Friday, August 7, 2020  | 16 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

سمندری آلودگی، آبی حیات خطرے میں 

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Jan 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago

۔۔۔۔۔**  تحریر : فرحین آمنہ فرید  **۔۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی میں بدترین اضافے کا 100 فیصد ذمہ دار انسان ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ آج کرہ ارض ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن دور سے گزر رہا ہے، جنہوں نے زمین کی بقاء کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اس وقت زمین پر موجود ہر جاندار اپنی بقاء اور آنے والی نسل کیلئے پریشان ہے لیکن اس کا ذمہ دار انسان ہی ہے کیونکہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی آلودگی نے دنیا کو گلوبل وارمنگ کی جانب دھکیلا اور اب جیسے یہ جنگلات، دریا، گلیشئیرز، موسموں پر اثر انداز ہورہی ہے، اس ہی طرح سمندر کو بھی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا ہے، جس نے سمندری حیات کی بقاء خطرے میں ڈال دی ہے، سمندر کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث سمندری ماحولیاتی نظام  تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین ماحولیاتی نے سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سمندر میں موجود کئی ٹن پلاسٹک کچرے کو قرار دیا ہے، ایک اندازے کے مطابق اگلے 33 برسوں یعنی 2050ء تک سمندر پلاسٹک کچرے سے اس قدر بھر جائیں گے کہ مچھلیوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور کچرا زیادہ، جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ مچھلی کی پیدوار پر انتہائی برے اثرات پڑیں گے، جس کا سب سے زیادہ نقصان ماہی گیروں کو ہوگا کیونکہ ان کا واحد ذریعہ معاش مچھلیوں سمیت دوسری سمندری حیات ہی ہے۔

سمندری ماحولیاتی نظام بگڑ رہا ہے، جس سے سمندری حیات کی خوارک میں کمی واقع ہوئی ہے، سمندر کے اندر موجود جانداروں کا گزارا پودوں یا ایک دوسروں پر ہوتا ہے، چھوٹی مچھلیاں پودے کھاتی ہیں جبکہ بڑی مچھلیوں کی خوارک چھوٹی مچھلیاں ہیں تاہم  سب سے زیادہ کمی چھوٹی مچھلیوں کی تعداد میں ہوئی ہے، نظام میں بگاڑ کی بڑی وجہ پلاسٹک کا کچرا ہے۔

اس وقت دنیا بھر کے سمندروں میں کئی ٹن وزنی پلاسٹک آبی حیات کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے، جس کے باعث آئندہ سالوں میں سمندری حیاتیات بڑی تعداد میں ہلاک ہوسکتی ہے، ہر برس پلاسٹک کا 8 ملین ٹن کوڑا کرکٹ سمندر کی نذر کردیا جاتا ہے، جس سے براہ راست سمندری حیات خاص کر مچھلیاں متاثر ہورہی ہے اور یہ ہی مچھلی  کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے، اگر 2050ء تک پلاسٹک کے کچرے میں کمی نہ کی گئی تو سمندر میں مچھلیوں کی تعداد کم اور پلاسٹک کا کچرازیادہ ہوجائے گا، جو سمندری حیات کیلئے تباہ کن ہوگا، اس کُوڑے کرکٹ سے بحرالکاہل کے مِڈ وے آئی لینڈ کے دُور دراز کے ساحل بھی متاثر ہورہے ہیں۔

گزشتہ برس 8 جون کو سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ پلاسٹک کا کوڑا سسمندروں کو بے انتہاء نقصان پہنچا رہا ہے، اس کی روک تھام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد یورپی یونین نے 2030ء تک تمام پلاسٹک پیکیجنگ اور کچرے کو ری سائیکل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کا مقصد سمندر سے پلاسٹک کے کچرے کا خاتمہ، ہوا، پانی اور کھانے میں شامل پلاسٹک کے مضر صحت ذروں کو بھی روکنا ہے۔

واضح رہے یورپی ممالک ہر سال 25 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا پیدا کرتے ہیں تاہم اس میں سے صرف 30 فیصد ری سائیکل ہوپاتا ہے اور زیادہ تر کچرا سمندر کی نذر کردیا جاتا ہے۔ اگر ہنگامی بنیادوں پر پلاسٹک کا کچرا کم نہیں کیا گیا تو یقینی طور پر 2050ء  تک ہمارے سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ تعداد پلاسٹک کی ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube