بیٹیاں اور بیانات

Sabihuddin Shoaiby
January 12, 2018

قصور میں پامال کی گئی ننھی پری ہماری بیٹی تھی۔ بیٹی تو خود محبت کا دوسرا نام ہے، پھر کوئی اور نام کیوں لیا جائے ،کیا ضرورت ہے۔ دوروز میں قصور والی بیٹی سے ہمدردی کےلیے پورا پاکستان سڑکوں پر امڈ آیا ہے۔ ایسے میں کچھ رہنما بھی بیانات کی پٹاری کھول کر وہی گھسے پٹے جملے لیے بازار میں آگئے ہیں۔کچھ بیانات میں بیٹی کےنام کی جگہ لفظ "بیٹی" لکھ کردیکھ لیں کاروبار سیاست کا اہم راز سمجھ جائیں گے۔

بیٹی جب درندوں کے چنگل میں تھی تو حکمران کہاں تھے"۔ ترچھی ٹوپی والے لالہ کا یہ سوال ان کے گلے میں ہی گھٹ کر رہ جاتا ۔ اگر دیر سے قصور کے راستے میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی پڑتا ۔ کاش جرگے کے فیصلوں کا شکار وہاں کی بیٹی اور اس کےخاندان کو بھی کوئی انصاف دلاتا۔ کاش خٹک صیب سے بھی کوئی استعفیِ مانگنے والا ہوتا۔

"بیٹی کوانصاف دلانا وزیراعلیِ پنجاب کےلیے بڑا چیلنج ہے "

یہ بیان دینےوالے کراچی کے خواجہ صاحب خود کئی چیلنجز سے بخوبی نمٹ چکے ہیں۔ بارہ مئی ، بلدیہ فیکٹری کیس کو تو چھوڑیں ۔ اب سے ایک برس قبل اورنگی ٹاون میں بھی ایک بیٹی اسی طرح درندگی کا شکار ہوئی تھی، اس کے والدین کو انصاف دلانے کا چیلنج پورا کرکے جو ٹرافی خواجہ صاحب کو ملی ہے۔ وہی چھوٹے میاں صاحب کو دینے کیلئے یہ بیان دیا ہے انہوں نے

"بیٹی کے واقعے کو بھول نہیں سکتے" اسمبلی میں ایسا کہنےوالےسندھ کےسینئر وزیر شاید اس بیٹی کو بھول گئے جسےشادی سے انکار پر رات کےاندھیرے میں گھر میں گھس کر قتل کردیا گیاتھا اور بااثرمجرم اب تک اس کےخاندان کودھمکیاں دے رہاہے۔

"سانحہ قصور انتہائی المناک واقعہ ہے" کہنےوالے جیالے لیڈر اور"دل ٹوٹ گیا ہے" کہنے والی ان کی بہن کو شاید لاڑکانہ کی بیٹی کی خبر ٹوئٹر کےذریعے نہیں پہنچی جسے اسی طرح زیادتی کانشانہ بناکر قتل کردیاگیا تھا اور لاش اسپتال سے گھر لےجانے کےلیے ایمبولنس بھی دستیاب نہیں تھی ۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے پچھلے سال کے دل دہلادینےوالے اعداد و شمار پیش کیےہیں ۔ سال میں پانچ سو سےزائد ریپ اور۔۔دوسو انتیس گینگ ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ کسی کیس میں رشتے دار ،کسی میں استاد،اکثر میں پڑوسی اورمحلے دار ملوث تھے۔ مگر معاشرہ ہر کیس میں سوفیصد ذمہ دار ہے۔ اور معاشرے کی بہتری میں ناکام سیاسی قائدین برابر کےحصہ دار

 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.