ہوم   >  بلاگز

شادی نہ کرنے کی سزا

2 years ago

افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ایک عورت کو کسی ایسے انسان سے شادی نا کرنے کی پاداش میں نہایت سخت سزا دی جاتی ہے جسے وہ نہ تو جانتی ہے اور محبت کرتی ہے۔یہاں پر عورت کو اس لیے بھی سزا دی جاتی ہے کہ شوہر اسکے خاندان کے فیصلوں سے متفق نہیں۔ ہمارا معاشرہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت محض مرد کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ عورت کا نصیب محض اس کے والدین کے فیصلوں پر منحصر ہے اور وہ نہ تو اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے نہ ہی بنیادی تعلیم حاصل کرسکتی ہے۔ چنانچہ اس کو اپنے شوہر کو سونپ دیا جاتا ہے جہاں اس کاکام محض شوہر کی حکم عدولی کرنا ہوتا ہے۔جو خواتین اس دقیانوسی تصور سے بغاوت کرتی ہیں ان کو غیرت کے نام پر مظالم کا شکار بنایا جاتا ہے۔

عورتوں پر تشدد کیا جاتا ہےاور یہ تشدد محض تھپڑ مارنے تک محدود نہیں بلکہ انہیں گولی مارنا، جنسی اعضاء کو بجلی کا نشانہ بنانا، جنسی زیادتی اور تیزاب پھینکنا تک شامل ہے۔ایک نوجوان پاکستانی خاتون کو رشتے سےانکار پر تیزاب کا نشانہ بنایا گیا۔ شمالی کراچی کی 21 سالہ صائمہ محمود کو ایک رشتہ ٹھکرانے پر تیزاب کا نشانہ بنا دیا گیا-تاہم نشانہ بننے والی خاتون کی حال ہی میں انتقاماً کسی اور سے منسلک کردیا گیا۔ شادی کا رشتہ قبول نہ ہونے پر عصمت اللہ نے خاتون پر تیزاب پھینک دیا جس کے نتیجے میں اس کی آنکھیں ضائع ہو گئیں۔

لاہور میں ایک عورت کو شادی سےانکار پر اس کے منگیتر نے تیزاب پھینک کر جلا ڈالا۔ خاتون ایک میڈیکل سٹورپرسیلز مینیجر تھی جو ڈیوٹی کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد اپنی بس کا انتظار کررہی تھی۔اسی اثنا میں ایک موٹر سائیکل پرسوار اس کے منگیتر نے اس پر تیزاب پھینکا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ تاہم خاتون کا 90 فیصد چہرہ اور 20 فیصد جسم جل چکا تھا۔

ماریہ صداقت ایک نوجوان اسکول ٹیچر کو مردوں کے ایک گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا جس نے اسلام آباد کے ایک اسپتال میں دم توڑ دیا۔ خاندانی آرائع کے مطابق ماریہ نے اسکول مالک کے بیٹے کا رشتہ قبول نہیں کیا جس کی پاداش میں اس کو قتل کردیا گیا۔

مظالم کا نشانہ بننے والی خواتین اپنے خاندان کی ناموس اور اپنی سماجی زندگی کی وجہ سے چپ سادھ لیتی ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والی جرم کی رپورٹ نہیں کرتیں۔لیکن شدید دباؤ کا شکار ہونے کے باوجود کوئی عورت اگر اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کی رپورٹ درج کرواتی ہے تو قانون کا نافذ نہ ہونا اور مجرموں کے اثرورسوخ ان کی ہر کوشش کو ناکام بنادیتے ہیں۔ ریاست کا قانون کو نافذ نہ کرنا بہت سی خواتین کے لیے حوصلہ شکن ہے۔ نتیجے میں خواتین پر ہونے والے جرائم میں کمی کی بجائے بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں 70 فیصد خواتین اپنی ازدواجی زندگی میں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اور 93 فیصد خواتین عوامی مقامات پر جنسی ہراساں کی گئیں۔ یہ اعدادوشمار مددگار قومی ہیلپ لائن 1098 کے بانی اور قومی کمشنر برائے اطفال ضیاءاحد اعوان کی جانب سے بیرونی تنظیموں کے اعدادوشمار بتاتےہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران بیان کیے گئے۔

یہ ہر شہری کا اخلاقی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور جنسی استحصال کی تنظیموں کا فرض ہے کہ میڈیا کے توسط سے ان مسائل کو اجاگر کیا جائے اور ریاست کا فرض ہے کہ موجودہ قوانین کو بیرونی قوانین کے معیار پر ردوبدل کر کے نافذ کیا جائے تاکہ خواتین کی جانیں اور عزتیں بچائی جاسکیں۔ ہمارے لیے ہر دن خواتین کا دن ہونا چاہیے۔

Written by

Rohayl Varind روحیل ورنڈ

https://www.samaa.tv/urdu/author/rohaylvarind/

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
2 hours ago
4 hours ago
5 hours ago
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں