Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

یروشلم اور عالمِ اسلام

SAMAA | - Posted: Dec 27, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Dec 27, 2017 | Last Updated: 4 years ago

یروشلم دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ تین بڑے مذاہب  اور قوموں مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمانوں کیلئے  اہمیت کیوجہ بیت المقدس ، مسجدِ اقصی اور  قبہ الصخرہ یعنی ڈوم آف  دی راک  کا  یہاں موجود ہونا ہے۔بیت المقدس 11 فروری 624 تک مسلمانوں کا قبلہ اول رہا،حضورﷺ نے یہاں نبیوں کی امامت فرمائی ،یہیں  ایک  چٹان سے آپ آسمان پرتشریف لے گئے۔ اموی خلیفہ عبدالمالک نے اس چٹان کے گرد سونے کی عمارت بنادی  جسےڈوم آف دی راک کہا جاتا ہےاورحضرت عمرِ فاروق نے مسجدِ اقصی تعمیر کروائی۔عیسائیوں کے مطابق یہیں سے حضرت عیسی کو آسمان پر آٹھایا گیا۔

یہودیوں کیلئے یہ شہر اس لئےمقدس ہے کیونکہ ان کےمطابق یہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی۔ اس کےعلاوہ یہودیوں کاعظیم معبد ہیکلِ سلیمانی جس کوحضرت سلیمان نےتعمیر کیا تھاوہ بھی یہاں موجود تھا جس کو بابل کے بادشاہ بخت نصر نے  586 قبل مسیح میں تباہ کردیا لیکن اس کی بیرونی دیوار چھوڑ دی تھی۔ اب یہودی یہاں ہیکلِ سلیمانی  کی تعمیر اور توسیع کرنا چاہتے ہیں۔1517 سے 1917 تک 400 سال  یروشلم سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہا۔ مسلمان اس پر حکمران رہے۔لیکن پہلی جنگِ عظیم میں  یہودیوں نے برطانیہ کا ساتھ اس شرط پر دیا کہ وہ یہودیوں کو ان کا مقدس شہر واپس دلوادیں گے۔پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کو شکست ہوئی جس کے بعد فلسطین برطانیہ کے پاس چلا گیا۔

برطانیہ نے  بلفرڈ ڈیکلریشن کے تحت یہ اعلان کیا کہ وہ فلسطین میں یہودیوں کیلئے مرکز قائم کرنا چاہتے ہیں اس مقصد کے تحت 1922 سے 1935 تک انہوں نے مغربی علاقوں سے فلسطین میں یہودیوں کو چھوڑا جس سے ان کی آبادی 10 فیصد سے بڑھ کر 27فیصد ہوگئی جو مزید بڑھتی گئی ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1947 میں برطانیہ کمزور ہونے کی وجہ سے ہٹ گیا  اور ساری ذمہ داری اقوامِ متحدہ پرآگئی اور اس نے 29 نومبر 1947 کو فلسطینی علاقے کو تقسیم کرنے کیلئے ایک قرارداد پاس کی  جس کے تحت یہ  فیصلہ ہوا کہ علاقے کو دو ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے ایک میں یہودی رہیں  اور دوسری میں عرب۔یروشلم تمام مذاہب کے ماننے والوں کیلئے مقدس ہے اس لیئے اس جگہ پر عالمی حکومت قائم رہے گی ۔ اقوامِ متحدہ خود اس کے معاملات دیکھے گا۔اسرائیل کی ریاست تو قائم ہوگئی لیکن اسے کسی نے قبول نہیں کیا خطہ میں کشیدگی رہی جس وجہ سے 1949 میں عرب اور اسرائیل کے  درمیان جنگ ہوئی اسرائیل جیت گیا لیکن جنگ کے بعد بھی یروشلم یعنی بیتالمقدس کا کنٹرول اردن کے پاس رہا18 سال بعد 1967 میں ایک اور جنگ ہوئی جس میں اسرائیل نے شام اور اردن کے کچھ علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا اور ساتھ ساتھ یروشلم پر بھی۔تب سے یروشلم  اسرائیل کے قبضے میں ہے اور وہ اس کوشش میں ہے کہ یروشلم کو اپنا دارلحکومت بنا لے اس قبضے کو پوری دنیا میں کسی نے تسلیم نہیں کیا۔اقوامِ متحدہ تب سے قرار دادیں منظور کرتا رہا، اسرائیل ااس کی خلاف ورزی کرتا رہا اور امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا۔یہودی عرصہ دراز سے ذلیل ہورہے تھے لیکن پھر وہ ایک نظریہ کے تحت اکٹھے ہونے لگے جو نظریہ صیہونیت کہلاتا ہے جس کی بنیاد 1897 میں ایک یہودی تھیوڈور ہرزل نے رکھی ۔یہودی دجال کو اپنا مسیحا مانتے ہیں اور دن میں تین بار دعا کرتے ہیں اسے پکارتے ہیں ۔یہودیوں کا یہ ماننا ہے کہ دجال آئے گا  ایک بڑی جنگ کرے گا عیسائی اور مسلمانوں کو ختم کردے گا اس جنگ کو یہودی آرما گیڈن کہتے ہیں۔یہودیوں نے بیت المقدس اور مسجدِ اقصی کو شہید کرنا ہے اور یہاں تک ہیکلِ سلیمانی کی توسیع کرنی ہے۔اس سب کیلئے اسرائیل اپنے آپ کو مضبوط کررہا ہےاور پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ان کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے ۔دنیا کا 96 فیصد میڈیا 6 کمپنیوں کے پاس ہے اور یہ کمپنیاں یہودیوں کی ملکیت ہیں۔امریکہ کے سب سے زیادہ بکنے والے میگزین بھی اسی کی ملکیت ہیں اس کے علاوہ امریکہ میں جتنی بھی فلمیں باکس آفس پر مشہور ہوتی ہیں ان میں سے 70 فیصد یہودیوں کی بنائی ہوتی ہیں۔3 امریکی اخبارات  نیویارک ٹائم، والٹ اسٹریٹ جنرل اور واشنٹن پوسٹ بھی انہیں کی ملکیت ہیں ۔اینٹی بالسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم سے لیس  یہ واحد ملک ہے جس کا مطلب ہےکہ اسرائیل اپنی طرف آنے والا میزائل واپس بھیج سکتا ہے۔اسرائیل کے سبھی  اسٹوڈنٹس چاہے لڑکا ہو  یا لڑکی کو ہائی  کلاس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملٹری جوائن کرنا لازمی ہے۔ اس سروس کی مدت لڑکوں کیلئے 3 سال  اور لڑکیوں کیلئے 2 سال ہوتی ہے۔اس حد تک اسرائیل اپنے آپ کو عالمی جنگ کیلئے تیار کررہا ہے اور مسلم امہ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے  اور سب  حضرت عیسی اور مہدی کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

اس کے علاوہ  ڈونلڈ ٹرمپ کے  یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کےفیصلہ سے بھی یہودیوں کا گرئیٹر اسرائیل کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہےگو کہ تمام ممالک نے امریکہ کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے لیکن اس سے حالات مزید خرابی کی طرف جائیں گے اس میں کوئی شک نہیں۔اب کوئی بھی مسلم ممالک اس قابل نہیں جو امریکہ کو جواب دے سکے یا اس کا بائیکاٹ کرسکے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ توبہ کریں کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں اس سے قیامت کا وقت بہت قریب دکھائی دیتا ہے اور مسلم دنیا کو چاہیے کہ آپس کےاختلافات ختم کرکے متحد ہوجائیں یہی ایک آخری حل ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube