوڈیشل انکوائری کیلئے دی جانے والی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے جج کی نامزدگی سے انکار کرتے ہوئے متعلقہ سیشن جج کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جبکہ انتظار قتل کیس میں 8پولیس اہلکارملزمان گرفتا رہوئے تھے اور وہ ابھی عبوری ضمانت پر باہر ہیں جبکہ مقصود تو ایک بیچارا غریب رکشہ ڈرائیور تھا اس کو کون یاد رکھے گا کون انصادف دلائے گا یہاں صرف پیسوں والو ں کی چلتی ہے شاہ زیب قتل کر کے فتح کا نشان بناتا ہوا کورٹ سے رہا ہوجاتا ہے اور غریب پولیس والوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔جسطرح کا روئیہ ہمارے قانونی اداروں نے اپنارکھا ہے اس غیر قانو نی اور وحشیا نہ عمل کی اجا زت کسی بھی ملک اور اس کا قانو ن نہیں دیتااسلا می جمہو ریہ پاکستان ایک مہذب قوم اور قانو ن و آئین کا ما لک ملک ہے حکومت کو اس طرح کے غیر آئینی اقدامات کو ہر حال میں روکنا ہوگا ورنہ لوگوںکا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube