ننھے فرشتوں کا تحفظ کیسے ہو؟

Samaa Web Desk
January 13, 2018

۔۔۔۔۔**  تحریر : محمد لقمان  **۔۔۔۔۔

لاہور سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع قصور شہر میں بچوں کے ساتھ ہونے والے حالیہ واقعات نے پاکستان بھر میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے، 8 سالہ زینب کے ساتھ زیادتی اور بعد اس کے بہیمانہ قتل کے بعد والدین اپنی اپنی زینب کی سلامتی کے بارے پریشان ہوچکے ہیں۔

قصور میں بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، پاک۔بھارت سرحد سے صرف 18 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس شہر میں ایک سال میں 12 واقعات ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر واقعات میں ملوث مجرموں کی نہ تو نشاندہی ہوئی ہے اور نہ ہی سزا ملی ہے، حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں 4139 بچے کسی نہ کسی طور جنسی زیادتی کا نشانہ بنے۔

ان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعداد 2676، سندھ کے  987، بلوچستان کے 166، اسلام آباد سے 156، خیبر پختونخوا سے 141، آزاد کشمیر سے 141 اور گلگت بلتستان سے 4 بچے تھے، بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث افراد میں خاندان کے قریبی افراد بھی شامل تھے، اجنبی بھی، گویا کہ دور حاضر میں بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ہر سطح پر احتیاط لازم ہے۔

آج سے تقریباً 37 سال پہلے 1981ء میں لاہور میں ایک بچے پپو کو 3 اوباش نوجوانوں نے زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردیا، پپو کے قتل کی خبر اخبارات میں آئی تو پوری قوم قاتلوں کو سزا کیلئے یک زبان ہوگئی، فوجی حکمران ضیاء الحق کا دور تھا، قاتلوں کی کھوج لگائی گئی، انہیں گرفتار کیا گیا اور سرعام لاہور شہر کے ایک چوک میں مجرموں کو پھانسی دی گئی، یوں ہر ممکنہ مجرم کو احساس ہوگیا کہ بچوں کے ساتھ ظلم کیا تو جان جائے گی، پپو کے قاتلوں کو سر عام سزا ملنے سے ایک دہائی تک بچوں کا نہ اغواء ہوا اور نہ ہی زیادتی کا واقعہ۔

قصہ مختصر جب مجرم کو قرار واقعی سزا ملے تو جرم بھی نہیں ہوتا مگر اس کے بعد جب بھی جرم ہوا تو سزا نہیں ہوئی، کوئی نہ کوئی بہانہ کر مجرم کو چھوڑ دیا، یہی وجہ ہے کہ پچھلی ایک دہائی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ہر سال 10 فیصد تک اضافہ ہوتا رہا، ہر بار لوگ سڑکوں پر آتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں، مگر نہ مجرم پکڑے جاتے ہیں اور نہ سزا ملتی ہے۔ اب تو ڈی این اے کے ذریعے بھی مجرم کی نشاندہی ہوسکتی ہے مگر جب انتظامیہ، حکومتی مشینری اور سیاسی قائدین میں سے کوئی اپنی ذمہ داری کو پوری کرنے کو تیار ہی نہ ہو تو کیسے مطلوبہ نتائج  حاصل کیے جاسکتے ہیں، حکومت اور پولیس کی تو واقعات کو روکنے کی ذمہ داری ہے۔

مگر معاشرہ خصوصاً والدین بھی اپنے فرائض پورا کرتے نظر نہیں آتے، پرانے وقتوں میں اگر والدین تھوڑی سی سستی دکھاتے تھے، تو دادا دادی سمیت گھر کے بڑے بچوں کے آنے جانے پر نظر ضرور رکھتے ہیں، مغرب کی تقلید میں پاکستان میں خاندانی نظام ٹوٹا تو بڑوں کا کردار بھی کم ہوگیا، جس کے نتائج اب نظر آنے شروع ہوگئے ہیں، معاشرے کے کمزور طبقات خصوصاً بچوں اور خواتین پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں، ان حالات میں صرف حکومت پر ہی انحصار کرنے کی بجائے والدین اور گھر کے بڑوں کو بچوں کو معاشرے میں ممکنہ خطرات کے بارے میں بتانا ہوگا۔

بڑوں کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کو تربیت دیں کہ ہر ملنے جلنے والے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، کوئی خطرہ محسوس کریں تو فوراً والدین یا بڑوں کو بتائیں، تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم کے دوران ہی بچوں کو برے حالات سے بچنے کی تربیت دی جائے، اس کے بعد ہی اگر کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے تو ریاست اپنا کردار ادا کرے، پکڑے جانے والے مجروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بچوں کے ساتھ زیادتی کی جراٴت نہ کرے۔