زینب کی فریاد

January 12, 2018

کچھ برس پہلے کی بات ہے ایک خاتون نے بتایا کہ وہ شوہر کیساتھ حج پرجانا چاہتی ہیں لیکن لوگ اس نیک کام میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔تفصیل پوچھی تو بولیں ’’لوگ کہتے ہیں جب تک بیٹیوں کی شادی نہ کر دی جائے ،حج ادا نہیں ہوتا،حالانکہ دین نے تو ایسی شرط نہیں لگائی گئی‘‘۔’’چالیس پینتالیس دن تک بچیاں کہاں رہیں گی؟‘‘میں نے پوچھا’’اپنے چچا کے گھر رہیں گی اور کہاں ؟‘‘ اندازِ میں بے فکری تھی۔

’’یقیناایسی کوئی شرط دین میں نہیں لیکن جب اللہ نے آپ کو بیٹیاں عطا کیں تب مالی حیثیت کے لحاظ سے آپ پر حج فرض نہیں ہوا تھا ،جبکہ بیٹیوں کی حْرمت کی حفاظت اور بہترین تربیت تو انکی پیدائش کیساتھ ہی آپ پر فرض کی گئی تھی ناں۔۔‘‘میں نے سمجھایا’’ مطلب ؟؟‘‘

’’مطلب کہ ایک فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے آپ دوسرے کو نظرانداز کر رہی ہیں ۔‘‘ میں نے انہیں واضح الفاظ میں وہ وجوہات بتائیں جن کی بنا پر شاید کسی نے بیٹیوں کی شادی تک ان میاں بیوی کو حج پر جانے سے گریز برتنے کاکہا لیکن بڑوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود کو عقلِ کْل سمجھتے ہوئے چھوٹوں کی ہر بات کو’’بچوں جیسی بات ‘‘ کہہ کر ٹال دیتے ہیں اور یہی ہوا بھی۔

لیکن معصوم زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے ان لوگوں کی بات پر تصدیق کی مہر لگا دی ہے جو بیٹیوں کی شادی سے پہلے انہیں اتنے لمبے عرصے کیلیئے اکیلے چھوڑ کر والدین کے کسی بھی مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے خلاف ہیں لیکن یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی لازم ہے کہ صرف زینب ہی کے والدین عمرے کی ادائیگی کیلئیے ملک سے باہر تھے جبکہ اس سے پہلے ایمان ، فوزیہ، نور فاطمہ، لائبہ، نورین، ثنا، تہمینہ، عاصمہ اور عائشہ جیسی معصوم بچیاں والدین کے ہوتے ہوئے اسی دردناک طریقے سے موت کی نیند سلائی گئیں لیکن فرق بس اتنا تھا کہ نہ تو انکے لئے سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے والا کوئی تھااورنہ انہیں پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی اس حد تک کوریج مل سکی کہ آرمی چیف کربناک موت پر چونکتے یا چیف جسٹس از خود نوٹس لیتے ورنہ یہ تمام پھول اسی قصور کے تھے جہاں سن دو ہزار چھ سے دو ہزار چودہ تک جنسی زیادتی کا کاروبار اتنا عروج پر رہا کہ پاکستان کی تاریخ کا اب تک کا سنگین ترین جنسی اسکینڈل کہلایا اس اسکینڈل کا شکار بننے والوں میں پچانوے فیصد تعداد بچوں اور پندرہ فیصد بچیوں کی تھی جن سے زیادتی کی وڈیوزنہ صرف پورن سائٹس پر مہنگے داموں بیچی جاتیں بلکہ والدین کو بلیک میل کر کے بھی لاکھوں روپے بٹور لئے جاتے۔

اور صرف قصور نہیں بلکہ اکثر اس طرح کے واقعات اخبارات کے پچھلے صفحات پردو سطری خبر کے طور پر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جن پر احتجاج کرنے کا وقت کسی ایک عام پاکستانی کے پاس اسلئیے نہیں ہوتا کہ اپنی بہن بیٹیاں آنکھوں کے سامنے بیٹھی گڑیا سے کھیلتے یا کتابیں پڑھتے ہوئے ہنستی مسکراتی نظر آ تی ہیں۔

ذرا سوچئیے ہم تواس جسم کی مانند ہیں جس کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرا اس کا کرب محسوس کرے لیکن اس کے باوجوداس طرح کے واقعات کا تناسب ایسے ملک میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں تو آیا لیکن عوام ملک میں اسلامی نظام کانفاذجبکہ انٹرنیٹ پرفحش موادسےلتھڑی عریاں وڈیوز دیکھنا چاہتی ہے۔

جی ہاں، حقیقت تسلیم کیجیئے کہ ہمارے ملک کا نام پورن وڈیوز دیکھنے میں پولینڈ،فلپائن،ترکی،سعودی عرب،انڈیا،مراکش،ایران،ویتنام اور مصرکو بالترتیب دو سے دس نمبروں پر چھوڑتا ہوا سب سے پہلے نمبر پر آیا،تو پھر کیاہماری بیٹیاں محفوظ ہیں؟بہانےتراشنےکےطورپر نوجوان لڑکیوں کےجدیدلباس اور کبھی بیباکانہ انداز کو الزام دیا جاتا ہے لیکن جب چھ سات سالہ معصوم بچیاں بھی ہوس کی بھینٹ چڑھنے لگیں تو اسکا بھی کوئی جواز ہے؟

عام طور پر زیادتی کی شکار بچیاں اسی درندے کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں اوراگرایسا نہ ہو تو’’اسلامی‘‘ جمہوریہ پاکستان میں حواکی بیٹیاں معاشرے کی چھیدتی نظروں کے خوف سے خود کشی کر لیتی ہیں اور جو ذرا ہمت کر کے اپنے والدین کیساتھ کورٹ کچہری تک پہنچ بھی جائیں تو وکلاء کے عریاں سوالات انہیں زمیں میں زندہ دفن ہو جانے کی خواہش پر مجبور کر دیتے ہیں ۔

باوجود اسکے کہ پاکستان پینل کوڈ کے تحت بچوں کیساتھ بد فعلی یا جنسی زیادتی کے مجرموں کو جرمانے کیساتھ ساتھ عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ سزائیں دے گا کون؟دلوائے گا کون؟؟وہ عدالتیں جن پر دن میں دو ڈھائی سو کیسز سننے کا بوجھ ہے؟؟؟وہ حکمران جو حکومت بچانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں؟؟؟وہ اپوزیشن جو دلوں کے بجائے پاکستان پر حکومت کے خواب دیکھتی ہو؟؟؟یا عوام نما ہجوم جو ایک گھرانے کی دادرسی میں کسی دوسرے کا وسیلہ روزگار نذرِ آتش کرنے کو بڑا کارنامہ خیال کرتا ہو ؟؟؟

قران پاک بتاتا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں برائیاں حد سے بڑھنے پر اللہ نے اصلاح کیلیئے پہلے پیغمبرتو بھیجے لیکن برائیاں برقرار رہنے کی صورت میں پھر تباہی و بربادی ہی انکا مقدر ٹھہرتی۔تو یاد رکھئیے آخری نبی ﷺ کی صورت ہم پر پیغمبر بھیجے جا چکے لیکن اسکے باوجود برائیاں نہ صرف برقرار بلکہ تیزی سے پھیل رہی ہیں تو اپنے مقدرکے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔

لہذا قبل اس کے کہ اللہ کی خاموش لاٹھی کی آواز سنائی دے ،جاگ جائیےتاکہ آئندہ کسی زینب کا پرسہ دینے کی نوبت نہ آئے۔