Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

نظام کوکوسنےوالے

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jan 16, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: طاہر نصرت

ٹھنڈی ٹھاررت میں بھی سیاسی گرما گرمی زوروں پر ہے۔ کہیں مجھےکیوں نکالا کی صدائیں ہیں تو کہیں شرارت بھری عمرانی ادائیں ہیں۔ کہیں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی ہنگامہ کیس میں ضمانت ملنے کا چرچا ہے تو کسی کو حدیبیہ ملز کیس کا باب مکمل طورپر بند ہونے کا صدمہ ہے۔ قومی مفاد سے لیکرذاتی معاملات تک سیاست بازی ہے اور کوئی ایک یا دو نہیں پورے کے پورے سیاسی جغادری اسی میدان میں سرگرم ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ اتنے معصوم اور پاک دامن نہیں، جتنے کہ وہ عوام کو دکھائی دے رہے ہیں۔ مگر پھر بھی ایک تماشا ہے جو لگا ہوا ہے ۔ سیاست کی ہلکی آنچ پرایک دوسرےکے خلاف سازشوں کی بارہ مصالحوں والی کھچڑی جمہوری دیگ میں ہولے ہولے پک رہی ہے۔

ابھی جو فیصلہ کن گھڑی ہے، تو سب کو نظام کی پڑی ہے۔ مگر کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ 1973 کے آئین کے مطابق جو پارلیمانی نظام پہلے سے موجود ہے کیا اس کو مکمل طورپرنافذ کیا گیا ہے؟  کیا اسی آئین کے تحت سب ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق چل رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے لیکرپارلیمنٹ تک اور صحافت سے لیکر عدالت تک ، سب ’’حسب ضرورت اور حسب توفیق‘‘ اپنے اپنے آئینی ردھم میں آگے بڑھ رہےہیں؟

ذاتی مفاد وابستہ ہو تو قانون سازی کمال، ورنہ پارلیمنٹیرینز کو اس گورکھ دھندے سے کیا لینا دینا۔ چھت اور چاردیواری سے محروم چاچا رحیموکی اہلیہ تپ دق سے مرے، ڈینگی ڈنک مارے یا کوئی اور آفت نازل ہوجائے، میڈیا کا اس سے کیا کام؟ 24/7  چلنے والی اسکرینوں پر اگر عمران خان کی شادی کا تذکرہ نہ ہو، مریم نواز کا تبصرہ نہ ہو، آصف زرداری کی دھوم نہ ہو اور ایان علی کی گونج نہ ہوتو ریٹنگ کیسے آئے گی؟

رہی بات عدالت کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کی کارکردگی  شاندارہےلیکن نچلی سطح پرصورتحال بہت ہی مایوس کن ہے۔ ملزم جیل میں گل سڑجاتاہے،مرجاتا ہےلیکن مقدمات کےفیصلےنہیں ہوپاتے۔کئی مقدمےتوایسےبھی ہیں جن میں ملزم کےانتقال کےبعداس کی بریت کا فیصلہ آجاتاہے۔سرگودھاکےسیدرسول کو کوئی کیسے سمجھائے کہ چاچا جس جرم میں تیری جان گئی وہ جرم تو تم نے کیا ہی نہیں۔ قتل کے جھوٹے مقدمے میں دو دہائیاں کال کوٹھڑی میں گزارنےوالے سہالہ کے مظہرحسین کو موت کے بعد ملنے والا انوکھا انصاف ہویا شوہر کے قتل کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے اٹھارہ برس گزارنے والی رانی بی بی کا ماجرا، ہر کیس میں انصاف کا قتل ہواہے۔

آخر کیوں نہ ہو ایسا؟ بیروزگاری اورآبادی کے بم پھٹ رہےہیں اور آبادی جتنی زیادہ ہوتی ہے قدرتی امرہے معاشرے میں جرائم اورعدالتوں میں مقدمات بھی اسی حساب سے بڑھتے رہتے ہیں۔ آپ صرف پنجاب کی آبادی کا اندازہ لگا لیجئے جہاں 11 کروڑ سے زائد نفوس بستے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصورعلی شاہ کے مطابق ضلعی عدلیہ میں اس وقت11 لاکھ سے زائد جبکہ ہائی کورٹ میں ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد کیسز زیر التواء پڑے ہیں۔

اسی طرح  ماتحت عدالتوں کیلئے ججز کی منظورشدہ تعداد 2600  ہے جبکہ ان میں فعال 1800 تک ہیں۔لاہور ہائی کورٹس میں ججوں کی تعداد 60 ہے مگر کام صرف 50 ہی کررہےہیں۔آبادی کےحساب سےصوبےمیں 62 ہزار افراد کیلئے صرف ایک جج میسر ہے جبکہ ہر جج کے حصے میں 657 مقدمات آتے ہیں۔پوری دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہے۔ جرمنی میں 4ہزار افراد کیلئے ایک جج ، فرانس میں 9 ہزار، اٹلی میں 8ہزار، سویڈن میں 7ہزاراور کینیڈا میں 10 ہزارافراد کیلئے ایک جج ہے۔

ایک طرف ججز کی تعداد میں کمی اوپر سے کالے کوٹوں والوں کی ہڑتالیں ہمارے عدالتی نظام کا بھٹہ بٹھا دیتی ہیں۔ گزشتہ سال وکلاء کی ہڑتالوں کی وجہ سے 22 لاکھ مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی جبکہ دولاکھ 40 ہزار کے فیصلے نہ ہوسکے۔

پاکستان کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ انصاف کے حصول کیلئے لوگ ساری زندگی قانونی جنگ لڑتے رہتے ہیں ۔ فیصلے بروقت نہ ہونے کے باعث مقدمات وراثت کی طرح نسل درنسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرینِ قانون کے مطابق مظلوموں کی داد رسی اورانصاف کی بروقت فراہمی کیلئے اے ڈی آریعنی متبادل مصالحتی نظام کواور مؤثر بنایا جائے جبکہ ماڈل کورٹس کو صرف پنجاب تک محدود نہ رکھا جائےیہ سلسلہ اور صوبوں تک بھی پھیلایا جائے تو لوگوں کی کافی مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔

ہمارے ارباب اختیار نہ تو نظام کو برا بھلا کہیں، نہ ہی بابا رحمتا پر انگلی اٹھائیں۔ وہ سب سے پہلے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کیوں؟کیونکہ عوام جب حکمرانوں کی کارکردگی سے مایوس ہوجاتےہیں تو کسی مسیحا کی تلاش اور انتظار میں لگ جاتے ہیں۔ آلودہ پانی سے لیکر دودھ کے نام پر فروخت ہونے والے زہر تک، اسپتالوں کی حالت زار ہویا دیگر اداروں کی بے حسی، کوئی نہ کوئی بابا رحمتا ہی پھر لوگوں کی امیدوں کا محور بن جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube