Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

پولیس گردی

SAMAA | - Posted: Dec 31, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Dec 31, 2017 | Last Updated: 4 years ago

جب قوم کے محا فظ ہی قاتل بن جائیں اور غنڈاگردی شروع کر دیں تو عوام انصاف اور تحفظ کے لیے کس کے پاس جائے ۔آج کل ہمارے وطن عزیز کی پولیس نے شہریوں پر تشدد، لوٹ مار،غنڈاگردی شروع کردی ہے ۔ ہر روز سوشل میڈیا پرپولیس والو ں کی عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی وڈیو منظر عام پر آرہی ہیں اور کچھ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔

کل ہی کی بات ہے،ہم بس کا انتظار کررہے تھےکہ  وہاں ایک پولیس کی گاڑی آکر روکی۔ ہم سمجھے فروٹ کے ٹھیلےہٹانے آئی لیکن وہ پولیس والے نے ٹھیلے والے سے بہت سارے فروٹ لیے اور بغیر پیسے دیئے چلے گئے ۔ ٹھیلے والے نے اُن کے جانے کے بعد دوتین گالیاں دیں بس اور وہ کرہی کیا سکتا تھا؟

اس طرح کے مناظر آپ کو بےشمار جگہ  دیکھنے کو ملتے ہیں۔چیکنگ کے بہانےموٹرسائیکل اور گا ڑی والوں سے رشوت لیتے ہیں۔اگر کوئی کچھ بول دے تو ان پر تشدد کرتے ہیں۔ بزرگو ں کےساتھ بھی بدسلوکی کرتے نظر آتے ہیں اور ہم صرف افسوس کر تے ہیں۔

بس پاکستان میں ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی خبر سننے کو ملتی ہے۔ ابھی حال ہی میں کراچی کے فیروز آباد تھانے میں ڈی ایس پی کے ہاتھوں تین نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کے معاملے میں کس طرح پولیس اپنے پیٹی بھائی کو بچاتی رہی جبکہ افسران کی جانب سے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کو بھیجی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ ڈی ایس پی کے دوست کے بیٹے اور 3 نوجوانوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ ڈی ایس پی نے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تینوں نوجوانوں کو حراست میں لیا اور برہنہ کر کے 3 گھنٹے تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ میڈیا پر شور مچا تو ڈی ایس پی یعقوب جٹ نے ڈھٹائی سے نہ صرف تشدد کا اعتراف کیا بلکہ اپنے ظلم کی زبردست دلیل بھی گھڑ لی۔ انہوں نے پولیس لائن آکر ایک اہلکار کی لڑکیوں کو چھیڑا تھا، اسی لئے میں نے ان کو مارا جبکہ لڑکیوں کو چھیڑنے کا الزام جھوٹا نکلا۔ ڈی ایس پی فیروز آباد نے دوست کے بیٹے کا جھگڑا تھانے میں نمٹایا۔ پولیس نے ڈی ایس پی کوبچالیا اور جھگڑے کے مرکزی کردار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔
ابھی حال ہی میں ایک پولیس والے کی گولی سے 12سالہ ریحان کی زندگی ختم کردی۔ریحان صبح اسکول جاتا تھا اور شام میں ایک دودھ کی دکان میں کام کرتا تھا اور اپنے گھر کی کفالت بھی کرتا تھا۔ ریحان کا ناحق قتل یہ ایک انفرادی جرم ہے۔ کیا ریحان کے قتل کاانصاف ہوگا؟کیا اُس پولیس والے کو سزا ہوگی ؟اس طرح کے بیشمار واقعات پیش آرہے ہیں ۔

ڈسکہ نیو کچہری میں پولیس کی نگرانی میں ملزمان کا غریب خاتون پر سرعام تشدد پولیس کا ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے سے انکار آخر انکار کیوں ؟ملتان پولیس کا شرمناک عمل اہلکاروں کا اپنے دادا، دادی کی عمر کے بزرگ جوڑے پر وحشیانہ تشددکیا۔ شرم کا مقام ہے کہ بزرگوں پر تشددکیا۔ان پولیس والوں کو کس نے یہ حق دیاہے کہ وہ کسی معززشہری کو روک کر ان سے پیسے لے یا اُن پر ہاتھ اُٹھائے یا ان کو گولی مار دے۔

آج ہمارے وطن عزیز میں ہر شریف شہری پولیس سے ڈرتا ہے۔کیوں کہ پولیس طاقت کے نشے میں اپنے فرائض تک بھول گئی ہےاورپولیس کی ذمہ داری کسی بھی معا شرےمیں امن وامان قائم رکھنا ہے۔ معاشرے کے مجبورطبقات کی مدد کرنا۔ پولیس درحقیقت ریاست کی طرف سےایک ایسے کام پر مامور ہے جس طرح اللہ پاک فرشتوں کو اپنی مخلوق کی مدد کے لیے بھیجتا ہے لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں پولیس نام کی فورس فرشتوں جیسا نہیں بلکہ ظالموں جیسا سلوک کررہی ہے۔

بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ عجیب طرح کی کشکمش میں مبتلاہے۔سیاست دان اپنی مر ضی ومنشاءسے اپنے علاقے کا تھا نیدار مقرر کرواتے ہیں۔ پولیس کومظلوم کی مدد کی بجائے با اثر امداد اپنے منحالفین کے لیے استمال کرتے ہیں۔ محافظ کا لفظ پولیس اپنے لیے استعمال کرکے عملی طور پر جس طرح سے عوام کے سا تھ وحشیانہ اور درندوں والا سلوک کررہے ہیں،اس کےبغیر لفظ محافظ لفظ راہزن کا مترادف بنتا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔

قصور پولیس کا نہیں بلکہ اِس کو کرپٹ کرنے والوں کا ہے جو پولیس کو دباؤ میں رکھ کر ان سے ہرناجائز کام کرواتے ہیں ۔جب پولیس سے حکمران ہی ناجائز کام کروائیں گے تو پھر پولیس کیسے قانون کی پابندی کرے گی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube