Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

ڈالرکی اونچی اڑان

SAMAA | - Posted: Dec 30, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 30, 2017 | Last Updated: 4 years ago

ڈالر نے پھر پاکستانی روپے کودھوبی پٹکا دے مارا۔یہ خبر ہر چینل پرتڑکے لگاکر چلائی جا رہی ہے ۔اخبارات چیخ رہےہیں ڈالر بے لگام ہوگیا ، سٹہ باز میدان میں آگئے، منی چینجرز راتوں رات لکھ پتی سے کروڑ پتی بن گئے۔ ڈالر کی قدر مارکیٹ میں بڑھتے دیکھ کر ڈالر مافیا سرگرم ہوگیا۔۔ملک میں اتنا شور شرابا مچا کہ خداکی پناہ لیکن آفرین ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پاکستان پر کہ چپ سادھ رکھی ہے۔ کسی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہورہی ۔ ملک میں ڈالر کی بڑھتی قیمت کی وجہ برآمدات میں اضافے کی کوششیں بتائی جا رہی ہے۔

جب ملک میں ڈالر ساٹھ روپےہوا تو حکومت کی طرف سے کہا گیا برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ جب ڈالر سو روپے کا کیا گیا تو بھی کہا گیا کہ ملک کی ایکسپورٹ بڑھے گی اور ڈالر ملک میں آئیں گے ۔ اب ڈالر ایک سو دس روپے سے بھی تجاوز کرگیا ملک کی ایکسپورٹ تو نہ بڑھی ہاں ڈالر کے مقابلےمیں روپیہ بے قدر ہوگیا اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اسٹیٹ بنک خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ سوال اٹھایا گیاکہ روپے کو اس کی اصل قیمت پرواپس لانے کےلئے عدلیہ یا فوج کو میدان میں آنا پڑے گا؟۔مسئلے کاایک ہی حل نظر آرہاہے کہ یا تو عدلیہ سوموٹو ایکشن لے اسٹیٹ بنک سمیت منی چینجرز کے نمائندوں کو عدالت میں طلب کرے یا پھر فوج کمانڈو ایکشن کرے تاکہ راتوں رات ڈالرکو نایاب کرنے والے بے نقاب ہوسکیں۔

کرنسی مافیا نے خاموشی سے ڈالر کے ریٹ بڑھا دیئے برسراقتدار پارٹی کے سربراہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سیاسی الجھنوں میں الجھے ہوئے کرنسی پر نظر رکھنے والا کوئی والی وارث نہیں ہے کرنسی مافیاکےخلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا ایسے میں سابق صدر پرویز مشرف کا دور یاد آتاہے جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو کرنسی مافیا نے ساٹھ روپے کا ڈالر سو روپےمیں پہنچا دیا تھا ایسے میں پرویز مشروف نے کرنسی مارکیٹ بند کردی اس کے بعد کرنسی ڈیلرز نےیقین دہانی کرائی کے ڈالر کو اس کے اصل ریٹ پر لایا جائے اور ڈالر ساٹھ روپے پر آگیا ۔۔ جب تک پرویز مشرف برسراقتدار رہے ڈالر اپنی جگہ منجمد رہا۔۔۔ کیا وجہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں اسٹیٹ بنک ڈالر کو بڑھنے سے نہیں روک سکتا منی چینجرز نے خاموشی سے ڈالر ایک سو سات روپے سے بھی اوپر پہنچا دیا۔

اوپن مارکیٹ جہاں سے اربوں ڈالرز ہنڈی اور حوالہ کےزریعے غیرقانونی طور پر پاکستان سے باہر بھیجے گئے کئی منی چینجرز اس غیرقانونی کام میں پیش پیش رہے اور ماضی میں کئی منی چینجرز حوالہ کیس میں گرفتار بھی ہوئے ۔ آئے دن ملک کے کسی نہ کسی ائیر پورٹ پر کرنسی اسمگلنگ کے الزام میں کوئی نا کوئی مسافر پکڑا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسافر کے پاس اتنی کرنسی آتی کہاں سے ہے ، اسمگلرز نے بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی کہاں سے خریدی اور یہ کس کی ملکیت ہے۔ کیا اسمگلرز نے یہ کرنسی بینکوں سے جمع کی یا اس ساری کارستانی کے پیچھے منی چینجرز مافیا ہے۔ کرنسی مافیا بڑے فخر سے کہتی ہے ہم حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں سب کو پتہ ہے کہ حکومت کو کرنسی ایکسچینج سے ٹیکس اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ملتا ہے اور حکومت اور عوام کو نقصان ملک میں مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔

ملک سے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ روکنےکے لئے منی چینجرز پر پابندی لگادی جائے ماضی میں بھی پاکستان میں عوامی سطح پر ڈالر کی خرید و فروخت غیر قانونی تھی منی چینجرز نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔جس کو ڈالرز کی ضرورت ہوتی تھی بینک سے لیتا تھا اگر بینک کے پاس ڈالرز نہیں ہوتے تھے تو ٹریولز چیک ملتے تھے غرض یہ کہ ملک سے باہر جانے والے کو ڈالر مل جاتے تھے۔

اسٹیٹ بینک اور حکومت کو چاہیئے کہ ڈالرز پرکنٹرول کرنے کے لئے منی چینجرز پر فوری پابندی لگائے اور ملک سے باہر جانے والوں کو ویزا دیکھ کر اس کی ضرورت کے مطابق کیش ڈالرز یا ٹریول چیک دے تاکہ ملک میں ڈالرز کی بلیک میلنگ ختم ہوسکے اگر حکومت اور اسٹیٹ بینک نے ڈالر مافیا پر گرفت مضبوط نہ کی تو کوئی بعید نہیں کہ ڈالر کی بلند پرواز ملک کے لیے سنگین بحران پیدا کر دے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube