Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

قبل از وقت انتخابات اور عسکری قیادت کی اینٹری

SAMAA | - Posted: Dec 27, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 27, 2017 | Last Updated: 3 years ago

۔۔۔۔۔**  تحریر : نوید نسیم  **۔۔۔۔۔

پانامہ لیکس کیس فیصلہ آنے کے بعد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے فوری طور پر نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا گیا، جسے بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنالیا، فیض آباد دھرنے اور جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس مطالبے میں شدت آگئی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کی سینیٹ میں اِن کیمرہ بریفنگ کے بعد لیکن سیاسی طوفان تھم گیا ہے، اس کے باوجود کے سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر علامہ طاہر القادری حکومت کیخلاف قصاص تحریک چلانے کا اعلان کرچکے ہیں، جسے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان عوامی لیگ کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔

چیف آف آرمی اسٹاف کی بریفنگ کے بعد مردم شماری سے متعلق اپوزیشن کے تحفظات بھی دور ہوگئے، جس کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی حلقہ بندیاں کرنے کا کام شروع ہونے کو ہے، اس ضمن میں سیکریٹری پاکستان الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کا کام 15 جنوری سے شروع کردیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد عمران خان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سامنے آنیوالے مطالبے کی وجہ سے قبل از وقت انتخابات ہونے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی اعلان کردہ نئی حلقہ بندیاں 3 مئی تک مکمل ہوں گی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابات اس تاریخ سے پہلے منعقد نہیں کروائے جاسکتے، دوسری طرف جو سیاسی جماعتیں مارچ میں ہونیوالے سینیٹ انتخابات سے پہلے اسمبلیاں ختم کروا کر نئے انتخابات کی امید لگائے بیٹھی تھیں، ان کے خواب بھی چکنا چور ہوگئے کیونکہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں، لہٰذا یا تو ان اپوزیشن جماعتوں کو سینیٹ انتخابات مؤخر کروانا پڑیں گے یا پھر سینیٹ انتخابات کی کڑوی گولی نگلنی پڑے گی۔

اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی حکومت مخالف قصاص تحریک شروع بھی ہوتی ہے، اپوزیشن جماعتیں ساتھ دیتی ہیں اور ان کے مطالبات اور ان کیخلاف حکومتی ایکشن کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ اسمبلیاں توڑ دی جائیں، تب بھی اپوزیشن جماعتوں کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے اور اس کی وجہ یہ کہ اسمبلیاں ٹوٹنے سے سینیٹ انتخابات کا التواء تو ممکن ہے لیکن عام انتخابات کا قبل از وقت انعقاد ممکن نہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سینیٹ کا دورہ در حقیقت حکومت کو بہت ساری مصیبتوں سے چھٹکارا دلوا گیا، اس دورے کے بعد جو اپوزیشن جماعتیں مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں سے متعلق سراپا احتجاج تھیں، زیر التواء آئینی ترامیم کرنے کیلئے راضی ہوگئی ہیں، ماسوائے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق آئینی ترمیم کے، جس کو حل کرنے کیلئے بھی عسکری قیادت کوششیں کررہی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سیاستدان اپنے مطالبات منوانے یا پھر ہدایات لینے عسکری قیادتوں سے ملتے ہیں لیکن آرمی چیف کے حالیہ دورے نے اس تاثر کو غلط ثابت کردیا کیونکہ اس بار سیاستدان عسکری قیادت سے ملنے راولپنڈی نہیں گئے بلکہ آرمی چیف نے اپنے قریبی جرنیلوں کے ہمراہ سینیٹ میں اینٹری دی۔

دوسری بات سوچنے کی یہ بھی ہے کہ آرمی چیف کے دورے سے پہلے تک حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کئی معاملات پر ڈیڈ لاک چل رہا تھا آرمی چیف کی اینٹری کے بعد تمام مسائل حل ہوگئے، جس سے ثابت ہوگیا کہ آرمی چیف کے سائے تلے تمام حکومتی اور اپوزیشن سیاستدان ایک ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube