امن و امان کو ترستا افغانستان

January 13, 2018

تحریر: کا مران اسلم ہوت

سال 2018 کی پہلی صبح کابل شہر کے چوک پر تمام مزدور لائن سے بیٹھے ہوئے تھے۔ اگر کسی شخص کو اپنے گھر میں مزدوری کروانے کے لیے کسی مزدور کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ شہر کے چوک سے مزدور لے جاتا ہے۔ جاوید گل مزدوروں کی لائن میں بیٹھا تھا وہ صبح صبح اپنے گھر سے روزی کی تلاش میں نکلا تا کہ شام کو بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست ہو سکے لیکن ملکی حالات اتنے ابترہو چکے ہیں کہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بیرونی سرمایہ کاری کس چڑیا کا نام ہے اس سے جاوید گل کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ تو صرف یہ جانتا ہے کہ شام تک اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا ہے۔ لیکن حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ روزگار سے زیادہ زندگی کی فکر لگی ہوتی ہے۔ کب کہاں کوئی خودکش دھماکہ یا ڈرون حملہ ہو جائے اور زندگی کا دیا بجھ جائے کچھ پتہ نہیں۔

انیسویں صدی میں سب سے پہلے بر طانوی سامراج نے افغانستان پر قبضے کے لیے 1839 سے 1842 تک کوشش کی مگر اس جنگ میں تاجِ برطانیہ کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ اس جنگ میں 4500 انگریز اور ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے اور ساتھ 12000 اتحادی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس جنگ کے کئی عرصے بعد بھی کسی ملک کی ہمت نہ ہو سکی کہ وہ افغانستان پر قبضہ کر سکے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دو بڑی طاقتوں کے درمیان تقسیم ہوگئی۔ ان میں سے ایک طاقت سویت یونین تھی جس نے مشرقی یورپ سے وسطی ایشیا تک اپنی سرحدوں کو وسعت دے دی تھی۔ دوسری طاقت امریکا جو سویت یونین کے آگے ہر محاذ پر بند باندھنے کی کوشش میں مصروفِ عمل تھا۔ سویت یونین اپنی سرحدوں کو مزید وسعت دینا چاہتا تھا۔ لہذا اس نے طاقت کے نشے میں دھت ہو کر دسمبر 1979 میں قبضے کے غرض سے افغانستان میں اپنی فوجیں میں اتار دیں۔ سویت یونین شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ جنگ اس کی سپر پاور کو ہمیشہ کی ختم کر دے گی۔ 1989 میں اس جنگ کا اختتام سویت آرمی کے 15000 فوجی، سینکڑوں ہوائی جہاز اور کئی بلین کے فوجی سازو سامان کی تباہی کے ساتھ ہوا۔

سویت یونین کے جانے کے بعد افغانستان میں افغان جنگجو ملک پر قبضہ کرنے لے لیے آپس میں دست و گریباں ہوئے۔ اسی دوران افغانستان میں طالبان نامی ایک گروپ کا جنم ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس گروپ نے افغانستان کے نوے فیصد پر قبضہ کرکے اپنی اسلامی حکومت قائم کرلی جو 2001 تک قائم رہی۔ سویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا تھا۔ اکیسویں صدی کے شروع میں امریکا میں ایک بہت بڑا حادثہ نائن الیون رونما ہوا۔ اس وقت کے امریکی حکمران نے اس کا سارا الزام ایک عرب شہزادے پر لگایا جو اس وقت افغانستا ن میں موجود تھا اور اس وقت کے افغان حکومت سے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا لیکن افغان حکومت نے اس شہزادے کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ سات اکتوبر 2001 کو امریکا نے اپنے 29 نیٹو اور غیر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کرافغانستان پر بمباری شروع کر دی۔ 2001 سے 2018 کے دوران افغانستان میں دوسری اور امریکا میں تیسری حکومت آچکی ہے لیکن افغانستان کے حالات بد سے بتر ہوتے جارہے ہیں۔ قیامِ امن کے لیے اب تک جتنی بھی کوشش کی گئیں سب کامیاب نہ ہوسکیں اور مستقبل میں بھی دور تک افغانستان میں امن قائم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.