سیاست نہ کریں، زینب کو انصاف دیں

January 11, 2018

  

۔۔۔۔۔**  تحریر : سید احسن وارثی  **۔۔۔۔۔

ماں باپ جو اپنے رب کو راضی کرنے کی غرض سے عمرہ کی ادائیگی میں مصروف تھے کہ ان کی غیر موجودگی میں ایک پیاری سی معصوم ننھی کلی زینب جسے ابھی کھِلنا تھا، خوشبو جسے اپنی خوشبو سے معاشرے کو مہکانا تھا، اس خوشبو کو مہکنے سے پہلے، کلی کو کھِلنے سے پہلے  انسان کی حوس اور معاشرے کی بےحسی کا نشانہ بنادیا گیا۔

چند روز قبل لاپتہ زینب کی تلاش جاری ہی تھی کہ شہباز خان روڈ سے ایک بچی کی لاش ملی جسے پنجاب کے ضلع قصور کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جس کی بعد میں شناخت زینب انصاری کے نام سے ہوئی جو 5 روز قبل لاپتہ ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز کے معائنہ کرنے کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ زینب جس کی عمر 7سے 8 سال ہے، اسے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کردیا گیا۔

ایک معصوم بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور پھر لرزہ خیز قتل نے حقیقتاً جھنجوڑ کر رکھ دیا، اس المناک سانحہ پر ہر آنکھ اشکبار تھی کیونکہ یہ صرف ایک زینب انصاری کی بات نہیں تھی، یہ اُن دوسری زینب کا سوال تھا جو اس بے حس معاشرے میں غیر محفوظ اور بے یقینی کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہیں۔

جب منگل کو خبر آئی کہ ایک ننھی کلی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ہے اس وقت تک بے ضمیر اشخاص کیلئے کوئی خبر نہیں تھی، چند باضمیر افراد  سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے اپنے دکھ اور غم کا اظہار کررہے تھے اور ملوث افراد کو کیفرِکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ افسوس ایک زینب کا قتل ہی کافی نہ تھا ہمارے حکمرانوں اور سربراہان کو جھنجوڑنے کیلئے شاید اسی لئے اگلے روز جب قصور میں زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کیخلاف احتجاج کیا تو اس موقع پر احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے سختی سے نمٹا گیا، جس میں 2 افراد حاں بحق ہوگئے، اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جس کے بعد چند اشخاص کی جانب سے اس بچی کے ساتھ ہونیوالے ظلم کو اپنی سیاست کرنے کا ایسا سنہری موقع ملا جس کے بعد انسانی ہمدردی کی جگہ سیاسی ہمدردی نے لے لی،  بیان بازی اور مذمتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

میری التماس ہے کہ خدارا المناک سانحات پر اپنی سیاست چمکانے کے بجائے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے سلسلے کو روکا جائے، قصور کے حوالے سے اس طرح کی خبریں آج ہی نہیں گزشتہ کئی سالوں سے منظرعام پر آتی رہی ہیں اور یہ معاملہ صرف قصور ہی نہیں پورے پاکستان کا ہے، ہمیشہ ایسے واقعات پر چند دن کیلئے آواز اُٹھائی جاتی ہے، پہلی بات تو یہ کہ عام انسان کے ساتھ زیادتی کرنیوالا کبھی گرفتار نہیں ہوتا اور اگر گرفت میں آ بھی جائے تو درندہ صفتوں کو عبرتناک سزائیں نہیں دلوائی جاتی، جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان درندہ صفتوں کو معاشرے کے بااثر افراد کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے، جب تک اُن بااثر افراد کو لگام نہیں ڈالی جائے گی اس طرح کے واقعات ہر ماہ ہر ہفتے رونما ہوتے رہیں گے۔

ہم اس حقیقت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ معاشرہ ایک ہی صورت میں تبدیل ہوسکتا ہے اور وہ ہے کہ کسی شخص کی جانب دیکھنے کے بجائے خود سے اپنے بنیادی حقوق کیلئے کھڑا ہوا جائے، کسی بھی سانحہ کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کیلئے ہر شخص کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ کسی معصوم کو تو ہمارے اس بے حس معاشرے کے بے حس لوگوں کی سیاست کا نشانہ بننے سے بچایا جاسکے۔