دماغی فالج کے شکار سست متعلمین معصوم بچوں کی داستان

December 8, 2017

تحریر : فرحین آمنہ

خصوصی افراد یا بچے جہاں بھی ہوں انہیں مشکلات کا سامنا تو لازمی کرنا پڑتا ہے لیکن افسوس ایسے افراد کے لیے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں سہولیتں نہ ہونے کے برابر ہیں یہ داستانیں بھی ایسے خصوصی بچوں کی ہے جن کی حالتوں میں سہولتوں کے فقدان کے باعث بہتری نہ آسکی اگر اس شہر میں بھی ایسے بچوں کے لیے باقاعدہ سہولتیں موجود ہوتیں تو آج جہانزیب اور عامر قدرے بہتر حالت میں ہوتے۔کراچی کے بعد سندھ کے دوسرے بڑے اور اہم شہر کہلانے والے شہر کے خصوصی باسی اب تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

یہ کہانی حیدرآباد لطیف آباد کے رہائشی ڈاکٹر فاروق کے بیٹے جہانزیب جس کا شمار خصوصی بچوں کے اس گروہ میں ہوتا ہےجو پیدائشی طور پر یا پیدائش کے دوران آکسیجن میں کمی کے باعث دماغی فالج کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس طرح کے افراد درست حرکات و سکنات کرنے اور بولنے کی صیلاحیت سے محروم ہوتے ہیں لیکن مکمل طور سے نہیں کیونکہ اس مرض کے مختلف لیولز ہوتے ہیں جن میں سے ایسے افراد جن کے مرض کی نوعیت کم ہوتی ہے اس میں تربیت کے بعد بہتری لائی جاسکتی ہے بشرط یہ کہ تمام سہولتں موجود ہوں۔لیکن بد قسمتی سے حیدرآباد میں ایسے افراد کے لیے سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔جہانزیب یہاں کا ایک بچہ نہیں یہاں ایسے کئی کیس موجود ہیں۔لیکن یہاں کی اکثریت اس دماغی معزوری سے بھی واقف نہیں اور جو واقف ہیں اور اپنی سر توڑ کوشش کے باوجود اپنے بچوں کے لیے کچھ نہیں کرپاتے۔جہانزیب کی یہ حالت دوران پیدائش آکسیجن کی کمی کے باعث ہوئی جس سے اس کی دماغی نشو ونما رک گئی۔

آج جہانزیب 25 برس کا ہوچکا ہے جبکہ اس کے مرض کا لیول درمیانے درجے کا ہے جس میں تربیت کے بعد ایک حد تک بہتی کی گنجائش موجود تھی لیکن اگر چھوٹی عمر سے ہی اس پر کام کیا جاتا۔ بحرحال جہانزیب کے والد چونکہ خود بھی ڈاکٹر ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بچے کے لیے ہرممکن کوشش کی یہاں تک کے کراچی اور لاہور تک گئے لیکن رہائش حیدرآباد تھی۔ اس لیے اپنے شہر میں ہی علاج کرانا ممکن تھا جو یہاں کوئی سہولت نہ ہونے کے باعث ممکن نہ ہوسکا ۔اور آ ج جہانزیب خود سے نہیں چل سکتا اگرا س کی تھوڑی بہت تربیت بھی ہوئی ہوتی تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی ۔ایک جانب اس کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں ایسےبچوں کی تربیت اور علاج کے بارے میں آگاہی کی کمی اور انہیں قبول نہ کرنے کا رویہ ہے تو دوسری طرف حکومتی بے حسی ۔اتنے بڑے شہر میں یسے افراد کے لیے کوئی باقاعدہ ریحبیلیٹیشن سینٹر یا بحالی کا ادارہ موجود نہیں جہاں کم فیس یا مفت علاج کی سہولت موجود ہو۔ ایسی ہی کچھ حالت 8 سالہ عامر کی بھی لیکن اس کے مرض کی نوعیت شدید ہے۔

یہ تو ایک کہانی تھی حیدرآباد ہو یا کراچی آگاہی کی کمی کے باعث ناصرف ایسے افراد بلکہ اس شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی خالی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اب کراچی میں اس حوالے سے کافی حد تک آگاہی آچکی ہے لیکن مزید آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر ایسے اداروں کے قیام کی بھی ضرورت ہے جہاں بیقوقت فیزیو تھراپسٹ ، اسپیچ تھراپسٹ،او-ٹی، سائیکلوجسٹ اور اسپیشل ایجوکیٹر موجود ہوں۔ اوراس کے ساتھ ساتھ اگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ مزید جہانزیب جنم نہ لیں۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.