ہوم   >  بلاگز

پانی کی کمی پاکستان میں دہشتگردی سے بڑا مسلئہ بن سکتا ہے

2 years ago

تحریر: روحیل ورنڈ

ماہرین کے مطابق 2025 تک پانی کی کمی ہونے کے باعث ملک کو قحط کا سامنا کرنا ہوگا۔ پانی ایک نہایت اہم جز ہے جو نہ صرف بشر بلکہ حیوان، پودوں اور حشرات حتیٰ کہ  زمین کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان میں پانی آبشاروں اور زیرِ زمین زخائر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ معاہدہِ سندھ طاس کے بعد محض دو دریا جہلم اور چناب ہی پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ تینوں دریا راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے حصے میں آئے۔ تاہم دریائے چناب اور جہلم پر بھارت نے اپنے ڈیمز بنا کر معاہدہ شکنی کی جس کی وجہ سے پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور یہ کمی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطرناک صورتحال اختیار کر رہی ہے۔

پانی کی کمی پاکستان میں دہشتگردی سے بھی بڑا مسلئہ بن سکتا ہے۔ یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حکام کا پانی کے مسائل کی طرف غیر سنجیدہ رویہ ملک کی بقاء کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک میں 2025 تک پانی کے خشک ہوجانے کے ممکنہ آثار ہیں۔ ماہرین نے مزید کہا کہ 2025 تک پاکستان کے شدید قحط اور پانی کی واضح کمی کے آثار پختہ ہیں۔ یہ سنگین پیشن گوئی پاکستانی کونسل برائے پانی اور وسائل کی جانب سے ستمبر 2017 کی ایک رپورٹ میں کی گئی۔ پاکستان پانی کے ذخائر استعمال کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ انتظامیہ کی بدترین حالی پانی کے ضیاع کا موجب ہے۔

واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل مضمل حسین کے مطابق پاکستان ہر سال پانی کے 25 بلین اثاثے ضائع کرتا ہے۔ ملک ہر سال 145 ملین ایکڑ فٹ کا پانی حاصل کرتا ہے تاہم انتظامیہ کی بدحالی کی وجہ سے محض 14 ملین ایکڑ فٹ ہی محفوظ کر پاتا ہے۔ پاکستانی کونسل ریسرچ برائے پانی و وسائل کے چیف محمد اشرف کے مطابق زمینی مسائل کی وجہ سے پانی کی کمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سے کئی شہروں میں قحط سالی دیکھنے میں آئی ہے۔

پانی و توانائی کے ماہر ارشد عباسی کے مطابق پاکستان کے مسائل کی وجہ وسائل کی کمی سے زیادہ انتظامیہ کی نااہلی کا شاخسانہ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 86 ممالک پاکستان سے کم پانی پر منحصر ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی ضروریات بلکہ زراعت کو بھی فروغ رے رہے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر جس طرح فصل کی پیوندکاری کی جاتی ہے۔ اگلے دس سال میں ہمارے ملک کے کسان ان سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ بھارتی پنجاب کی مثال دیتے ہوئے جس کی آب و ہوا پاکستان جیسی ہے۔ عباسی صاحب نے کہا کہ بھارت ہم سے تین گُنا زیادہ اناج کی پیداوار کر رہا ہے۔

یہ پل لمحہ فکریہ کےہیں۔ بہت سے اقدامات لینے کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے رہنماؤں اور اسٹیک ہولڈرز کو صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ محض پچھلی حکومتوں اور انڈیا کو موردِ الزام ٹھہرانا مسلئے کا حل نہیں۔

دوسرا، حکومت کو پانی کے زخائر کا مدبرانہ استعمال ان کو زخیرہ کرنےکے لیے نئے بنیادی ڈھانچوں پر متوجہ ہونا چاہیے۔ حکومت کو نئی ٹیکنالوجی ڈرپ اریگیشن کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کی جانب سے چھوٹے پیمانے پر پانی کی بچت کر کے سب اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں