بہبود آبادی کے مراکز اور بنیادی مسائل

January 12, 2018

تحریر : محمد فہیم

خاندانی منصوبہ بندی کے تحت چلنے والے کئی منصوبے پاکستان میں عرصہ دراز سے تنقید کی زد میں ہے بچوں کی تعداد قابو میں کرنے کا فیصلہ اور دیگر تمام امور کو ہمیشہ اسلام کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف پاکستان میں 2013کے انتخابات کے دوران تیسری قوت کے طور پر سامنے آئی پی ٹی آئی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مذہبی اور سیکولر دونوں نظریات کے حامی موجود ہیں تاہم ان دونوں نظریات کے درمیان اس با ر خاندانی منصوبہ بندی آ گئی ہے ۔پشاور میں تحریک انصاف کی ضلعی حکومت ہے اور خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے تحت صوبے کے 17محکمے ضلعی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں انہی میں ایک محکمہ بہبود آبادی ہے یہ وہی محکمہ ہے جس کا خاندانی منصوبہ بندی سے گہراتعلق رہا ہے۔پشاور میں یہ محکمہ اب زیر عتاب آگیا ہے اور اسکی بڑی وجہ بھی یہی خاندانی منصوبہ بندی بتائی جاتی ہے ۔ضلعی حکومت نے رواں مالی سال 2017-18کیلئے جب ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا تو اس محکمے کو بوجھ کہہ کر اس کیلئے ایک پائی تک مختص نہیں کی گئی اور تو اور محکمہ کے جاری اخراجات کی مد میں بھی رقم روک لی گئی۔

گزشتہ برس کے تین ماہ او ررواں مالی سال کے 5ماہ گزر گئے لیکن غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں مختص رقم ضلعی حکومت نے روک لی ہے۔محکمہ ذرائع کے مطابق یہ رقم اس لئے روکی گئی کیونکہ ضلع ناظم کو بہبود کیلئے منصوبے پسند نہیں ہیں اور وہ تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں جبکہ ایک گلہ یہ بھی ہے کہ شاید سیاسی ورکرز کو بھرتی کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ۔ترقیاتی فنڈ تو رواں سال اس محکمہ کا ہے ہی صفر لیکن اگر جاری اخراجات پر نظر ڈالی جائے تو اس مد میں ایک کروڑ 57لاکھ 52ہزار روپے ضلع کونسل منصور کر چکی ہے لیکن اس مد میں بھی جاری کئے گئے ندسے صفر سے آگے نہیں بڑھ رہے ۔ملازمین کی تنخواہیں تو بروقت ہیں تاہم مفت ادویات کی فراہمی، تعمیر و مرمت اور کرایوں کی مد میں اب ادائیگی نہیں ہو رہی ضلع میں اس وقت بہبود آبادی کے زیر انتظام 65فلاحی مراکز کام کر رہے ہیں جن میں 43ایسے سنٹرز ہیں جو کرایے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں اور اپریل سے نومبرتک کے آٹھ ماہ کا کرایہ محکمہ نے مالکان جائیدا دکو ادا نہیں کیا ہے جس کے بعد اب بیشتر مالکان نے محکمہ کو عمارتیں خالی کرانے کا نوٹس بھی تھما دیا ہے عمارتیں خالی کرنے کے بعد مذکورہ تمام مراکز مجبورا بند کر دئے جائیں گے محکمہ ان آٹھ ماہ کے کرایے کی مد میں 15لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کیلئے ڈپٹی کمشنر کو کئی خطوط بھی ارسال کر چکا ہے لیکن ضلعی حکومت کی خاموشی ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اسی طرح ضلع کے تمام فلاحی مراکز کو ادویات کی فراہمی اور دیگر سہولیات کیلئے محکمہ کے پاس 4گاڑیاں موجود ہیں جن میں ایک گاڑی مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے جبکہ ایک گاڑی مرمت کیلئے ورکشاپ پر موجود ہے تاہم ورکشاپ کا بل ادا کرنے کیلئے نہ تو محکمہ کے پاس پیسے موجود ہیں اور نہ ایندھن کی مد میں منظور کی گئی رقم ابھی جاری کی گئی ہے جس کے باعث اب یہ گاڑیاں بھی غیر فعال ہو گئی ہیں۔کوشش کی گئی کہ ضلعی حکومت اس حوالے سے اپنا مﺅقف سامنے لائے لیکن ضلع ناظم پشاور محمد عاصم خان نے یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ کر دیا کہ اس مسئلے کے بارے میں انہیں کچھ علم نہیں ہے کبھی فرصت میں اس کی تفصیلات جان کر ابلاغ عامہ کو ضرور بتائیں گے۔ضلع ناظم کا یہ جواب شاید انہیں خود درست لگا لیکن اتنا اہم مسئلہ ان کی نظر سے نہیں گزرا یہ تو یا شاید ان کی دیگر مصروفیات کے باعث ہو گا یا شاید یہ محکمہ ان کی مصروفیات میں شامل ہی نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ضلع ناظم سب جان پر بھی انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔پشاور کے ضلع ناظم بھی آخر سیاست سیکھ ہی گئے ہے ۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.