Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

مکلی کے تاریخی ورثےکوبچانےکی کوشش

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jan 19, 2018 | Last Updated: 4 years ago

گزشتہ دنوں پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے توسط سے پہلی عالمی مکلی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ کانفرنس محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔ کانفرنس میں امریکہ،برطانیہ، فرانس، لبنان، ایران،اسپین اور وطن عزیز کے نامور محققین نے تاریخی مقبروں ، مقامات، شاندار فن تعمیر، شاہجہان مسجد اور دیگر پر22 تفصیلی وتحقیقی مقالے پیش کئے گئے۔

مکلی کا قبرستان دنیامیں مسلمانوں کا دوسرا بڑا قبرستان ہے بہت سے لوگوں کی رائے کے مطابق ”نجف عراق “ کے قبرستان کے بعد مکلی کا نمبر آتا ہے ۔ آثار قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر جنرل منظور کناسرو نے بتایا کہ یہا ں تقریباًپچاس لاکھ لوگ مدفن ہیں جن میں اولیاءا کرام کی قبریں بھی موجود ہیں، یہاں کی موجود قبریں تاریخی اعتبار سے دو ادوار میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ پہلا دوربادشاہوں کا دور جوکہ (1520 – 1352) تک رہا اور دوسرا ترکان بادشاہوں کا دور جو کہ (1592 – 1556) تک رہا۔ اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو نے مکلی قبرستان کو 1981ءمیں عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا تھا۔ان مقابر میں مغل سردار طغرل بیگ، جانی بیگ، جان بابا، باقی بیگ ترخان،سلطان ابراہیم اور ترخان اول جیسے علمائ،سردار اور دیگر لوگ سالوں سے اپنی اپنی قبروں میں سکون کی نیند سورہے ہیں۔مکلی کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے مگر آج بھی وہ اپنے فن ،نقاشی اور کشیدہ کا ری کی وجہ سے زندہ ہیں ۔وہاں کی قبریں اپنے ہونے کا احسا س دلاتی ہیں۔ یہاں کی قبروں کی خاص بات ان کے دیدہ زیب خدوخال اور نقش و نگار ہیں جو نہ صرف اہلِ قبر کے زمانے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اس وقت کی تہذیب، ثقافت اور ہنرمندی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہیں۔مکلی میں عمارتوں کے ڈھانچے نہایت مضبوط ہے اور طرزِ تعمیر کے لیے نہایت عمدہ تعمیری مواد بہت ہی اعلیٰ معیار کااستعمال کیا گیاتھا۔ آج بھی وہ اپنی خو بصورتی کے ساتھ موجود ہیں، یہ قبرستان تاریخ کا وہ ورثہ ہے جوکہ قوموں کے مٹنے کے بعد بھی ان کی عظمت و ہنر کا پتہ دیتا ہے اور دلکش عمارت پر کی گئی قرآنی خطاطی اور ہندو شاہیہ نقوش کی دلفریبی اپنی مثال آپ ہے۔

 کہا جاتا ہے کہ مکلی یہاں کی ایک مقامی عورت کانام تھا اورجو سب سے پہلی قبر تعمیر ہوئی وہ اس عورت کی تھی وہ عورت کون تھی کس طبقہ سے تعلق رکھتی تھی،کس سماجی رتبے کی حامل تھی، اس بارے میں تاریخ بالکل خاموش ہے۔مکلی قبرستان اسی عورت کے نام سے مشہور ہوا۔آج یہ تاریخی شہر دنیا بھر میں مکلی کے نام سے پہچانا جاتا ہے اس کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں لوگ اس قبرستان میں آتے ہیں۔یہ قیمتی سرمایہ ایک عالمی ورثہ ہے جس کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

 کانفرنس میں آئے محققین نے کہا کہ تاریخی ورثہ مکلی ایک تاریخی قبرستان ہی نہیں بلکہ ہزاروں مدفن افراد کی شاہکار تاریخ بھی ہے اور مکلی پر منعقدہ عالمی کانفرنس کے نتیجے میں تحقیق دانوں اور ماہرین سے مکلی کی بہتری و ترقی کیلئے ملنے والی سفارشات کو ہم اپنائیں گے اور اس پر عملدرآمد بھی کروائیں گے۔ محققین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ورثہ مکلی قبرستان کو لاحق خطروں کو دور کرنے اور درپیش تمام مسائل کو بھی دور کیا جائے گا۔

کانفرنس میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ تاریخی مکامات کی بہتری کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں وہ محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات کے ساتھ بھرپور تعاون اور مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک لوگوں کو مکلی قبرستان کے تحفظ کے حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ مکلی کا تاریخی قبرستان آپ کا اپنا تاریخی سرمایہ ہے اور لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اس تاریخی مقام کی ترقی و فروغ کیلئے حکومت سندھ سے تعاون کریں اور غیر ملکی ماہرین سے تعاون کرکے اس تاریخی مقام کو اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ٹھٹھہ کے عوام کے ساتھ ہے اور اس عظیم تاریخی سرمائے کی دیکھ بھال کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ا نہوں نے خطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ ہم سب کو صوبہ سندھ میں موجود آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کو آنے والی نسل کیلئے محفوظ کرنے کیلئے کوشیں کرنی چاہییں تاکہ آئندہ نسل ہم کو اچھے الفاظ میں یاد رکھے جس طرح اس کانفرنس مکلی کی تاریخی مقام کو محفوظ کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں اللہ کرے وہ پورے ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube